صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ هَلْ يَسْتَأْذِنُ الرَّجُلُ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ فِي الشُّرْبِ لِيُعْطِيَ الأَكْبَرَ:
باب: اگر آدمی داہنی طرف والے سے اجازت لے کر پہلے بائیں طرف والے کو دے جو عمر میں بڑا ہو۔
حدیث نمبر: 5620
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ، فَقَالَ الْغُلَامُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ: فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوحازم بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شربت لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف بوڑھے لوگ (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے بیٹھے ہوئے) تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے کہا کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں ان (شیوخ) کو (پہلے) دے دوں۔ لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! آپ کے جھوٹے میں سے ملنے والے اپنے حصہ کے معاملہ میں، میں کسی پر ایثار نہیں کروں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5620]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مشروب لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ نوش فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب ایک نو عمر لڑکا تھا جبکہ بائیں جانب بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا: ”کیا تو مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں بچا ہوا شربت ان شیوخ کو دے دوں؟“ بچے نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! آپ کے پس ماندہ سے ملنے والے حصے کے معاملے میں کسی پر ایثار نہیں کروں گا۔“ راوی نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے اس کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5620]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة