صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ الْخَمِيصَةِ السَّوْدَاءِ:
باب: کالی کملی کا بیان۔
حدیث نمبر: 5823
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ فُلَانٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ: مَنْ تَرَوْنَ أَنْ نَكْسُوَ هَذِهِ، فَسَكَتَ الْقَوْمُ، قَالَ: ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ، فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ، فَأَلْبَسَهَا، وَقَالَ: أَبْلِي، وَأَخْلِقِي، وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَاهْ وَسَنَاهْ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنٌ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے سعید بن فلاں یعنی عمرو بن سعید بن عاص نے اور ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے جس میں ایک چھوٹی کالی کملی بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے یہ چادر کسے دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس بلا لاؤ۔ انہیں گود میں اٹھا کر لایا گیا (کیونکہ بچی تھیں) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر اپنے ہاتھ میں لی اور انہیں پہنایا اور دعا دی کہ جیتی رہو۔ اس چادر میں ہرے اور زرد نقش و نگار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد! یہ نقش و نگار ”سناہ“ ہیں۔ ”سناہ“ حبشی زبان میں خوب اچھے کے معنی میں آتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5823]
حضرت ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے، ان میں ایک چھوٹی سی دھاری دار اونی چادر بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم یہ چادر کس کو پہنائیں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام خالد رضی اللہ عنہا کو میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ انہیں اٹھا کر لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر اپنے ہاتھ میں لی اور انہیں پہنا کر یہ دعا دی: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي» ”اللہ کرے تم اسے خوب پہنو اور پرانا کرو۔“ اس چادر میں سبز یا زرد نقش ونگار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام خالد! یہ نقش ونگار «سَنَهْ» ہیں۔“ حبشی زبان میں لفظ «سَنَهْ» خوبصورت کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5823]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5824
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ لِي: يَا أَنَسُ انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ، فَغَدَوْتُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ حُرَيْثِيَّةٌ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس اس بچہ کو دیکھتے رہو کوئی چیز اس کے پیٹ میں نہ جائے اور جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لاؤ تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوٹھا اس کے منہ میں ڈالیں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپ کے جسم پر قبیلہ بنی حریث کی بنی ہوئی چادر ( «خميصة حريثية») تھی اور آپ اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر آپ فتح مکہ کے موقع پر سوار تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5824]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”جب ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ جنم دیا تو انہوں نے مجھے کہا: ”اے انس! اس بچے کا خیال رکھو، یہ کوئی چیز نہ کھانے پائے حتیٰ کہ صبح کے وقت تم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ، تاکہ آپ اسے گھٹی دیں۔“ چنانچہ میں اسے لے کر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپ ایک سیاہ اونی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ ان اونٹوں کو داغ لگا رہے تھے جو فتح مکہ میں آپ کے پاس آئے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5824]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة