🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنِ اغْتِيَابِ أَهْلِ الْفَسَادِ وَالرِّيَبِ:
باب: مفسد اور شریر لوگوں کی یا جن پر گمان غالب برائی کا ہو، ان کی غیبت درست ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6054
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ائْذَنُوا لَهُ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ أَوِ ابْنُ الْعَشِيرَةِ"، فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَهُ الْكَلَامَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ الَّذِي قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْكَلَامَ، قَالَ:" أَيْ عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہوں نے محمد بن منکدر سے سنا، انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا اور انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اجازت دے دو، فلاں قبیلہ کا یہ برا آدمی ہے جب وہ شخص اندر آیا تو آپ نے اس کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو اس کے متعلق جو کچھ کہنا تھا وہ ارشاد فرمایا اور پھر اس کے ساتھ نرم گفتگو کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ! وہ بدترین آدمی ہے جسے اس کی بدکلامی کے ڈر سے لوگ (اسے) چھوڑ دیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6054]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اندر آنے کی اجازت دے دو، یہ قبیلے کا برا بھائی یا برا بیٹا ہے جب وہ اندر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ بڑے اخلاق اور نرمی سے گفتگو فرمائی۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے متعلق پہلے یہ فرمایا تھا پھر اس کے ساتھ بہت نرم گفتگو فرمائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! بے شک بد ترین آدمی وہ ہے جسے لوگ اس کی بد کلامی سے بچنے کے لیے چھوڑ دیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6054]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں