🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. بَابُ النَّمِيمَةُ مِنَ الْكَبَائِرِ:
باب: چغل خوری کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6055
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ:" يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ وَإِنَّهُ لَكَبِيرٌ، كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا بِكِسْرَتَيْنِ أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَجَعَلَ كِسْرَةً فِي قَبْرِ هَذَا وَكِسْرَةً فِي قَبْرِ هَذَا، فَقَالَ:" لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیدہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں منصور بن معمر نے، انہیں مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی باغ سے تشریف لائے تو آپ نے دو (مردہ) انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے انہیں عذاب نہیں ہو رہا ہے۔ ان میں سے ایک شخص پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک ہری شاخ منگوائی اور اسے دو حصوں میں توڑا اور ایک ٹکڑا ایک کی قبر پر اور دوسرا دوسرے کی قبر پر گاڑ دیا۔ پھر فرمایا شاید کہ ان کے عذاب میں اس وقت تک کے لیے کمی کر دی جائے، جب تک یہ سوکھ نہ جائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6055]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے کسی باغ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو عذاب دیا جا رہا ہے لیکن کسی بڑی بات (جس سے بچنا مشکل ہو) کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا، حالانکہ یہ کبیرہ گناہ ہیں، ان میں سے ایک پیشاب کرتے وقت پردہ نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا پھرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ شاخ منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کیے، ایک ٹکڑا ایک قبر پر اور دوسرا دوسری قبر پر گاڑ دیا، پھر فرمایا: ممکن ہے ان کے عذاب میں اس وقت تک تخفیف کر دی جائے جب تک یہ خشک نہ ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6055]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں