صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّمِيمَةِ:
باب: چغل خوری کی ناپسندیدگی کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6056
وَقَوْلِهِ: {هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ}، {وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ}. يَهْمِزُ وَيَلْمِزُ يَعِيبُ.
اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نون میں) فرمایا «هماز مشاء بنميم» ”عیب جو، چغل خور“ اور سورۃ ہمزہ میں فرمایا ”ہر عیب جو آواز سے کسنے والے کی خرابی ہے“ «يهمز ويلمز» اور «يعيب.» سب کے معنی ایک ہیں یعنی عیب بیان کرتا ہے، طعنے مارتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: Q6056]
حدیث نمبر: 6056
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ".
ہم سے ابونعیم (فضل بن دکین) نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے ہمام بن حارث نے بیان کیا کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، ان سے کہا گیا کہ ایک شخص ایسا ہے جو یہاں کی باتیں عثمان سے جا لگاتا ہے۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ جنت میں چغل خور نہیں جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6056]
حضرت ہمام رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے کہ انہیں ایک شخص کے متعلق کہا گیا وہ یہاں کی باتیں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو پہنچاتا ہے، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6056]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة