مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضِيلَةُ حَضْرَةِ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَوَالِدِهِ حَضْرَةِ زَيْدٍ)
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد حضرت زید کی فضیلت
حدیث نمبر: 6150
6150 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَأَيْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ وَفِي آخِرِهِ:"أُوصِيكُمْ بِهِ، فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تو اس پر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا، کچھ لوگوں نے ان کی امارت کے بارے میں اعتراض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد کی امارت کے بارے میں بھی اعتراض کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! بلاشبہ وہ امارت کے زیادہ لائق تھا اور وہ تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب تھا اور اس کے بعد یہ بھی مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔“ اور صحیح مسلم کی روایت میں بھی اسی طرح ہے، اور اس کے آخر میں ہے: ”میں اس کے متعلق تمہیں وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارے صالحین میں سے ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6150]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3730) و مسلم (63/ 2426 و الرواية الثانية: 64/ 2426)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه