🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. وَمِنْ أَخْبَارِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 557
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ :" كَيْفَ بَايَعْتُمْ عُثْمَانَ وَتَرَكْتُمْ عَلِيًّا؟ قَالَ: مَا ذَنْبِي؟ قَدْ بَدَأْتُ بِعَلِيٍّ، فَقُلْتُ: أُبَايِعُكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ، وَسِيرَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، قَالَ: فَقَالَ: فِيمَا اسْتَطَعْتُ، قَالَ: ثُمَّ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ، فَقَبِلَهَا".
ابووائل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کس طرح کر لی؟ انہوں نے فرمایا: اس میں میرا کیا جرم ہے، میں نے تو پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ میں آپ سے بیعت کرتا ہوں کتاب اللہ، سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرۃ حضرات شیخین رضی اللہ عنہ پر، انہوں نے مجھ سے کہا کہ حسب استطاعت ایسا کرنے کی کوشش کروں گا لیکن جب میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کی پیشکش کی تو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 557]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سفيان بن وكيع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ، لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ".
ابوصالح جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگو! میں نے اب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی تاکہ تم لوگ مجھ سے جدا نہ ہو جاؤ لیکن اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم سے بیان کر دوں تاکہ ہر آدمی جو مناسب سمجھے اسے اختیار کر لے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 558]

حکم دارالسلام: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 559
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 559]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عكرمة بن إبراهيم ، وعبدالرحمن بن ابي ذباب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 560
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: كُنْتُ أَبْتَاعُ التَّمْرَ مِنْ بَطْنٍ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو قَيْنُقَاعٍ، فَأَبِيعُهُ بِرِبْحِ الْآصُعِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ، إِذَا اشْتَرَيْتَ فَاكْتَلْ، وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے میں یہودیوں کے ایک خاندان اور قبیلہ سے جنہیں بنو قینقاع کہا جاتا تھا، کھجوریں خریدتا تھا اور اپنا منافع رکھ کر آگے بیچ دیتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا: عثمان! جب خریدا کرو تو اسے تول لیا کرو اور جب بیچا کرو تو تول کر بیچا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 560]

حکم دارالسلام: حديث حسن، فإنه من قديم حديث ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ ، قَالَ لَهُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِالْحَقِّ، فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَآمَنَ بِمَا بَعَثَ بِهِ مُحَمَّدًا عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ، وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ، وَلَا غَشَشْتُهُ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
عبیداللہ بن عدی بن الخیار کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا:: اللہ و رسول کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں، میں بھی تھا، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ایمان لانے والوں میں، میں بھی تھا، پھر میں نے حبشہ کی طرف دونوں مرتبہ ہجرت کی، مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت بھی کی ہے، اللہ کی قسم! میں نے نہ کبھی ان کی نافرمانی کی اور نہ ہی دھوکہ دیا، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 561]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3696
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں