🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ" يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی زوجہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 572]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى قَوْمٍ قَدْ بَنَوْا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَدَافَعُونَ، إِذْ سَقَطَ رَجُلٌ، فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ، ثُمَّ تَعَلَّقَ رَجُلٌ بِآخَرَ، حَتَّى صَارُوا فِيهَا أَرْبَعَةً، فَجَرَحَهُمْ الْأَسَدُ، فَانْتَدَبَ لَهُ رَجُلٌ بِحَرْبَةٍ فَقَتَلَهُ، وَمَاتُوا مِنْ جِرَاحَتِهِمْ كُلُّهُمْ، فَقَامُوا أَوْلِيَاءُ الْأَوَّلِ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْآخِرِ، فَأَخْرَجُوا السِّلَاحَ لِيَقْتَتِلُوا، فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ، فَقَالَ: تُرِيدُونَ أَنْ تَقَاتَلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ؟ إِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ قَضَاءً، إِنْ رَضِيتُمْ فَهُوَ الْقَضَاءُ، وَإِلَّا حَجَزَ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ، حَتَّى تَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَكُونَ هُوَ الَّذِي يَقْضِي بَيْنَكُمْ، فَمَنْ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَا حَقَّ لَهُ، اجْمَعُوا مِنْ قَبَائِلِ الَّذِينَ حَفَرُوا الْبِئْرَ رُبُعَ الدِّيَةِ، وَثُلُثَ الدِّيَةِ، وَنِصْفَ الدِّيَةِ، وَالدِّيَةَ كَامِلَةً، فَلِلْأَوَّلِ الرُّبُعُ، لِأَنَّهُ هَلَكَ مَنْ فَوْقَهُ، وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ، فَأَبَوْا أَنْ يَرْضَوْا، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ:" أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ"، وَاحْتَبَى، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ عَلِيًّا قَضَى فِينَا، فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، میں ایک ایسی قوم کے پاس پہنچا جنہوں نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا (شیر آیا اور اس میں گر پڑا) ابھی وہ یہ کام کر رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی اس گڑھے میں گر پڑا، اس کے پیچھے دوسرا، تیسرا حتی کہ چار آدمی گر پڑے، اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا، شیر ہلاک ہو گیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے، اتنی دیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کہنے لگے کہ ابھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں تم ان کی حیات میں باہمی قتل و قتال کرو گے؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اس پر راضی ہو گئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہو گیا اور اگر تم سمجھتے ہو کہ اس سے تمہاری تشفی نہیں ہوئی تو تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اس کا فیصلہ کروا لینا، وہ تمہارے درمیان اس کا فیصلہ کر دیں گے، اس کے بعد جو حد سے تجاوز کرے گا وہ حق پر نہیں ہو گا۔ فیصلہ یہ ہے کہ ان قبیلوں کے لوگوں نے اس گڑھے کی کھدائی میں حصہ لیا ہے ان سے چوتھائی دیت، تہائی دیت، نصف دیت اور کامل دیت لے کر جمع کرو اور جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو، دوسرے کو تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو، ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا) چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا قصہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گوٹ مار کر بیٹھ گئے، اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا، یا رسول اللہ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو نافذ کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 573]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حنش، وهو ابن المعتمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا سِمَاكٌ ، عَنْ حَنَشٍ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ كَامِلَةً.
اس دوسری روایت کے مطابق چوتھے آدمی کے لئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوری دیت کا فیصلہ کیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 574]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ : كَتَبْتُ إِلَيْكَ بِخَطِّي، وَخَتَمْتُ الْكِتَابَ بِخَاتَمِي، يَذْكُرُ أَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ:" أَلَا تُصَلُّون؟"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، وَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ:" وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ہمارے یہاں تشریف لائے اور کہنے لگے کہ تم لوگ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 575]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7347، م: 775
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنِي أَخِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" مَنْ أَحَبَّنِي، وَأَحَبَّ هَذَيْنِ، وَأَبَاهُمَا، وَأُمَّهُمَا، كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جو شخص مجھ سے محبت کرے، ان دونوں سے محبت کرے اور ان کے ماں باپ سے محبت کرے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجے میں ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 576]

حکم دارالسلام: ضعيف لضعف على بن جعفر بن محمد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ السَّبَئِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں اس کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 577]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هاشم، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ حَسَنٌ: يَوْمَ الْأَضْحَى، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً، فَقُلْتُ: أَصْلَحَكَ اللَّهُ، لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا الْبَطِّ، يَعْنِي: الْوَزَّ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ زُرَيْرٍ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ إِلَّا قَصْعَتَانِ: قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ، وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيْ النَّاسِ".
عبداللہ بن زریر کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہمارے سامنے خزیرہ (سالن مع گوشت و روٹی) پیش کیا، میں نے بےتکلفی سے عرض کیا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے، اگر آپ یہ بطخ ہمارے سامنے پیش کرتے تو کیا ہو جاتا، اب تو اللہ نے مال غنیمت کی بھی فراوانی فرما رکھی ہے؟ فرمایا: ابن زریر! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خلیفہ کے لئے اللہ کے مال میں سے صرف دو پیالے ہی حلال ہیں ایک وہ پیالہ جس میں سے وہ خود اور اس کے اہل خانہ کھا سکیں اور دوسرا پیالہ وہ جسے وہ لوگوں کے سامنے پیش کر دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 578]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف أبن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا رَمِدْتُ مُنْذُ تَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنِي".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن میری آنکھوں میں لگایا ہے، مجھے کبھی آشوب چشم کی بیماری نہیں ہوئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 579]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَفِي وَسَطِهِ، وَفِي آخِرِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ لَهُ الْوَتْرُ فِي آخِرِهِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھایا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 580]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ، وَإِذَا كَلَّمْتُمُوهُمْ، فَلْيَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ قِيدُ رُمْحٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جن لوگوں کو کوڑھ کی بیماری ہو، انہیں مت دیکھتے رہا کرو اور جب ان سے بات کیا کرو تو اپنے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 581]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعلل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں