مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 11103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ يَدْعُو هَكَذَا، وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کے سامنے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب کر رکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11103]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي .
حدیث نمبر: 11104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُلَائِيَّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے، ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11104]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بشواهده، دون قوله: فإنهما لن يفترقا حتى يردا على الحوض ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي .
حدیث نمبر: 11105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" وَيْحَكَ، إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11105]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1452، م: 1865 .
حدیث نمبر: 11106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمن يَعْنِي ابْنَ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهِ حَجَبُوهُ مِنَ النَّارِ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے تین بچے آگے بھیج دے، وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11106]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 101، م: 2633، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم .
حدیث نمبر: 11107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ: مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ، وَلَا كَاهِنٌ، وَلَا مَنَّانٌ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان پانچ سے کوئی آدمی بھی جنت میں داخل نہ ہوگا، عادی شراب خور، جادو پر یقین رکھنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کاہن اور احسان جتانے والا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11107]
الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي .
حدیث نمبر: 11108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" وَيْحَكَ، إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَلَسْتَ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" أَلَسْتَ تَمْنَحُ مِنْهَا؟"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" أَلَسْتَ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ مَا شِئْتَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11108]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1452، م:1865
حدیث نمبر: 11109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَحَدَّثَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ لَكَ لَشَأْنًا، فَارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَأَلْقَى خَاتَمَهُ وَجُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ أُذِنَ لَهُ، وَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْرَضْتَ عَنِّي قَبْلُ حِينَ جِئْتُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ جِئْتَنِي وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ، وَكَانَ قَدْ قَدِمَ بِحُلِيٍّ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ غَيْرُ مُغْنٍ عَنَّا شَيْئًا إِلَّا مَا أَغْنَتْ حِجَارَةُ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا"، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْذُرْنِي فِي أَصْحَابِكَ لَا يَظُنُّونَ أَنَّكَ سَخِطْتَ عَلَيَّ بِشَيْءٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَذَرَهُ وَأَخْبَرَ أَنَّ الَّذِي كَانَ مِنْهُ إِنَّمَا كَانَ لِخَاتَمِهِ الذَّهَبِ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نجران سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا اور اس سے کچھ بھی نہ پوچھا، وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس واپس چلا گیا اور اسے سارا واقعہ بتایا، اس نے کہا کہ ضرور تمہارا کوئی معاملہ ہے، تم دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جاتے ہوئے اپنی انگوٹھی اور اپنا جبہ " جو اس نے زیب تن کیا ہوا تھا " اتاردیا، اس مرتبہ جب اس نے اجازت چاہی تو اسے اجازت مل گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب بھی دیا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب پہلے آپ کے پاس آیا تھا تو آپ نے مجھ سے اعراض فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کی ایک چنگاری تھی، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر تو میں بہت سی چنگاریاں لے کر آیا ہوں، دراصل وہ بحرین سے بہت سا زیور لے کر آیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم وہ چیز لے کر آئے جس کا ہمیں صرف اتنا ہی فائدہ ہوسکتا ہے جتنا پتھریلے علاقے کے پتھروں سے، البتہ یہ دنیوی زندگی کا سازو سامان ہے۔ پھر اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! اپنے صحابہ کے سامنے میری طرف سے عذر داری کردیجئے تاکہ وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ آپ کسی وجہ سے مجھ سے ناراض ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس کی طرف سے عذر داری کرلی اور لوگوں کو دیا کہ اس کے ساتھ اعراض ان کی سونے کی انگوٹھی کی وجہ سے تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11109]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى النجيب .
حدیث نمبر: 11110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ، ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ:" أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ، كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور پیچھے رہنے والے کے متعلق فرمایا کہ تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے پیچھے اس کے اہل خانہ اور مال و دولت کا اچھے طریقے سے خیال رکھتا ہے، اسے جہاد پر نکلنے والے کا نصف ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11110]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1896 .
حدیث نمبر: 11111
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ 12 أَبِي 12: لَيْسَ مَرْفُوعًا، قَالَ:" لَا يَصْلُحُ السَّلَفُ فِي الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ وَالسُّلْتِ حَتَّى يُفْرَكَ، وَلَا فِي الْعِنَبِ وَالزَّيْتُونِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ حَتَّى يُمَجِّجَ، وَلَا ذَهَبًا عَيْنًا بِوَرِقٍ دَيْنًا، وَلَا وَرِقًا دَيْنًا بِذَهَبٍ عَيْنًا".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گندم، جو اور بغیر چھلکے کے جو میں بیع سلم اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ چھل نہ جائیں، انگور اور زیتون وغیرہ میں اس وقت تک نہ کی جائے جب تک ان میں مٹھاس نہ آجائے، اسی طرح نقد سونے کی ادھار چاندی کے عوض یا ادھار چاندی کی نقد سونے کے عوض بیع نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11111]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن الهيعة .
حدیث نمبر: 11112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول:" إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ حِينَئِذٍ، فَلْيُصَلِّ فِي بَيْتِهِ رَكْعَتَيْنِ، وَلْيَجْعَلْ فِي بَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ چکے اور اپنے گھر لوٹ آئے تو وہاں بھی دو رکعتیں پڑھ لے اور اپنے گھر کے لئے بھی نماز کا حصہ رکھا کرے، کیوں کہ نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ گھر میں خیر نازل فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11112]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ولعنعنة أبى الزبير .