مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 11133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا"، قَالُوا: إِذًا نُكْثِرُ؟، قَالَ: اللَّهُ أَكْثَرُ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کوئی ایسی دعاء کرے جس میں گناہ یا قطع رحمی کا کوئی پہلو نہ ہو، اللہ اسے تین میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطاء فرماتے ہیں، یا تو فوراً ہی اس کی دعاء قبول کرلی جاتی ہے، یا آخرت کے لئے ذخیرہ کرلی جاتی ہے، یا اس سے اس جیسی کوئی تکلیف دور کردی جاتی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس طرح تو پھر ہم بہت کثرت کریں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس سے بھی زیادہ کثرت والا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11133]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد كسابقه .
حدیث نمبر: 11134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَقَالَ" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ"، قَالَ:" فَاخْتَارَ ذَلِكَ الْعَبْدُ مَا عِنْدَ اللَّهِ"، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَعَجِبْنَا لِبُكَائِهِ أَنْ خَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خُيِّرَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَيَّرَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَوْ مَوَدَّتُهُ، لَا يَبْقَى بَابٌ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور اپنے پاس آنے کے درمیان اختیار دیا، اس بندے نے اللہ کے پاس جانے کو ترجیح دی، یہ سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رونے لگے، ہمیں ان کے رونے پر بڑا تعجب ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو محض ایک آدمی کے متعلق خبر دی ہے، اس میں رونے کی کیا بات ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ " بندے " سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور واضح ہوا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی رفاقت اور مالی تعاون کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ احسانات مجھ پر ابوبکر کے ہیں، اگر میں اپنے رب کے علاوہ انسانوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا، البتہ ان کے ساتھ اسلامی اخوت ومودت ہی بہت ہے اور ابوبکر کے دروازے کے علاوہ مسجد کھلنے والے دوسرے تمام دروازے بند کردیئے جائیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11134]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3654، م: 2382
حدیث نمبر: 11135
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه، وأنظر ما قبله .
حدیث نمبر: 11136
حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده حسن كسابقه، خ: 3904 م: 2382، وانظر ما قبله .
حدیث نمبر: 11137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أُخْبِرَ أَبُو سَعِيدٍ بِجِنَازَةٍ، فَعَادَ تَخَلَّفَ، حَتَّى إِذَا أَخَذَ النَّاسُ مَجَالِسَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَلَمَّا رَآهُ الْقَوْمُ تَشَذَّبُوا عَنْهُ فَقَامَ بَعْضُهُمْ لِيَجْلِسَ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ خَيْرَ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا، ثُمَّ تَنَحَّى وَجَلَسَ فِي مَجْلِسٍ وَاسِعٍ".
حضرت عبدالرحمن بن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو کسی جنازے کی اطلاع دی گئی، جب وہ آئے تو لوگ اپنی اپنی جگہوں پر جم چکے تھے، انہیں دیکھ کر لوگوں نے اپنی جگہ سے ہٹنا شروع کردیا اور کچھ لوگ اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تاکہ وہ ان کی جگہ پر بیٹھ جائیں، لیکن انہوں نے فرمایا نہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہترین مجلس وہ ہوتی ہے جو زیادہ کشادہ ہو، پھر دوسرے کونے میں کشادہ جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11137]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُونَ: إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ قَوْمَهُ، بَلَى وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِذَا جِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَقَالَ أَخُرُ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ"، قَالَ لَهُمْ:" أَمَّا النَّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ، وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي، وَارْتَدَدْتُمْ الْقَهْقَرَى".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچاسکے گی، اللہ کی قسم! میری قرابت داری دنیا و آخرت دونوں میں جڑی رہے گی اور لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، جب تم وہاں پہنچوں گے تو ایک آدمی کہے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں بن فلاں ہوں اور دوسرا کہے گا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، میں انہیں جواب دوں گا کہ تہمارا نسب تو مجھے معلوم ہوگیا لیکن میرے بعد تم نے دین میں بدعات ایجاد کرلی تھیں اور تم الٹے پاؤں واپس ہوگئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11138]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة ابن أبى سعيد الخدري، ولاضطراب فى الإسناد .
حدیث نمبر: 11139
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11139]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر ما قبله .
حدیث نمبر: 11140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ، أَوْ غَابَ، فَصَلَّى بِنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَحِينَ رَكَعَ، وَحِينَ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَحِينَ سَجَدَ، وَحِينَ قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا صَلَّى قِيلَ لَهُ قَدْ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللَّهِ مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ، هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي".
سعید بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے تھے تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، انہوں نے نماز شروع کرتے وقت رکوع میں جاتے وقت بلند آواز سے تکبیر کہی سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی، سجدہ سے سر اٹھا کر سجدہ میں جاتے وقت اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑے ہوتے وقت بھی بلند آواز سے تکبیر کہی اور اس طرح اپنی نماز مکمل کرلی، نماز کے بعد کسی شخص نے ان سے کہا کہ لوگوں میں آپ کی نماز پر اختلاف ہوگیا ہے، اس پر وہ منبر کے قریب کھڑے ہوئے اور فرمایا واللہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تمہاری نمازیں اس سے مختلف ہوتی ہیں یا نہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11140]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 11141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد الخُدْري ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا يُصِيبُ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ، وَلَا غَمٍّ وَلَا أَذًى، حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11141]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2573
حدیث نمبر: 11142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" ائْتَمُّوا بِي يَأْتَمُّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میری اقتداء کیا کرو بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، کیونکہ لوگ پیچھے ہوتے رہیں کے یہاں تک کہ اللہ انہیں پیچھے کردے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11142]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 438