🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ بَيَاضَ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دورانِ سجدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11113]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاه مُوسَى هُوَ ابْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دورانِ سجدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11114]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَاتَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ يَقْرَأُ اللَّيْلَ كُلَّهُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ أَوْ ثُلُثَهُ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورت اخلاص ہی پر ساری رات گذار دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، سورت اخلاص نصف یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11115]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، والمحفوظ الثابت الصحيح فى هذا الحديث وغيره: انها تعدل ثلث القرآن دون شك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ فَلْيَجْعَلْ طَرَفَهُ عَلَى عَاتِقَيْهِ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے دونوں پلو اپنے کندھوں پر ڈال لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11116]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهعية .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" زَجَرَهُ عَنْ ذَلِكَ، وَزَجَرَهُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِبَوْلٍ"، وَهَذَا يَتْلُو حَدِيثَ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ؟، فَقَالَ: كُنَّا نَكْرَهُ ذَاكَ، ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نیز قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی جانب رخ کرکے بیٹھنے سے بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔ ابوالزبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے پھر انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11117]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر:1188
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ الْحَبَطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو رُؤْبَةَ شَدَّادُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادِي كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ يُصَلِّي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ"، قَالَ: فَذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ كَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ"، فَذَهَبَ عُمَرُ، فَرَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ الَّتِي رَآهُ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: فَكَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ، قَالَ: فَرَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ، قَالَ:" يَا عَلِيُّ، اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ"، قَالَ: فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَرَهُ فَرَجَعَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَمْ يُرَهْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ فِي فُوقِهِ، فَاقْتُلُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرا فلاں جگہ سے گذر ہوا وہاں ایک آدمی بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ عمدہ کیفیت میں نماز پڑھ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے قتل کردو، حضرت صدیق اکبر چلے گئے لیکن جب اسے سابقہ حالت پر دیکھا تو اسے قتل کرنا ان پر بوجھ بن گیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم جا کر اسے قتل کردو، وہ گئے تو انہوں نے بھی اسے اسی حالت پر دیکھا جس میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا، چنانچہ ان پر بھی اسے قتل کرنا بوجھ بن گیا اور وہ بھی واپس آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے اسے اتنے خشوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ اسے قتل کرنا مجھے اچھا نہ لگا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ تم جا کر اسے قتل کردو، وہ گئے تو انہیں وہ آدمی کہیں نظر نہ آیا، انہوں نے واپس آکر عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے وہ آدمی نہیں ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اور اس کے ساتھی قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور پھر اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ تیر اپنے ترکش میں واپس آجائے، تم اس بدترین مخلوق کو قتل کردینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11118]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى رؤبة شداد بن عمران القيسي، وفي متنه نكارة .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي نَوْفٍ ، عَنِ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَوَضَّأُ مِنْهَا وَهِيَ يُلْقَى فِيهَا مَا يُلْقَى مِنَ النَّتْنِ! فَقَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو فرما رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس میں تو اتنی گندگی ڈالی جاتی ہے، پھر بھی آپ اس سے وضو فرما رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11119]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن أبى نوف وسليط بن أيوب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11120
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: فَقَالَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ نِصْفَ النَّهَارِ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَتُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي ذَلِكَ"، قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا تُضَارُّونَ، يَقُولُ: لَا تُمَارُونَ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے رب کی زیارت ضرور کرو گے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا واقعی ہم اپنے رب کی زیارت کرسکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نصف النہار کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری محسوس کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں، فرمایا کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری محسوس کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں، فرمایا اسی طرح پروردگار کو دیکھنے میں بھی تمہیں کوئی دشواری نہ ہوگی، الاّیہ کہ تم چاند سورج کو دیکھنے میں دشواری محسوس کرنے لگو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11120]

الحكم على الحديث:
صحيح، خ: 4581، م: 183
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، وَشَرُّهَا الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ"، وَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ إِذَا سَجَدْتُنَّ، لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی اور سب سے کم ترین صف آخری ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین آخری اور سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے، اے گروہ خواتین! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں پست رکھا کرو اور تہبند کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہوں کو نہ دیکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11121]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره دون قوله: يا معشر النساء.... فهو حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، وَحُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا؟" فَجَاءَ فُلَانٌ، فَقَالَ: أَنَا قَالَ:" أَمِطْ"، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ:" أَمِطْ"، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ، لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ، هَاكَ يَا عَلِيُّ"، فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدَكَ، وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا، قَالَ مُصْعَبٌ: بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ایک دن اپنے دست مبارک میں جھنڈا پکڑا اسے ہلایا اور فرمایا اس کا حق ادا کرنے کے لئے کون اسے پکڑے گا؟ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا، پھر دوسرا آیا، اسے بھی واپس کردیا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو معزز کیا میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو کبھی راہ فرار اختیار نہیں کرے گا، علی! آگے آؤ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ جھنڈا لے کر روانہ ہوئے، حتیٰ کہ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر اور فدک کو فتح کروا دیا اور وہاں کی عجوہ کھجور اور قدید لے کر آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11122]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف على نكارة فى متنه، عبدالله بن عصمة العجلي أبو علوان الحنفي تفرد بهذا الحديث، وهو ممن لا يحتمل تفرده .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں