مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 11163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدًا أَبَا الْحَوَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ فِي أُمَّتِي خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا"، زَيْدٌ الشَّاكُّ قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ؟، قَالَ:" سِنِينَ"، ثُمَّ قَالَ:" يُرْسِلُ السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا، وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا، وَيَكُونُ الْمَالُ كُدُوسًا"، قَالَ:" يَجِيءُ الرَّجُلُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي"، قَالَ:" فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عجیب و غریب واقعات نہ پیش آنے لگیں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں مہدی آئے گا جو پانچ سات یا نو سال رہے گا، اس زمانے میں اللہ تعالیٰ آسمان سے خوب بارش برسائے گا، زمین کوئی نباتات اپنے اندر ذخیرہ کرکے نہیں رکھے گی اور مالی فراوانی ہوجائے گی، حتیٰ کہ ایک آدمی مہدی کے پاس آکر کہے گا کہ اے مہدی! مجھے دو، مجھے کچھ عطاء کرو، تو وہ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا ڈال دیں گے جتنا وہ اٹھاسکے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11163]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف زيد بن أبى الحواري، وهو ابن الحواري العمي .
حدیث نمبر: 11164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كُنَّا نَبِيعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ام ولد (لونڈی) کو بیچ دیا کرتے تھے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11164]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه .
حدیث نمبر: 11165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ" كُنَّا نَتَمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّوْبِ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک کپڑا بھی متعہ نکاح میں دے دیتے تھے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11165]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه ،وقد وردت أحاديث صحيحة صريحة بالنهي عن المتعة بعد الإذن فيها، منها حديث على بن طالب عندالبخاري:5115 إن النبى صلى الله عليه وسلم نهى المتعة وعن لحوم الحمر الأهلية زمن خيبر .
حدیث نمبر: 11166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ:" تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کردے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11166]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2915 .
حدیث نمبر: 11167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ سورة النصر آية 1 - 2، قَالَ: قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا، وَقَالَ:" النَّاسُ حَيْزُ، وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيْزُ"، وَقَالَ:" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ"، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ كَذَبْتَ، وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ، وَلَكِنْ هَذَا يَخَافُ أَنْ تَنْزِعَهُ عَنْ عِرَافَةِ قَوْمِهِ، وَهَذَا يَخْشَى أَنْ تَنْزِعَهُ عَنِ الصَّدَقَةِ، فَسَكَتَا، فَرَفَعَ مَرْوَانُ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ لِيَضْرِبَهُ، فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ، قَالُوا: صَدَقَ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت نصر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ صحابہ کرام کو مکمل سنائی اور فرمایا کہ تمام لوگ ایک طرف ہیں اور میں اور میرے صحابہ ایک پلڑے میں ہیں۔ اور فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت کا ثواب باقی ہے۔ یہ حدیث سن کر مروان نے ان کی تکذیب کی، اس وقت وہاں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے جو مروان کے ساتھ اس کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اگر یہ دونوں چاہیں تو تم سے یہ حدیث بیان کرسکتے ہیں لیکن ان میں سے ایک کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے ان کی قوم کی چوہدراہٹ چھین لوگے اور دوسرے کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے صدقات روک لوگے، اس پر دونوں حضرات خاموش رہے اور مروان نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنے کے لئے کوڑا اٹھا لیا، یہ دیکھ کر ان دونوں حضرات نے فرمایا یہ سچ کہہ رہے ہیں۔ فائدہ: اس روایت کی صحت پر راقم الحروف کو شرح صدر نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11167]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: الناس حيز، وأنا وأصحابي حيز ،وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو البختري الطائي لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11168
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ، فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ، قَالَ: فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ"، قَالَ: تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ" وَرُبَّمَا، قَالَ:" قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے رضامندی ظاہر کردی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کا کھڑے ہو کر استقبال کرو، پھر ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں، انہوں نے عرض کیا کہ آپ ان کے جنگجو افراد کو قتل کروا دیں اور ان کے بچوں کو قیدی بنالیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے وہی فیصلہ کیا جو اللہ کا فیصلہ ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11168]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4121، م: 1768 .
حدیث نمبر: 11169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أنه قَالَ:" إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، لِيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سرسبز و شاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سرانجام دیتے ہو؟ یاد رکھو! دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو، کیوں کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلی آزمائش عورت ہی کے ذریعے سے ہوئی تھی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے رضامندی ظاہر کردی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردارکا کھڑے ہو کر استقبال کرو، پھر ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں) انہوں نے عرض کیا کہ آپ ان کے جنگجو افراد کو قتل کروادیں اور ان کے بچوں کو قیدی بنالیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے وہی فیصلہ کیا جو اللہ کا فیصلہ ہے گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11169]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2742
حدیث نمبر: 11170
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ فِي حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذُرِّيَّتُهُمْ"، فَقَالَ: لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ، وَقَالَ مَرَّةً: لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ أَوْ الْمَلَكِ، شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَحَدَّثَنَاهُ عَفَّانُ ، قَالَ الْمَلِكُ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4121، م: 1768 .
حدیث نمبر: 11171
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، إلا أنه قال: تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذُرِّيَّتُهُمْ، وَقَالَ:" قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ"، قَالَ: أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح كسابقه .
حدیث نمبر: 11172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، أَوْ قَالَ فِي الْعَزْلِ:" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل (مادہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اولاد کا ہونا تقدیر کا حصہ ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11172]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438 .