🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

135. حَدِیث معَاذِ بنِ اَنَس الجهَنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَنْتَصِرَ، دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ , حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي حُورِ الْعِينِ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ، وَمَنْ تَرَكَ أَنْ يَلْبَسَ صَالِحَ الثِّيَابِ، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ , حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي حُلَلِ الْإِيمَانِ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے غصے کو قابو میں رکھے جبکہ وہ اس پر عمل کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہواللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بلا کر یہ اختیار دے گا کہ جس حور عین کو چاہے پسند کر لے اور جو شخص تواضع کی نیت سے اچھے کپڑے پہننے کی قدرت کے باوجود سارا لباس اختیار کر ے اللہ اسے قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بلا کر یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے جوڑوں میں سے جسے چاہے پسند کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15619]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وإسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ الْمُنَادِيَ يُثَوِّبُ بِالصَّلَاةِ، فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنو تو وہی جملے دہراؤ جو وہ کہہ رہا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15620]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ زَبَّانَ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" الضَّاحِكُ فِي الصَّلَاةِ، وَالْمُلْتَفِتُ وَالْمُفَقِّعُ أَصَابِعَهُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوران نماز ہنسنے والا دائیں بائیں دیکھنے والا اور انگلیاں چٹخانے والا ایک ہی درجے میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15621]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، حَدَّثَنَا سَهْلٌ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْغَزْوِ، وَأَنَّ رَجُلًا تَخَلَّفَ , وَقَالَ لِأَهْلِهِ: أَتَخَلَّفُ حَتَّى أُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِ، وَأُوَدِّعَهُ، فَيَدْعُوَ لِي بِدَعْوَةٍ تَكُونُ شَافِعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ , فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَقْبَلَ الرَّجُلُ مُسَلِّمًا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَدْرِي بِكَمْ سَبَقَكَ أَصْحَابُكَ؟" قَالَ: نَعَمْ، سَبَقُونِي بِغَدْوَتِهِمْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَقَدْ سَبَقُوكَ بِأَبْعَدِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقَيْنِ وَالْمَغْرِبَيْنِ فِي الْفَضِيلَةِ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ صحابہ کو جہاد کے لئے روانہ فرمایا: ان میں سے ایک شخص پیچھے رہ گیا اور اپنے ہل خانہ سے کہنے لگا کہ میں ظہر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کر کے آپ کو سلام کر کے الوداع کہوں گا تاکہ آپ میرے لئے دعا بھی فرما دیں جو قیامت میں میری سفارش ثابت ہو چنانچہ نماز ظہر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فارغ ہوئے تو اس شخص نے آگے بڑھ کر سلام کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے تمہارے ساتھی تم سے کتنے آگے چلے گئے اس نے عرض کیا: جی ہاں وہ صبح ہی کو چلے گئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ فضیلت میں تم سے آگے اتنے بڑھ گئے ہیں اور ان کے درمیان مشرق اور مغرب کا فاصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15622]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حِينَ يُصَلِّي الصُّبْحَ حَتَّى يُسَبِّحَ الضُّحَى , لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا , غُفِرَتْ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز فجر پڑھنے کے بعد اپنی جگہ پر ہی بیٹھا رہے تاآنکہ چاشت کی نماز پڑھ لے اس دوران خیر ہی کا جملہ اپنے منہ سے نکالے اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15623]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ , عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ لِمَ سَمَّى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَهُ الَّذِي وَفَّى، لِأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كُلَّمَا أَصْبَحَ وَأَمْسَى فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ سورة الروم آية 17 حَتَّى يَخْتِمَ الْآيَةَ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اللہ نے ابراہیم کا نام اپنا خلیل جس نے پورا وعدہ کر کے دکھایا کیوں رکھا ہے؟ اس لئے کہ وہ روزانہ صبح وشام پڑھتے تھے فسبحان اللہ حین تمسون وحین تصبحون الخ۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15624]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا تعزَّ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ سورة الإسراء آية 111 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو یوں کہتے الحمد اللہ الذی لم یتخذ ولداولم یکن لہ شریک فی الملک الخ۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15625]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ قَرَأَ أَوَّلَ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآخِرَهَا، كَانَتْ لَهُ نُورًا مِنْ قَدَمِهِ إِلَى رَأْسِهِ، وَمَنْ قَرَأَهَا كُلَّهَا، كَانَتْ لَهُ نُورًا مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورت کہف کا ابتدائی حصہ اور آخری حصہ پڑھ لیا کر ے وہ اس کے پاؤں سے لے کر سر تک باعث نور بن جائے گا جو شخص پوری سورت کہف پڑھ لیا کر ے اس کے لئے آسمان و زمین کے درمیان نور کا گھیراؤ کر دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15626]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، حَدَّثَنَا سَهْلٌ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" الْجَفَاءُ كُلُّ الْجَفَاءِ، وَالْكُفْرُ وَالنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِيَ اللَّهِ يُنَادِي بِالصَّلَاةِ يَدْعُو إِلَى الْفَلَاحِ , وَلَا يُجِيبُهُ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ بات انتہائی جفا اور کفر و نفاق والی ہے کہ انسان اللہ کے منادی کو نماز اور کامیابی کے لئے پکارتے ہوئے سنے اور پھر اس پر لبیک نہ کہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15627]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَزَالُ الْأُمَّةُ عَلَى الشَّرِيعَةِ مَا لَمْ يَظْهَرْ فِيهَا ثَلَاثٌ، مَا لَمْ يُقْبَضْ الْعِلْمُ مِنْهُمْ، وَيَكْثُرْ فِيهِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ، وَيَظْهَرْ فِيهِمْ الصَّقَّارُونَ" قَالَ: وَمَا الصَّقَّارُونَ أَوْ الصَّقْلَاوُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَشّْأ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ تَحِيَّتُهُمْ بَيْنَهُمْ التَّلَاعُنُ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امت مسلمہ شریعت پر اس وقت تک ثابت قدم رہے گی جب تک تین چیزوں پر غالب نہ آجائیں۔ علم اٹھالیا جائے گا، ناجائز بچوں کی کثرت ہو نے لگے، صقارون کا غلبہ ہو جائے لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! صقارون سے کیا مراد ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ جو آخر زمانے میں ہوں گے اور ان کی باہمی ملاقات سلام کے ب جائے ایک دوسرے کو لعنت ملامت کر کے ہوا کر ے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15628]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء