🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

135. حَدِیث معَاذِ بنِ اَنَس الجهَنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً، وَابْتَدِعُوهَا سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جانوروں پر اس وقت سوار ہوا کر و جب وہ صحیح سالم ہوں اور اسی حالت میں چھوڑ بھی دیا کر و راستوں اور بازاروں میں آپس میں گفتگو میں انہیں کر سیاں نہ سمجھ لیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15639]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15640
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15640]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف زبان بن فائد ، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً وَابْتَدِعُوهَا سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جانوروں پر اس وقت سوار ہوا کر و جب وہ صحیح سالم ہوں اور اسی حالت میں چھوڑ بھی دیا کر و راستوں اور بازاروں میں آپس میں گفتگو میں انہیں کر سیاں نہ سمجھ لیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15641]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَانَ صَائِمًا، وَعَادَ مَرِيضًا، وَشَهِدَ جَنَازَةً، غُفِرَ لَهُ مِنْ بَأْسٍ , إِلَّا أَنْ يُحْدِثَ مِنْ بَعْدُ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص روزہ دار ہو کسی مریض کی عیادت کر ے اور کسی جنازے میں شرکت کر ے اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے الاّ یہ کہ اس کے بعد کوئی نیا گناہ کر بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15642]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وابن لهيعة سيئ الحفظ، وسهل بن معاذ سيئ الحفظ إن روى عنه زبان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" لَأَنْ أُشَيِّعَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَكُفَّهُ عَلَى رَاحِلَةٍ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی صبح یا شام کو کسی مجاہد فی سبیل اللہ کے ساتھ اسے رخصت کرنے کے لئے جانا اور اسے سواری پر بٹھانا میرے نزدیک دنیا و ما فیھا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15643]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ السَّالِمَ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ يَدِهِ وَلِسَانِهِ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15644]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، نَبَتَ لَهُ غَرْسٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَكْمَلَهُ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ، أَلْبَسَ وَالِدَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَاجًا هُوَ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتٍ مِنْ بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيهِ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهِ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سبحان اللہ العظیم کہے اس کے لئے جنت میں ایک پودا لگادیا جاتا ہے جو شخص مکمل قرآن کر یم پڑھے اور اس پر عمل کر کے اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ ہو گی جبکہ وہ کسی کے گھر کے آنگن میں اتر آئے تو اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس نے اس قرآن پر عمل کیا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15645]

حکم دارالسلام: حسن لغيره دون قوله: ومن قرأ القرآن فأكمله.....وهذا إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابَّ لَهُمْ وَرَوَاحِلَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْكَبُوهَا سَالِمَةً , وَدَعُوهَا سَالِمَةً , وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ، فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا هِيَ أَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى مِنْهُ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں پر ہوا جو اپنے جانوروں اور سواریوں کے پاس کھڑے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جانوروں پر اس وقت سوار ہوا کر و جب وہ صحیح سالم ہوں اور اسی حالت میں انہیں چھوڑ بھی دیا کر و راستوں اور بازاروں میں گفتگو میں انہیں کر سیاں نہ سمجھ لیا کر و کیونکہ بہت سی سواریاں اپنے اوپر سوار ہو نے والوں کی نسبت سے زیادہ بہتر اور اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہو تی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15646]

حکم دارالسلام: حديث حسن إلى قوله: ولا تتخذوها كراسي، وهذا إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَفْضُلُ الذِّكْرُ عَلَى النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِسَبْعِ مِائَةِ أَلْفِ ضِعْفٍ".
سیدنا معاذ بن انس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذکر خداوندی میں مشغول رہنا صدقہ خیرات کرنے سے سات لاکھ درجہ اونچا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15647]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ، تفرد به سهل بن معاذ، وهو ممن لا يحتمل تفرده، وقد اختلف عنه فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: نَزَلْنَا عَلَى حِصْنِ سِنَانٍ بِأَرْضِ الرُّومِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ، فَقَالَ مُعَاذٌ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا، فَضَيَّقَ النَّاسُ الطَّرِيقَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى:" مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا، أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا، فَلَا جِهَادَ لَهُ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عبداللہ بن عبدالمک کے ساتھ سر زمین روم میں حصن سنان پر اترے لوگوں نے منزلیں تنگ اور راستے مسدد کر دیئے سیدنا معاویہ یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ لوگو ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں غزوے میں شریک تھے اس دوران لوگوں نے راستے مسدد کر دیئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیج کر یہ اعلان کر وایا کہ جو شخص کسی منزل کو تنگ یا راستے کو مسدد کر دے اس کے جہاد کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15648]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں