مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
157. حَدِيثُ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15715
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُقَصُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَقُصَّ عَلَى النَّاسِ قَائِمًا، فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ".
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر کے دور باسعادت میں وعظ گوئی کا رواج نہ تھا سب سے پہلے وعظ گوئی کرنے والے سیدنا تمیم داری تھے انہوں نے سیدنا عمر سے لوگوں میں کھڑے ہو کر وعظ گوئی کی اجازت مانگی اور سیدنا عمر نے انہیں اجازت دیدی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15715]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، بقية لم يصرح بالسماع فى كل طبقات الرواة
حدیث نمبر: 15716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا فِي الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا، يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ , قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ، وَلِأَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ.
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں صرف ایک مؤذن تھا جو تمام نمازوں اور جمعہ وغیرہ میں اذان بھی دیتا تھا اور اقامت بھی وہی کہتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر رونق افروز ہو جاتے تو سیدنا بلال اذان دیتے تھے اور جب آپ منبر سے نیچے اترتے تو وہی اقامت کہتے تھے سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عمر کے زمانے تک ایسا ہوتا رہا یہاں تک کہ سیدنا عثمان کا دور آگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15716]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَسْوَدَ الْقُرَشِيُّ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ حَدَّثَهُ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا صَلَّوْا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوعِ النُّجُومِ".
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت اس وقت تک فطرت پر قائم رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز ستارے نکلنے سے پہلے پڑھتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15717]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن الأسود
حدیث نمبر: 15718
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ:" حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ".
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر مجھے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج پر لے جایا گیا اس وقت میری عمر سات سال تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15718]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1858
حدیث نمبر: 15719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ:" كُنَّا نُؤْتَى بِالشَّارِبِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَفِي إِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ، فَنَقُومُ إِلَيْهِ، فَنَضْرِبُهُ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا، حَتَّى كَانَ صَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِيهَا أَرْبَعِينَ، حَتَّى إِذَا عَتَوْا فِيهَا وَفَسَقُوا، جَلَدَ ثَمَانِينَ.
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں اور سیدنا صدیق اکبر کے دور میں اور سیدنا عمر کے ابتدائی دور میں جب کوئی شرابی لایا جاتا تھا تو ہم لوگ کھڑے ہو کر اسے اپنے ہاتھوں جوتیوں اور چادروں سے مارتے تھے بعد میں سیدنا عمر نے شرابی کو چالیس کوڑے مارنے کا حکم دیا اور لوگ جب اس میں سرکشی اور فسق وفجور کرنے لگے تو انہوں نے اس کی سزا اسی کوڑے مقرر کر دی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15719]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6779
حدیث نمبر: 15720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَتَعْرِفِينَ هَذِهِ؟" قَالَتْ: لَا , يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَقَالَ:" هَذِهِ قَيْنَةُ بَنِي فُلَانٍ، تُحِبِّينَ أَنْ تُغَنِّيَكِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ: فَأَعْطَاهَا طَبَقًا، فَغَنَّتْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَا".
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہ پوچھا کہ عائشہ تم جانتی ہواسے انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں فرمایا: یہ فلاں قبیلے کی گلوکارہ ہے تم اس کا گاناسننا چاہتی ہوانہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک تھالی دیدی اور وہ گانے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے نتھنوں میں شیطان پھونکیں مار رہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15720]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15721
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ" , وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَذْكُرُ مَقْدِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ.
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر ثنیتہ الوداع کی طرف نکلا ہم لوگ غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے گئے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غزوہ تبوک سے واپس تشریف لانا یاد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15721]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3083
حدیث نمبر: 15722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ظَاهَرَ بَيْنَ دِرْعَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ , وَحَدَّثَنَا بِهِ مَرَّةً أُخْرَى فَلَمْ يَسْتَثْنِ فِيهِ.
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر دو زرہیں پہن رکھی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15722]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15723
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ , وَأَبُو شِهَابٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ، قَالَ:" مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ , يُؤَذِّنُ إِذَا قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ، وَأَبُو بَكْرٍ كَذَلِكَ وَعُمَرُ كَذَلِكَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا".
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں صرف ایک مؤذن مقرر تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھنے کے بعد اذان دیتا تھا اور منبر سے اترنے کے بعد اقامت بھی وہی کہتا تھا سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عمر کے زمانے تک ایسا ہی ہوتا رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15723]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده حسن
حدیث نمبر: 15724
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , أَنَّ شُرَيْحًا الْحَضْرَمِيّ , قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ذَاكَ رَجُلٌ لَا يَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ".
سیدنا سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ شریح حضرمی کا تذکر ہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسا آدمی ہے جو قرآن کو تکیہ نہیں بناتا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15724]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح