🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

272. حَدِيثُ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ عَبْدُ اللَّه بْنُ أَحْمَدَ: قَالَ أَبِي: وقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ". فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا , فَقِيلَ: قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ.
سیدنا ابواسید ساعدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار کا سب سے بہترین گھرانا بنونجار ہے پھر بنوعبدالاشہل، پھر بنوحارث بن خزرج پھر بنوساعدہ اور بلکہ انصار کے ہر گھر میں ہی خیروبرکت ہے اس پر سیدنا سعد بن عبادہ کہنے لگے کہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہم پر فضیلت دی ہے انہیں بتایا گیا ہے کہ تم لوگوں کو بہت سوں پر فضیلت دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16049]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3789، م: 2511
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ"، ثُمَّ قَالَ:" وَفِي كُلِّ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ".
سیدنا ابواسید ساعدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار کا سب سے بہترین گھرانا بنونجار ہے پھر بنوعبد الاشہل پھر بنوحارث بن خزرج، پھر بنوساعدہ اور بلکہ انصار کے ہر گھر میں ہی خیر و برکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16050]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3789، م: 2511
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16051
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ"، ثُمَّ قَالَ:" وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ". فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: جَعَلَنَا رَابِعَ أَرْبَعَةٍ، أَسْرِجُوا لِي حِمَارِي , فَقَالَ ابْنُ أَخِيهِ: أَتُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَسْبُكَ أَنْ تَكُونَ رَابِعَ أَرْبَعَةٍ.
سیدنا ابواسید ساعدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار کا سب سے بہترین گھرانا بنونجار ہے پھر بنوعبدالاشہل، پھر بنوحارث بن خزرج، پھر بنوساعدہ اور بلکہ انصار کے ہر گھر میں خیروبرکت ہے اس پر سیدنا سعد بن عبادہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چار میں سے چوتھا بنادیا میرے گدھے پر زین کس دو تو ان کے بھتیجے نے کہا کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات رد کرنا چاہتے ہیں آپ کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ چار میں سے چوتھے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16051]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3789، م: 2511
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ".
سیدنا ابواسید ساعدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار کا سب سے بہترین گھرانا بنونجار ہے پھر بنوعبدالاشہل پھر بنوحارث بن خزرج پھر بنوساعدہ اور بلکہ انصار کے ہر گھر میں ہی خیروبرکت ہے اس پر سیدنا سعد بن عبادہ کہنے لگے کہ میں تو یہ سمجھتاہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہم پر فضیلت دی ہے انہیں بتایا ہے کہ تم لوگوں کو بہت سوں پر فضیلت دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16052]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3789، م: 2511
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16053
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَيْرُ دِيَارِ الْأَنْصَارِ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16053]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3789، م: 2511
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ رَجُلٌ كَانَ يَكُونُ بِالسَّاحِلِ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ أَوْ أَبِي أَسِيدِ بْنِ ثَابِتٍ شك سفيان أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُوا الزَّيْتَ، وَادَّهِنُوا بِالزَّيْتِ، فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ".
سیدنا ابواسید ساعدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زیتون کا پھل کھایا کر و اور اس کا تیل ملا کر و کیونکہ اس کا تعلق ایک مبارک درخت سے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16054]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عطاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16055
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَطَاءٍ الشَّامِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا الزَّيْتَ، وَادَّهِنُوا بِهِ، فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ".
سیدنا ابواسید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زیتون کا پھل کھایا کر و اور اس کا تیل ملا کر و کیونکہ اس کا تعلق ایک درخت مبارک سے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16055]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عطاء الشامي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ كَانَ يَقُولُ:" أَصَبْتُ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ ابْنِ عَابِدٍ الْمَرْزُبَانِ، فَلَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُؤَدُّوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ، أَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَلْقَيْتُهُ فِي النَّفْلِ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا يُسْأَلُهُ، قَالَ: فَعَرَفَهُ الْأَرْقَمُ بْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِيُّ، فَسَأَلَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَعْقُوبَ فِي مَغَازِي أَبِيهِ أَوْ سَمَاعٌ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ بَنِي سَاعِدَةَ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ:" أَصَبْتُ سَيْفَ بَنِي عَايذٍ الْمَخْزُومِيِّينَ الْمَرْزُبَانِ يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُؤَدُّوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ النَّفْلِ، أَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَلْقَيْتُهُ فِي النَّفْلِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا يُسْأَلُهُ، فَعَرَفَهُ الْأَرْقَمُ بْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ، فَسَأَلَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ".
سیدنا ابواسید ساعدی سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن میرے ہاتھ ابن عابد کی تلوار لگ گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا لوگوں کو کہ ان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب واپس کر دیں چنانچہ میں تلوار لے کر آیا اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ اگر کوئی ان سے کچھ مانگتا تو آپ انکار نہیں کرتے تھے ارقم بن ابی ارقم نے اس تلوار کو پہچان لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی درخواست کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ تلوار دیدی۔ سیدنا ابواسید ساعدی سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن یمرے ہاتھ ابن عابد کی تلوار لگ گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا لوگوں کو کہ ان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب واپس کر دیں چنانچہ میں تلوار لے کر آیا اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ اگر کوئی ان سے کچھ مانگتا تو آپ انکار نہیں کرتے تھے ارقم بن ابی ارقم نے اس تلوار کو پہچان لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی درخواست کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ تلوار دیدی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16056]

حکم دارالسلام: (حديث ضعيف، وله إسنادان، الأول: يزيد بن هارون ....... وهذا اسناد ضعيف لانقطاعه، عبدالله بن ابي بكر لم يدرك أبا أسيد). والإسناد الثاني : قري على يعقوب ....... وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى سيعد، ووالد يعقوب وهو إبراهيم بن سعد الزهري لم يسمع هذا الحديث من ابن اسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ وَأَبَا أُسَيْدٍ ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ".
سیدنا ابوحمید اور ابواسید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہوئے تو یوں کہے اللھم افتح لی ابواب رحمتک اور جب نکلے تو یوں کہے اللھم انی اسالک من فضلک۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16057]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 713
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ، فَأَنَا أَوْلَاكُمْ بِهِ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَنْفِرُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ، فَأَنَا أَبْعَدُكُمْ مِنْهُ".
سیدنا ابوحمید اور ابواسید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میرے حوالے سے کوئی ایسی حدیث سنو جس سے تمہارے دل شناسا ہوں تمہارے بال اور تمہاری کھال نرم ہو جائے اور تم اس سے قریب محسوس کر و تو میں اس بات کا تم سے زیادہ حق دار ہوں اور اگر کوئی ایسی بات سنو جس سے تمہارے دل نامانوس ہوں تمہارے بال اور تمہاری کھال نرم نہ ہواور تم اس سے بعد محسوس کر و تو میں تمہاری نسبت سے اس سے بہت زیادہ دور ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16058]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں