مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
295. حَدِیث اَوسِ بنِ اَبِی اَوس الثَّقَفِیِّ وَهوَ اَوس بن حذَیفَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى ...
حدیث نمبر: 16156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ، فَتَوَضَّأَ".
سیدنا اوس بن اوس سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پانی کی ایک نالی پر تشریف لائے اور اس سے وضو فرمایا:۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16156]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال والد يعلي
حدیث نمبر: 16157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يُؤْتَى بِنَعْلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَيَلْبَسُهُمَا، وَيَقُولُ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ".
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی ان کے جوتے لے آتاوہ انہیں اسی دوران پہن لیتے اور کہتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16157]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ".
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا جوتیوں پر مسح کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16158]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، والد يعلي مجهول
حدیث نمبر: 16159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ وَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا".
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنی ہتھیلی دھوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16159]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسًا ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، فَكُنَّا فِي قُبَّةٍ، فَقَامَ مَنْ كَانَ فِيهَا غَيْرِي وَغَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ" ثُمَّ قَالَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟" قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ يَقُولُهَا تَعَوُّذًا، فَقَالَ:" رُدَّهُ" ثُمَّ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا"، فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ: أَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالَ شُعْبَةُ: أَظُنُّهَا مَعَهَا وَمَا أَدْرِي.
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ میں بنوثقیف کے وفد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ابھی ہم اسی خیمے میں تھے میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ سب لوگ اٹھ کر جاچکے تھے کہ ایک آدمی آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا کر اسے قتل کر دو پھر فرمایا: کیا وہ لا الہ الاللہ کی گواہی نہیں دیتا اس نے کہا کیوں نہیں لیکن وہ اپنی جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جب وہ یہ جملہ کہہ لیں تو ان کی جان ومال محترم ہو گئے سوائے اس کلمے کے حق کے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16160]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات، وفي قول شعبة: «عن النعمان، سمعت أوسا.» وقفة والاشبه : عن النعمان بن سالم عن عمرو بن اوس . عن اوس . ثم إن شعبه لم يضبط متن هذا الحديث
حدیث نمبر: 16161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فَغَسَلَ أَحَدُكُمْ رَأْسَهُ، وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ غَدَا أَوْ ابْتَكَرَ، ثُمَّ دَنَا، فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا، كَصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامِ سَنَةٍ".
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن آنے پر جب تم میں سے کوئی شخص اپنا سر دھو کر غسل کر ے پھر پہلے وقت روانہ ہو خطیب کے قریب بیٹھے، خاموشی اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں کا اور ایک سال کی شب بیداری کا ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16161]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد تالف، محمد بن سعيد المصلوب كذاب، ولم يدرك أوسا، وعمر بن محمد لم يوجد له ترجمة
حدیث نمبر: 16162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ عَلَيْكَ صَلَاتُنَا وَقَدْ أَرِمْتَ يَعْنِي وَقَدْ بَلِيتَ؟، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ". صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ.
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے اسی میں سیدنا آدم کو پیدا کیا گیا اور اسی دن وہ فوت ہوئے اسی دن صور پھونکا جائے گا اور بےہو شی طاری کی جائے گی لہذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! جب آپ کی ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گے تو آپ کے سامنے ہمارا درود کیسے پیش کیا جائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے زمین پر انبیاء کرام کے اجسام کو کھانا حرام قرار دے دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16162]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا أَخْبَرَهُ، قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّفَّةِ وَهُوَ يَقُصُّ عَلَيْنَا وَيُذَكِّرُنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَسَارَّهُ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا فَاقْتُلُوهُ"، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ، دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، قَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ، نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا".
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ صفہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے کہ ایک آدمی آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا کر اسے قتل کر دو پھر فرمایا: کیا وہ لا الہ الاللہ کی گواہی نہیں دیتا اس نے کہا کیوں نہیں لیکن وہ اپنی جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جب وہ یہ جملہ کہہ لیں تو ان کی جان ومال محترم ہو گئے سوائے اس کلمہ حق کے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16163]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16164
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَوْسٍ قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا وَيُوصِينَا إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16164]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي يَوْمًا" تَوَضَّأَ، فَمَسَحَ النَّعْلَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ أَتَمْسَحُ عَلَيْهِمَا؟، فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے اپنے والد صاحب کو جوتیوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ جوتیوں پر مسح کر رہے ہوانہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16165]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، يعلى بن عطاء لم يدرك أوس بن أبى أوس