🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

310. حَدِیث مطَرِّفِ بنِ عَبدِ اللَّهِ عَن اَبِیهِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ . وَبَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ شُعْبَةُ، قَالَ: قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ، قَالَ:" مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ، أَوْ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ" وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ:" لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم دہر ہمیشہ روزہ رکھنے کے متعلق ارشاد فرمایا: ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16304]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ قَالَ:" يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ".
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ سورت تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرامال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا کھا کر ختم کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16305]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2958
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:" أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ، يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَمَا لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ".
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ سورت تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرامال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا کھا کر ختم کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16306]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2958
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنْتَ سَيِّدُ قُرَيْشٍ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" السَّيِّدُ اللَّهُ"، قَالَ: أَنْتَ أَفْضَلُهَا فِيهَا قَوْلًا، وَأَعْظَمُهَا فِيهَا طَوْلًا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَقُلْ أَحَدُكُمْ بِقَوْلِهِ وَلَا يَسْتَجِرُّهُ الشَّيْطَانُ".
سیدنا عبداللہ بن شخیر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ تو قریش کے سید آقا ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیقی آقا تو اللہ ہی ہے وہ کہنے لگا کہ آپ قریش میں بات کے اعتبار سے سب سے افضل اور جودو و سخا میں سب سے عظیم تر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم وہ بات کہا کر و جس میں شیطان تمہیں گمراہ کر کے تم پر غالب نہ آ جائے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16307]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يَصُومُ الدَّهْرَ، قَالَ:" لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صوم دہر کے متعلق پوچھا: گیا تو ارشاد فرمایا: ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16308]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن جعفر سمع من سعيد بن أبى عروبة بعد الاختلاط ، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ".
سیدنا ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتی پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16309]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي، ثُمَّ تَنَخَّمُ تَحْتَ قَدَمِهِ، ثُمَّ دَلَكَهَا بِنَعْلِهِ وَهِيَ فِي رِجْلِهِ".
ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران آپ نے اپنے پاؤں کے نیچے ناک کی ریزش پھینکی اور اسے اپنی جوتی سے مسل دیا جو آپ نے پاؤں میں پہن رکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16310]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 554
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: أَنْتَ وَلِيُّنَا، وَأَنْتَ سَيِّدُنَا، وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا. قَالَ يُونُسُ وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا طَوْلًا، وَأَنْتَ أَفْضَلُنَا عَلَيْنَا فَضْلًا، وَأَنْتَ الْجَفْنَةُ الْغَرَّاءُ. فَقَالَ:" قُولُوا قَوْلَكُمْ، وَلَا يَسْتَجِرَّنَّكُمْ الشَّيْطَانُ"، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ:" وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ".
سیدنا عبداللہ بن شخیر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ تو قریش کے سید آقا ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیقی آقا تو اللہ ہی ہے وہ کہنے لگا کہ آپ قریش میں بات کے اعتبار سے سب سے افضل اور جودو سخا میں سب سے عظیم تر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم وہ بات کہا کر و جس میں شیطان تمہیں گمراہ کر کے تم پر غالب نہ آ جائے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16311]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد: لَمْ يَقُلْ مِنَ الْبُكَاءِ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ.
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ کثرت گریہ وزاری کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارک سے ایسی آوازیں آرہی تھی جیسی ہنڈیا کے ابلنے کی ہو تی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16312]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَتَنَخَّعَ، فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ الْيُسْرَى".
ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کر تی ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے اپنے پاؤں کے نیچے ناک کی ریزش پھینکی اور اسے اپنی بائیں جوتی سے مسل دیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16313]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 554
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں