مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
309. حَدِیث الاَسوَدِ بنِ سَرِیع رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 16299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ حُنَيْنٍ. قَالَ رَوْحٌ: فَأَتَوْا حَيًّا مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ نَسَمَةٍ تُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا".
سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ایک دستہ روانہ فرمایا: پھر روای نے پوری حدیث ذکر کی کہ اور کہا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے جو روح بھی دنیا میں جنم لے کر آتی ہے وہ فطرت پر پیدا ہو تی ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اپناما فی الضمیر ادا کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16299]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ مَدَحْتُ اللَّهَ بِمَدْحَةٍ وَمَدَحْتُكَ بِأُخْرَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاتِ، وَابْدَأْ بِمَدْحَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا اسود سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اوعرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے پروردگار کی حمدومدح اور آپ کی تعریف میں اشعار کہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذراسناؤ تو تم نے اپنے رب کی تعریف میں کیا کہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16300]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، عبدالرحمن بن أبى بكرة لم يسمع من الأسود
حدیث نمبر: 16301
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرْبَعَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَصَمُّ لَا يَسْمَعُ شَيْئًا، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ، وَرَجُلٌ هَرَمٌ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ، فَأَمَّا الْأَصَمُّ، فَيَقُولُ: رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا، وَأَمَّا الْأَحْمَقُ، فَيَقُولُ: رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَالصِّبْيَانُ يَحْذِفُونِي بِالْبَعْرِ، وَأَمَّا الْهَرَمُ، فَيَقُولُ: رَبِّي لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، فَيَقُولُ: رَبِّ مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ. فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعُنَّهُ، فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ أَنْ ادْخُلُوا النَّارَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا، لَكَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا".
سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ قیامت کے دن چار قسم کے لوگ ہوں گے (١) بہرا آدمی جو کچھ سن نہ سکے ٢۔ احمق آدمی۔ ٣۔ بوڑھا آدمی۔ ٤۔ فترت وحی (انقطاع رسل) کے زمانے میں مرنے والا آدمی۔ چنانچہ بہرا آدمی اعراض کر ے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن میں کچھ سن ہی نہ سکا احمق عرض کر ے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن بچے مجھ پر مینگینیاں برساتے تھے بوڑھاعرض کر ے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن اس وقت میری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور فترت وحی کے زمانے میں مرنے والاک ہے گا کہ پروردگار میرے پاس تیرا کوئی پیغمبر ہی نہیں آیا اللہ ان سے یہ وعدہ لے گا کہ وہ اس کی اطاعت کر یں گے اور پھر انہیں حکم دے گا کہ جہنم میں داخل ہو جائیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ جہنم میں داخل ہو گئے تو وہ ان کے لئے ٹھنڈی اور باعث سلامتی بن جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16301]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة مدلس، وقد عنعن، ثم إن سماعه من الأحنف بن قيس مستبعد
حدیث نمبر: 16302
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ 4، مِثْلَ هَذَا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ:" فَمَنْ دَخَلَهَا كَانَتْ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْهَا يُسْحَبُ إِلَيْهَا".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16302]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدٍ، قَالَ: وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ غَزَوَاتٍ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ قَوْمٌ الذُّرِّيَّةَ بَعْدَمَا قَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَا مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ حَتَّى تَنَاوَلُوا الذُّرِّيَّةَ؟" قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَيْسَ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ؟، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ إِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ تُولَدُ إِلَّا وُلِدَتْ عَلَى الْفِطْرَةِ فَمَا تَزَالُ عَلَيْهَا حَتَّى يُبِينَ عَنْهَا لِسَانُهَا فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا أَوْ يُنَصِّرَانِهَا" قَالَ: وَأَخْفَاهَا الْحَسَنُ.
سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین کے موقع پر ایک دستہ روانہ فرمایا: انہوں نے مشرکین سے قتال کیا جس کا دائرہ وسیع ہوتے ہی ان کی اولاد کے قتل تک پہنچا جب وہ لوگ واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں بچوں کو قتل کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا تھا وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! وہ مشرکین کے بچے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے جو بہترین لوگ ہیں وہ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جو روح بھی دنیا میں جنم لیتی ہے وہ فطرت پر پیدا ہو تی ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اپنا مافی الضمیر ادا کرنے لگے اور اس کے والدین ہی اسے یہو دی عیسائی بناتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16303]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري رغم تصريحه بالسماع هنا من الأسود بن سريع، إلا أن الصحيح أنه لم يسمع منه