🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

438. حَدِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16731
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب مسجد حرام کو نکال کر دیگر مساجد کی نسبت ایک ہزار درجے زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16731]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن طلحة لم يدرك جبير بن مطعم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ".
سیدنا جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قطع تعلقی کرنے والا کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16732]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5984، م: 2556
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا فَكَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى أَطْلَقْتُهُمْ" يَعْنِي أُسَارَى بَدْرٍ.
سیدنا جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور مجھ سے ان مرداروں (بدر کے قیدیوں) کے متعلق بات کرتے تو میں ان سب کو آزاد کر دیتا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16733]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3139
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ، وَأَنَا الْعَاقِبُ" وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا جبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں جس کے قدموں میں لوگوں کو جمع کیا جائے گا، میں ماحی ہوں جس کے ذریعے کفر کو مٹا دیا جائے گا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16734]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3532، م: 2354
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ".
سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورت طور پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16735]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4854، م: 463
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا تَمْنَعُنَّ أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أَوْ صَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ".
سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بنی عبدمناف! جو شخص بیت اللہ کا طواف کر ے یا نماز پڑھے، اسے کسی صورت منع نہ کر و خواہ دن یا رات کے کسی بھی حصے میں ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16736]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي بِعَرَفَةَ، فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَاقِفٌ، قُلْتُ: إِنَّ هَذَا مِنَ الْحُمْسِ، مَا شَأْنُهُ هَاهُنَا؟"، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ" ذَهَبْتُ أَطْلُبُ بَعِيرًا لِي بِعَرَفَةَ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا، قُلْتُ: هَذَا مِنَ الْحُمْسِ، مَا شَأْنُهُ هَاهُنَا؟!.
سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میدان عرفات میں میرا اونٹ گم ہو گیا، میں اسے تلاش کرنے کے لئے نکلا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں وقوف کئے ہوئے ہیں، میں نے اپنے دل میں سوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو حمس (قریش) میں سے ہیں لیکن ان کی یہاں کیا کیفیت ہے؟ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میدان عرفات میں میرا اونٹ گم ہو گیا، میں اسے تلاش کرنے کے لئے نکلا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں وقوف کئے ہوئے ہیں، میں نے اپنے دل میں سوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو حمس (قریش) میں سے ہیں لیکن ان کی یہاں کیا کیفیت ہے؟ فائدہ: دراصل قریش کے لوگ میدان عرفات میں نہیں جاتے تھے اور انہیں حمس کہا جاتا تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رسم کو توڑ ڈالا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16737]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1664، م: 1220
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَقَالَ:" نَضَّرَ اللَّهُ امَرءا سَمِعَ مَقَالَتِي، فَوَعَاهَا، ثُمَّ أَدَّاهَا إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِمْ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ، وَالنَّصِيحَةُ لِوَلِيِّ الْأَمْرِ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اسے اچھی طرح محفوظ کر ے، پھر ان لوگوں تک پہنچادے جو اسے براہ راست نہیں سن سکے، کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فقہ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں لیکن فقیہ نہیں ہوتے اور بہت سے حاملین فقیہ اس شخص تک بات پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھدار ہوتا ہے۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا۔ (١) عمل میں اخلاص، (٢) حکمرانوں کے لئے خیر خواہی (٣) جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا کیونکہ جماعت کی دعاء اسے پیچھے سے گھیر لیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16738]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي التَّطَوُّعِ:" اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَمْزُهُ وَنَفْثُهُ وَنَفْخُهُ؟، قَالَ:" أَمَّا هَمْزُهُ فَالْمُوتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ، وَأَمَّا نَفْخُهُ الْكِبْرُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ".
سیدنا جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ میں نے نوافل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ اللہ اکبر کبیرا، تین مرتبہ والحمدللہ کثیرا اور تین مرتبہ سبحان اللہ بکر ۃ واصیلا اور یہ دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! میں شیطان مردوں کے ہمز، نفث اور نفخ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ!! ہمز، نفث اور نفخ سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمز سے مراد وہ موت ہے جو ابن آدم کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، نفخ سے مراد تکبر ہے اور نفث سے مراد شعر ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16739]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الراوي عن نافع بن جبير ، وقد اختلف فى اسمه على عمرو بن مرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ، وَنَفْخِهِ ونفثه"، قَالَ: قُلْتُ: مَا هَمْزُهُ؟، قَالَ: فَذَكَرَ كَهَيْئَةِ الْمُوتَةِ، يَعْنِي يَصْرَعُ، قُلْتُ: فَمَا نَفْخُهُ؟، قَالَ:" الْكِبْرُ"، قُلْتُ: فَمَا نَفْثُهُ؟، قَال:" الشِّعْرُ".
سیدنا جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ میں نے نوافل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ اللہ اکبر کبیرا، تین مرتبہ والحمدللہ کثیرا اور تین مرتبہ سبحان اللہ بکر ۃ واصیلا اور یہ دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! میں شیطان مردوں کے ہمز، نفث اور نفخ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ!! ہمز، نفث اور نفخ سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمز سے مراد وہ موت ہے جو ابن آدم کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، نفخ سے مراد تکبر ہے اور نفث سے مراد شعر ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16740]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الراوي عن نافع بن جبير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں