🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

438. حَدِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ جِئْتُ أَنَا، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو هَاشِمٍ لَا يُنْكَرُ فَضْلُهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وَصَفَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، قَالَ:" إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَإِنَّمَا هُمْ بَنُو هَاشِمٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيئًا وَاحِدًا"، قَالَ: ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کے مال غنیمت میں اپنے قریبی رشتہ داروں بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کے درمیان حصہ تقسیم فرمایا: تو میں اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ!! یہ جو بنوہاشم ہیں، ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے، کیونکہ آپ کا ایک مقام و مرتبہ ہے جس کے ساتھ اللہ نے آپ کو ان میں سے متصف فرمایا ہے لیکن یہ جو بنو مطلب ہیں، آپ نے انہیں تو عطاء فرما دیا اور ہمیں چھوڑ دیا؟ لیکن وہ اور ہم آپ کے ساتھ ایک جیسی نسبت اور مقام رکھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دراصل یہ لوگ زمانہ جاہلیت میں مجھ سے جدا ہوئے اور نہ زمانہ اسلام میں اور بنو ہاشم اور بنومطلب ایک ہی چیز ہیں یہ کہہ کر آپ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھائیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16741]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلْقُرَشِيِّ مِثْلَيْ قُوَّةِ الرَّجُلِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ"، فَقِيلَ لِلزُّهْرِيِّ: مَا عَنَى بِذَلِكَ؟، قَالَ: نُبْلَ الرَّأْيِ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک قریشی کو غیر قریشی کے مقابلے میں دو آدمیوں کے برابر طاقت حاصل ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16742]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَيْهِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ عَطَاءٍ هَذَا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، وَيَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنْ كَانَ لَكُمْ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ فَلَأَعْرِفَنَّ مَا مَنَعْتُمْ أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ أَيَّ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اے بنی عبدمناف! اور اے بنوعبدالمطلب! جو شخص بیت اللہ کا طواف کر ے یا نماز پڑھے، اسے کسی صورت منع نہ کر و خواہ دن یا رات کے کسی بھی حصے میں ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16743]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن عمر غير منسوب، ولعل الراجع هو: محمد بن بكر، وقد تحرف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16744
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟، قَالَ: فَقَالَ:" لَا أَدْرِي" فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ:" يَا جِبْرِيلُ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟، قَالَ: لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ، فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟، فَقَالَ:" أَسْوَاقُهَا".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ!! شہر کا کون سا حصہ سب سے بدترین ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں جب جبرائیل آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہی سوال پوچھا:، انہوں نے بھی جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں، البتہ میں اپنے رب سے پوچھتا ہوں، یہ کہہ کر وہ چلے گئے، کچھ دیر بعد وہ واپس آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! آپ نے مجھے سے یہ سوال پوچھا: تھا اور میں نے کہا مجھے معلوم نہیں اب میں اپنے پروردگار سے پوچھ آیا ہوں، اس نے جو جواب دیا ہے کہ شہر کا سب سے بدترین حصہ اس کے بازار ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16744]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد بن عقيل، وهذا الحديث من مناكير زهير بن محمد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16745
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اسے عطاء کر وں؟ ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کر دوں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16745]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، قَالَ:" مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ لَا نَرْقُدُ عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ؟"، فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ، فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ، فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، فَقَامُوا فَأَدَّوْهَا، ثُمَّ تَوَضَّئوا فَأَذَّنَ بِلَالٌ، فَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے، ایک پڑاؤ میں فرمایا کہ آج رات پہرہ کون دے گا تاکہ نماز فجر کے وقت ہم لوگ سوتے ہی نہ رہ جائیں؟ سیدنا بلال نے اپنے آپ کو پیش کر دیا اور مشرق کی جانب منہ کر کے بیٹھ گئے، لوگ بیخبر ہو کر سو گئے اور سورج کی تپش ہی نے انہیں بیدار کیا، وہ جلدی سے اٹھے اس جگہ سے کوچ کیا، وضو کیا، سیدنا بلال نے اذان دی، لوگوں نے دو سنتیں پڑھیں پھر نماز فجر پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16746]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16747
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اسے عطاء کر وں؟ ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کر دوں؟ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16747]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، وَقَالَ أَحَدُهُمَا: جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْحَاشِرُ، وَالْمَاحِي، وَالْخَاتِمُ، وَالْعَاقِبُ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، میں ماحی ہوں، میں خاتم ہوں اور میں عاقب ہوں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16748]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3532، م: 2354
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا غُسْلَ الْجَنَابَةِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنَا فَآخُذُ مِلْءَ كَفَّي ثَلَاثًا، فَأَصُبُّ عَلَى رَأْسِي، ثُمَّ أُفِيضُه بَعْدُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِي".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں غسل ت کا تذکر ہ کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ میں تو دونوں ہتھیلیوں میں بھر کر پانی لیتا ہوں اور اپنے سر پر بہا لیتا ہوں، اس کے بعد بقیہ جسم پر پانی ڈالتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16749]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 254، م: 327
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَارَ فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةً عَلَى هَذَا الْجَبَلِ، وَفِرْقَةً عَلَى هَذَا الْجَبَلِ، فَقَالُوا: سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ، فَقَالُوا: إِنْ كَانَ سَحَرَنَا فَإِنَّهُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں چاند شق ہو کر دو ٹکڑوں میں بٹ گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور دوسرا ٹکڑا اس پہاڑ پر، مشرکین مکہ یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ محمد نے ہم پر جادو کر دیا ہے، اس پر کچھ لوگوں نے کہا اگر انہوں نے ہم پر جادو کر دیا ہے تو ان میں اتنی طاقت تو نہیں ہے کہ وہ سب ہی لوگوں پر جادو کر دیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16750]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، حصين بن عبدالرحمن لم يسمع هذا الحديث من محمد ابن جبير، وله أصل فى الصحيحين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں