🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

465. حَدِیث عَمرِو بنِ عَبَسَةَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ حُوَيٍّ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ رَجُلٍ أَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: كَيْفَ الْحَدِيثُ الَّذِي حَدَّثْتَنِي عَنِ الصُّنَابِحِيِّ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي الصُّنَابِحِيُّ ، أَنَّهُ لَقِيَ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ ، فَقَالَ: هَلْ مِنْ حَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا زِيَادَةَ فِيهِ وَلَا نُقْصَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَلَغَ أَوْ قَصَّرَ كَانَ عِدْلَ رَقَبَةٍ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
صنانجی نے ایک مرتبہ حضرت عمرو بن عبسہ سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی اضافہ یا بھول چوک نہ ہو، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرائے اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لیے جہنم سے آزادی کا پروانہ بن جائے گا اور جو شخص راہ خدا میں بوڑھا ہو جائے تو وہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے باعث نور ہو گا اور جو شخص کوئی تیر پھینکے خواہ وہ نشانے پر لگے یا چوک جائے،، تو یہ ایسے ہے جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی غلام کو آزاد کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17024]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن الصنابحي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17025
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ، وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلَادِهِمْ حَتَّى يَنْقَضِيَ الْعَهْدُ فَيَغْزُوَهُمْ، فَجَعَلَ رَجُلٌ عَلَى دَابَّةٍ، يَقُولُ: وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ، وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ، فَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ، فَلَا يَحِلَّ عُقْدَةً، وَلَا يَشُدَّهَا حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهَا أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ" ، فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ.
سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فوج کو لے کر ارض روم کی طرف چل پڑے , حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان طے شدہ معاہدے کی مدت ابھی باقی تھی، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ ان کے قریب پہنچ کر رک جاتے ہیں, جوں ہی مدت ختم ہو گی، ان سے جنگ شروع کر دیں گے۔ لیکن دیکھا کیا کہ ایک شیخ سواری پر سوار یہ کہتے جا رہے ہیں، وعدہ پورا کیا جائے عہد شکنی نہ کی جائے , نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس شخص کا کسی قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو تو اسے مدت گزرنے سے پہلے یا ان کی طرف سے عہد شکنی سے پہلے اس کی گرہ کھولنی اور بند نہیں کرنی چاہیے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ واپس لوٹ گئے اور پتہ چلا کہ وہ شیخ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17025]

حکم دارالسلام: حديث صحيح بشاهده، وهذا إسناد منقطع بين سليم بن عامر وبين عمرو بن عبسة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17026
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَسْلَمَ؟ قَالَ: " حُرٌّ وَعَبْدٌ" . قَالَ: قَالَ: فَقُلْتُ: وَهَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ أُخْرَى؟ قَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ انْهَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَمَا دَامَتْ كَأَنَّهَا حَجَفَةٌ حَتَّى تَنْتَشِرَ، ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَك، حَتَّى يَقُومَ الْعَمُودُ عَلَى ظِلِّهِ، ثُمَّ انْهَهُ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ لِنِصْفِ النَّهَارِ، ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ انْهَهُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَتَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ، خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ بَيْنِ ذِرَاعَيْهِ وَرَأْسِهِ، وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ، خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانَ هُوَ وَقَلْبُهُ وَوَجْهُهُ أَوْ كلمة نَحْوَ الْوَجْهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، انْصَرَفَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ، أَوْ عَشْرًا، أَوْ عِشْرِينَ مَا حَدَّثْتُ بِهِ.
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ پر کون لوگ اسلام لائے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آزاد بھی اور غلام بھی (حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کو جو علم دیا ہے اس میں سے کچھ بھی سکھا دیجئے؟ کیا کوئی وقت زیادہ افضل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کا آخری پہر سب سے زیادہ افضل ہے، اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور نماز قبول ہوتی ہے، جب تم فجر کی نماز پڑھ چکو تو طلوع آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ جب سورج طلوع ہو جائے تب بھی اس وقت تک نہ پڑھو جب تک کہ سورج بلند نہ ہو جائے کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں البتہ جب وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہو جائے تو پھر نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ یہ نماز فرشتوں کی حاضری والی ہوتی ہے یہاں تک کہ نیزے کا سایہ پیدا ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کو دہکایا جاتا ہے البتہ جب سایہ ڈھل جائے تو تم نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اسے اس وقت کفار سجدہ کرتے ہیں انسان جب وضو کرتا ہے اور ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں جب چہرہ دھوتا ہے تو چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں جب بازو دھوتا ہے اور سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے بازو اور سر کے گناہ جھڑ جاتے ہیں جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب دل اور چہرے کی مکمل توجہ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس طرح واپس لوٹتا ہے کہ اس کی ماں نے اسے ابھی جنم دیا ہو، کسی نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دو نہیں, بیس مرتبہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو کبھی بیان نہ کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17026]

حکم دارالسلام: ضعيف بهذه السياقة، وهذا إسناد مضطرب، يزيد بن طلق مجهول، وعبدالرحمن ابن البيلماني ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17027
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ"، قَالَ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الْإِيمَانُ"، قَالَ: وَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ:" تُؤْمِنُ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ"، قَالَ: فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الْهِجْرَةُ"، قَالَ: فَمَا الْهِجْرَةُ؟ قَالَ:" تَهْجُرُ السُّوءَ"، قَالَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الْجِهَادُ"، قَالَ: وَمَا الْجِهَادُ؟ قَالَ:" أَنْ تُقَاتِلَ الْكُفَّارَ إِذَا لَقِيتَهُمْ"، قَالَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ" . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثُمَّ عَمَلَانِ هُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِهِمَا حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ أَوْ عُمْرَةٌ" .
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ فرمایا:تمہارا دل اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور مسلمان تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ سے محفوظ رہیں، اس نے پوچھا: سب سے افضل اسلام کون سا ہے؟ فرمایا: ایمان! اس نے پوچھا: ایمان سے کیا مراد ہے؟ فرمایا کہ اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں، پیغمبروں اور مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین رکھو، اس نے پوچھا کہ سب سے افضل ایمان کیا ہے؟ فرمایا: ہجرت، اس نے پھر پوچھا کہ ہجرت سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: گناہ چھوڑ دو، اس نے پوچھا: سب سے افضل ہجرت کیا ہے؟ فرمایا: جہاد، اس نے پوچھا: جہاد سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: کفار سے آمنا سامنا ہونے پر قتال کرنا، اس نے پوچھا کہ سب سے افضل جہاد کیا ہے؟ فرمایا: جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس شخص کا اپنا خون بہا دیا جائے، پھر فرمایا: اس کے بعد دو عمل سب سے افضل ہیں الا یہ کہ کوئی شخص وہی عمل کرے ایک حج مقبول اور دوسرا عمرہ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17027]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين أبى قلابة وبين عمرو ابن عبسة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17028
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: " حُرٌّ وَعَبْدٌ" وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَبِلَالٌ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ حَتَّى يُمَكِّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ"، قَالَ: وَكَانَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي، وَإِنِّي لَرُبُعُ الْإِسْلَامِ .
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے ساتھ اس دین پر اور کون لوگ ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آذاد بھی اور غلام بھی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی قوم میں واپس چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو غلبہ عطاء فرما دے، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب میں چوتھائی اسلام تھا، (اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھا فرد)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17028]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه اضطراب، يزيد بن طلق مجهول، وعبدالرحمن بن البيلماني ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں