مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
544. حَدِیث عَبدِ اللَّهِ بنِ بسر المَازِنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17692
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عَيّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحِمْيري ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بَيْتَ قَوْمٍ، أَتَاهُ مِمَّا يَلِي جِدَارَهُ، وَلَا يَأْتِي مُسْتَقْبِلًا بَابَهُ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے گھر تشریف لے جاتے تو دیوار کی آڑ میں کھڑے ہوتے، دروازے کے بالکل سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17692]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17693
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحَبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ أُمَّتِي مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالُوا: وَكَيْفَ تَعْرِفُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَثْرَةِ الْخَلَائِقِ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ دَخَلْتَ صَبْرَةً فِيهَا خَيْلٌ دُهْمٌ بُهْمٌ، وَفِيهَا فَرَسٌ أَغَرُّ مُحَجَّلٌ، أَمَا كُنْتَ تَعْرِفُهُ مِنْهَا؟" قَالَ: بَلَى. قَالَ: فَإِنَّ أُمَّتِي يَوْمَئِذٍ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ، مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں قیامت کے دن اپنے ہر امتی کو پہچان لوں گا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کے اتنے بڑے ہجوم میں آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تم کسی اصطبل میں داخل ہو جہاں کالے سیاہ گھوڑے بندھے ہوئے ہوں اور ان میں ایک گھوڑے کی پیشانی روشن چمکدار ہو اور سفید ہو تو کیا تم اسے ان گھوڑوں میں پہچان سکو گے؟ انہوں نے جواب دیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح اس دن میرے امتیوں کی پیشانیاں سجدوں کی وجہ سے روشن اور وضو کی وجہ سے ان کے اعضاء چمک رہے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17693]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17694
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصَبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ الْبَابَ يَسْتَأْذِنُ، لَمْ يَسْتَقْبِلْهُ، يَقُولُ: يَمْشِي مَعَ الْحَائِطِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهُ، أَوْ يَنْصَرِفَ .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے گھر تشریف لے جاتے تو دیوار کی آڑ میں کھڑے ہوتے، دروازے کے بالکل سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے پھر اجازت طلب کرتے، اگر اجازت مل جاتی تو اندر چلے جاتے ورنہ واپس چلے جاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17694]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17695
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، قَالَ: فَقَرَّبْنَا لَهُ طَعَامًا وَوَطْبَةً، فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ، فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بِإِصْبُعَيْهِ يَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى قَالَ شُعْبَةُ: هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبِي: وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ" . حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَهُمْ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ.
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں آئے، انہوں نے کھانا، حلوہ اور ستو لا کر پیش کئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر پانی پیش کیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمالیا اور دائیں جانب والے کو دے دیا، انہوں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17695]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2042
حدیث نمبر: 17696
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَهُمْ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2042، لكن ذكر بسر بن عبدالله فى الإسناد غير محفوظ
حدیث نمبر: 17697
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: " اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی (لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا) آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی اور دیر سے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17697]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17698
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ ، يَقُولُ: جَاءَ أَعْرَابِيَّانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَمُرْنِي بِأَمْرٍ أَتَثَبَّتُ بِهِ. فَقَالَ:" لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا من ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان میں سے ایک نے پوچھا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل اچھا ہو، دوسرے نے کہا کہ احکام اسلام تو بہت زیادہ ہیں، کوئی ایسی جامع بات بتا دیجئے جسے ہم مضبوطی سے تھام لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17698]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17699
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْخًا؟ قَالَ": كَانَ أَشَبَّ مِنْ ذَلِكَ، وَلَكِنْ كَانَ فِي لِحْيَتِهِ وَرُبَّمَا قَالَ: فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ .
حضرت حریز بن عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17699]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح