مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
548. حَدِيثُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17741
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَأَصَبْنَا بِهَا حُمُرًا مِنْ حُمُرِ الْإِنْسِ، فَذَبَحْنَاهَا، قَالَ: فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَنَادَى فِي النَّاسِ: " أَنَّ لُحُومَ الحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ لَا تَحِلُّ لِمَنْ شَهِدَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ"، قَالَ: وَوَجَدْنَا فِي جِنَانِهَا بَصَلًا وَثُومًا، وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَجَهِدُوا فَرَاحُوا، فَإِذَا رِيحُ الْمَسْجِدِ بَصَلٌ وَثُومٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ، فَلَا يَقْرَبْنَا"، وَقَالَ:" لَا تَحِلُّ النُّهْبَى، وَلَا يَحِلُّ كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ خیبر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی ہے، لوگ بھوکے تھے، ہمیں کچھ پالتو گدھے ہاتھ لگے، ہم نے انہیں ذبح کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں منادی کردی کہ جو شخص میرے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہے، اس کے لئے پالتو گدھوں کا گوشت حلال نہیں ہے، ہم نے وہاں کے باغات میں لہسن اور پیاز پایا، لوگ چونکہ بھوکے تھے اس لئے انہوں نے اسے نکالا اور کھانے لگے، جب وہ مسجد میں آئے تو مسجد میں لہسن اور پیاز کی بو بسی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ گندی سبزی کھائے، وہ ہمارے قریب نہ آئے، لوٹ مار کا جانور حلال نہیں ہے، کچلی سے شکار کرنے والا کوئی جانور اور نشانہ بنایا ہوا کوئی جانور حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17741]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بقية بن الوليد مدلس ، وقد عنعن ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17742
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي، وَيُحَرَّمُ عَلَيَّ، قَالَ: فَصَعَّدَ فِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَوَّبَ فِيَّ النَّظَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ: " الْبِرُّ مَا سَكَنَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالْإِثْمُ مَا لَمْ تَسْكُنْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَلَمْ يَطْمَئِنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ" وَقَالَ: " لَا تَقْرَبْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا ذَا نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ کون سی چیزیں میرے لئے حلال اور کون سی چیزیں حرام ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا اور فرمایا کہ نیکی وہ ہوتی ہے جسے کر کے نفس کو سکون اور دل کو اطمینان نصیب ہو اور گناہ وہ ہوتا ہے جس میں نفس کو سکون ملتا ہے اور نہ ہی دل کو اطمینان، اگرچہ مفتی فتوے دیتے رہیں اور فرمایا پالتو گدھوں کے گوشت اور کچلی سے شکار کرنے والے کسی درندے کے قریب بھی نہ جانا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17742]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17743
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحَبُّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبُكُمْ مِنِّي، مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي، مَسَاوِئكُمْ أَخْلَاقًا، الثَّرْثَارُونَ، الْمُتَشَدِّقُونَ، الْمُتَفَيْهِقُونَ" .
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب اچھے اخلاق والے ہوں گے اور میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مبغوض اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ دور بداخلاق، بیہودہ گو، پھیلا کر لمبی بات کرنے والے اور جبڑا کھول کر بتکلف بولنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17743]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يسمع من ابي ثعلبة
حدیث نمبر: 17744
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ، فَغَابَ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَأَدْرَكْتَهُ، فَكُلْ مَا لَمْ يُنْتِنْ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی جانور پر تیر چلاؤ اور وہ شکار تین دن تک تمہیں نہ ملے، تین دن کے بعد ملے تو اگر اس میں بدبو پیدا نہ ہوئی ہو تو تم اسے کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17744]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1931
حدیث نمبر: 17745
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أبو الْعَلَاءِ بْنُ زَبْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي مِمَّا يُحَرَّمُ عَلَيَّ. قَالَ: فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَ، ثُمَّ قَالَ:" نُوَيْبِتَةٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ، أَمْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟ قَالَ:" بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ، لَا تَأْكُلْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" ..
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ کون سی چیزیں میرے لئے حلال اور کون سی چیزیں حرام ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا اور فرمایا کہ چھوٹی سی خبر ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم خیر کی خبر ہے یا شر کی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر کی، پھر فرمایا پالتو گدھوں کے گوشت اور کچلی سے شکار کرنے والے کسی درندے کا گوشت نہ کھانا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17745]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17746
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، مِثْلَ ذَلِكَ.
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17747
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ قَالَ:" حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں سے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17747]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17748
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ، ثُمَّ صَوَّبَهُ، فَقَالَ:" نُوَيْبِتَةٌ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟ قَالَ:" بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا فِي أَرْضِ صَيْدٍ، فَأُرْسِلُ كَلْبِي الْمُعَلَّمَ، فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَأَرْمِي بِسَهْمِي، فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ يَدُكَ وَقَوْسُكَ وَكَلْبُكَ الْمُعَلَّمُ، ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِيٍّ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسم نے مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوٹی سی خبر ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم خیر کی خبر ہے یا بری خبر؟ فرمایا خیر کی، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں، میں اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں تو کبھی جانور کو ذبح کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور کبھی نہیں (شکار تک میرے پہنچنے سے پہلے، وہ مرچکا ہوتا ہے) اسی طرح میں تیر چھوڑتا ہوں، تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے، میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا ہاتھ، کمان اور سدھایا ہوا کتا تمہارے پاس جو چیز شکار کر کے لے آئے خواہ اسے ذبح کرنے کا موقع ملا ہو یا نہیں، تم اسے کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17748]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1931
حدیث نمبر: 17749
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أُصْبَعِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَقْرَعُ يَدَهُ بِعُودٍ مَعَهُ، فَغَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَأَخَذَ الْخَاتَمَ، فَرَمَى بِهِ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرَهُ فِي أُصْبَعِهِ، فَقَالَ: " مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی سے ان کے ہاتھ کو ہلانے لگے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ جب نظر پڑی تو انگلی میں انگوٹھی نظر نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں تکلیف دی اور مقروض بنادیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17749]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف النعمان بن راشد ، وقد خولف
حدیث نمبر: 17750
حَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَعَفَّانُ ، وَهَذَا لَفْظُ مُهَنَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ، أَفَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ، وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا فِيهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذَكِّ وَكُلْ، وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَقَتَلَ، فَكُلْ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں اور ان کے برتنوں میں پی سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہ ملیں تو انہی کو دھو کر کھانا پکا سکتے ہو، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں، ہم کیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑو اور تم نے اس پر اللہ کا نام بھی لیا ہو اور وہ اسے مار دے تو تم اسے کھالو اور اگر وہ سدھایا ہوا نہ ہو تو تم شکار کو ذبح کرلو اور کھالو، اسی طرح جب تم اللہ کا نام لے کر تیر مارو اور وہ تیر اسے مار دے تو تم اسے بھی کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17750]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح