مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
572. حَدِيثُ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17860
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ دُلْجَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ الْحَكَمَ الْغِفَارِيّ قَالَ: لِرَجُلٍ، أَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَذْكُرُ حِينَ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ، أَوْ أَحَدِهِمَا، وَعَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ" ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، قَالَ: سَمِعْتُ عَارِمًا يَقُولُ: تَدْرُونَ لِمَ سُمِّيَ دُلْجَةَ؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: أَدْلَجُوا بِهِ إِلَى مَكَّةَ، فَوَضَعَتْهُ أُمُّهُ فِي الدُّلْجَةِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، فَسُمِّيَ دُلْجَةَ.
حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا کہ کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر اور مقیر (یا ان میں سے کسی ایک سے) اور دباء اور حنتم سے منع فرمایا تھا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس پر گواہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17860]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناده ضعيف لجهالة دلجة بن قيس، وقد توبع
حدیث نمبر: 17861
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ : قُلْتُ: لِأَبِي الشَّعْثَاءِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ" ، قَالَ: يَا عَمْرُو، أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ، وَقَرَأَ: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ سورة الأنعام آية 145 يَا عَمْرُو أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ، قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ . يَعْنِي بقوله: أَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا الْبَحْرُ ابْنُ عَبَّاسٍ.
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابو الشعثاء سے پوچھا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرمائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمرو! بحر علم (یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کا انکار کرتے ہیں اور انہوں نے یہ آیت پڑھی، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرما دیجئے کہ مجھ پر جو وحی بھیجی گئی ہے اس کی روشنی میں میں کسی کھانے والے کے لئے کوئی چیز حرام نہیں پاتا الاّ یہ کہ۔۔۔۔۔۔ البتہ حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17861]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5529
حدیث نمبر: 17862
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ دُلْجَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ، أَوْ قَالَ الْحَكَمُ لِرَجُلٍ: أَتَذْكُرُ يَوْمَ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ، أَوْ أَحَدِهِمَا، وَعَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ" ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ.
حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا کہ کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر اور مقیر (یا ان میں سے کسی ایک سے) اور دباء اور حنتم سے منع فرمایا تھا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس پر گواہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17862]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة دلجة بن قيس، وقد توبع
حدیث نمبر: 17863
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ سُؤْرِ الْمَرْأَةِ" .
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے چھوڑے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17863]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وقد أعل بالوقف، وهذا الحديث يعارضه حديث الصحابة حيث رووا جواز الوضوء أو الاغتسال بفضل المرأة
حدیث نمبر: 17864
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ ، عَنْ دُلَجَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ الْحَكَمَ الْغِفَارِيّ قَالَ لِرَجُلٍ مَرَّةً: أَتَذْكُرُ إِذْ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُقَيَّرِ وَالنَّقِيرِ" ؟ قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ، وَلَمْ يَذْكُرْ الْمُقَيَّرَ، أَوْ ذَكَرَ النَّقِيرَ، أَوْ ذَكَرَهُمَا جَمِيعًا.
حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا کہ کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر اور مقیر (یا ان میں سے کسی ایک سے) اور دباء اور حنتم سے منع فرمایا تھا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس پر گواہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17864]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة دلجة بن قيس
حدیث نمبر: 17865
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ ، عَنِ الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ بِفَضْلِهَا، لَا يَدْرِي بِفَضْلِ وَضُوئِهَا، أَوْ فَضْلِ سُؤْرِهَا" .
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے چھوڑے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ معلوم نہیں کہ چھوڑے ہوئے سے مراد وضو سے بچا ہوا پانی ہے یا پی کر بچ جانے والا پانی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17865]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وقد أعل بالوقف، وهذا الحديث يعارضه حديث الصحابة حيث رووا جواز الوضوء أو الاغتسال بفضل المرأة