🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

582. حَدِيثُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17907
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيَّ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ خُصَيْفَةَ ، عَن عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذَهُ وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُبْطِلُهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" ضَعْ يَمِينَكَ عَلَى مَكَانِكَ الَّذِي تَشْتَكِي، فَامْسَحْ بِهَا سَبْعَ مَرَّاتٍ"، وَقُلْ: " أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ، فِي كُلِّ مَسْحَةٍ" .
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے ایسی تکلیف ہوئی جس نے مجھے موت کے قریب پہنچا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے تشریف لائے اور فرمایا اپنے دائیں ہاتھ کو تکلیف کی جگہ پر رکھ کر سات مرتبہ یوں کہو اعوذ بعزۃ اللہ وقدرتہ من شر ما اجد (میں نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے میری تکلیف کو دور کردیا)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17907]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17908
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، عَن ابْنِ إِسْحَاقَ يَعْنِي مُحَمَّدًا ، عَنْ عُبَيِدِ اللَّهِ، أَوْ عُبَدِ اللَّهِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ كَرِيزٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: دُعِيَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ إِلَى خِتَانٍ، فَأَبَى أَنْ يُجِيبَ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّا كُنَّا لَا نَأْتِي الْخِتَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُدْعَى لَهُ" .
حسن رحمہ اللہ وسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو کسی بچے کے ختنہ کے موقع پر بلایا گیا، انہوں نے آنے سے انکار کردیا، کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لوگ ایسے مواقع پر جاتے تھے اور نہ ہی کوئی ہمیں بلاتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17908]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وسماع الحسن البصري من عثمان مختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17909
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَن أَبِي الْعَلَاءِ ، عَن مُطَرِّفٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، فَأَمَرَ لِي بِلَبَنِ لِقْحَةٍ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ. وَصِيَامٌ حَسَنٌ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ" .
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے روزہ اسی طرح کی ڈھال ہے جیسے میدان جنگ میں تم ڈھال استعمال کرتے ہو۔ بہترین روزہ ہر مہینے میں تین دن ہوتے ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طائف بھیجتے وقت سب سے آخر میں جو وصیت کی تھی وہ یہ تھی کہ اے عثمان! نماز مختصر پڑھانا کیونکہ لوگوں میں بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17909]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17910
قَالَ: قَالَ: وَكَانَ آخِرُ شَيْءٍ عَهِدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَنْ قَالَ: " جَوِّزْ فِي صَلَاتِكَ وَاقْدُرْ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ مِنْهُمْ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ، وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ" ..

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 468
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17911
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن الْجُرَيْرِيِّ ، عَن أَبِي الْعَلَاءِ ، عَن مُطَرِّفٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17912
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ ابْنَ عَامِرٍ اسْتَعْمَلَ كِلَابَ بْنَ أُمَيَّةَ عَلَى الَأَبْلَةِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ فِي أَرْضِهِ، فَأَتَاهُ عُثْمَانُ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ: يَقُولُ:" إِنَّ اللَّيْلِ سَاعَةً تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ يُنَادِي مُنَادٍ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ". قَالَا جَمِيعًا:" وَإِنَّ دَاوُدَ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: لَا يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحَدٌ شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَاحِرًا أَوْ عَشَّارًا" . فَدَعَا كِلَابٌ بِقُرْقُورٍ، فَرَكِبَ فِيهِ وَانْحَدَرَ إِلَى ابْنِ عَامِرٍ، فَقَالَ: دُونَكَ عَمَلَكَ. قَالَ: لِمَ؟ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بِكَذَا وَكَذَا.
احسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عامر نے ایلہ پر کلاب بن امیہ کو عامل مقرر کردیا، اس وقت حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ اپنی زمین میں تھے، وہ کلاب کے پاس پہنچے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رات کے وقت ایک گھڑی ایسی آتی ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطاء کروں؟ ہے کوئی دعاء کرنے والا کہ میں قبول کرلوں؟ ہے کوئی اپنے گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کر دوں؟ راوی مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ داود ایک مرتبہ رات کے وقت نکلے اور کہنے لگے کہ جو شخص بھی اللہ سے کوئی سوال کرے گا، اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرما دے گا الاّ یہ کہ وہ جادو گر ہو یا ٹیکس وصول کرنے والا ہو، یہ حدیث سن کر کلاب نے اپنی سواری منگوائی، اس پر سوار ہو کر ابن عامر کے پاس پہنچے اور اس سے کہا کہ اپنا عہدہ سنبھال لو، اس نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ ہمیں حضرت عثمان بن العاص رضی اللہ عنہ نے ایسی حدیث سنائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17912]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، وسماع الحسن من عثمان مختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17913
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَهُمْ الْمَسْجِدَ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُحْشَرُوا وَلَا يُعْشَرُوا وَلَا يُجَبُّوا، وَلَا يُسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ غَيْرُهُمْ. قَالَ: فَقَالَ: " إِنَّ لَكُمْ أَنْ لَا تُحْشَرُوا، وَلَا تُعْشَرُوا، وَلَا يُسْتَعْمَلَ عَلَيْكُمْ غَيْرُكُمْ" . وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا خَيْرَ فِي دِينٍ لَا رُكُوعَ فِيهِ" . قَالَ: وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي الْقُرْآنَ، وَاجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي.
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ثقیف کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوجائیں، انہوں نے قبول اسلام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شرائط رکھیں کہ وہ جہاد میں شرکت نہیں کریں گے، زکوٰۃ نہیں دیں گے، نماز نہیں پڑھیں گے اور باہر کے کسی آدمی کو ان کا امیر مقرر نہیں کیا جائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری یہ شرط قبول ہے کہ تمہیں جہاد کے لئے نہیں بلایا جائے گا، تم سے (سال گذرنے سے پہلے یا صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں) زکوٰۃ بھی وصول نہیں کی جائے گی اور باہر کے کسی آدمی کو تم پر امیر بھی مقرر نہیں کیا جائے گا۔ 18075۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں رکوع (نماز) نہ ہو۔ 18076۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قرآن سکھا دیجئے اور مجھے میری قوم کا امام مقرر کر دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17913]

حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير أن فى سماع الحسن من عثمان اختلاف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17914
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّ آخِرَ مَا فَارَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتَ بِقَوْمٍ، فَخَفِّفْ بِهِمْ" حَتَّى وَقَّتَ لِي اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ .
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آخری مرتبہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو ہلکی پڑاؤ، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے سورت اقرأ باسم ربک الذی خلق کی مقدار متعین فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17914]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17915
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُنَادِي كُلَّ لَيْلَةٍ مُنَادٍ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟" .
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا ہر رات ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے اور میں اس کی دعاء قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطاء کروں؟ یہ اعلان صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے اور کون ہے جو مجھ سے معافی مانگے کہ میں اسے معاف کر دوں؟ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17915]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، وسماع الحسن البصري من عثمان مختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17916
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُثَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّ آخِرَ كَلَامٍ كَلَّمَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ اسْتَعْمَلَنِي عَلَى الطَّائِفِ، فَقَالَ: " خَفِّفْ الصَّلَاةَ عَلَى النَّاسِ" حَتَّى وَقَّتَ لِي اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ وَأَشْبَاهَهَا مِنَ الْقُرْآنِ .
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آخری مرتبہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو ہلکی پڑھاؤ، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے سورت اقرأ باسم ربک الذی خلق کی مقدار متعین فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17916]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں