🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

596. حَدِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17958
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أُمَيَّةُ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، فَقَدْ انْقَطَعَتْ الْهِجْرَةُ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں اور میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں، کیونکہ ہجرت کی فرضیت ختم ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17958]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن عبدالرحمن وأبوه مجهولان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17959
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُيَيِّ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ يَعْلَى يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَوْ قِيلَ لَهُ: أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ؟ قَالَ يَعْلَى : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ" . قَالَ لَهُ يَعْلَى: فَأَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَنْتَ فِي أَمْرِ اللَّهِ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ لَاهٍ.
حیی بن یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو طلوع آفتاب سے قبل نفلی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، ایک آدمی نے یہ دیکھ کر کہا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو کر طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اس دوران اگر تم کسی عبادت میں مصروف ہو، یہ اس سے بہتر ہے کہ سورج طلوع ہو اور تم غافل ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17959]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن حيي وأبوه مجهولان. وقد صح عن النبى صلى الله عليه وسلم قوله: لا تتحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها، فإنها تطلع بين قرني شيطان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17960
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُيَيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ" . قَالُوا لِيَعْلَى:، فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا سورة الكهف آية 29 قَالَ: لَا، وَالَّذِي نَفْسُ يَعْلَى بِيَدِهِ، لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سمندر جہنم ہے لوگوں نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں پڑھا، نارا احاط بہم سرادقہا، پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں یعلی کی جان ہے، میں اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گا، جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ ہوجاؤ اور اس کا ایک قطرہ بھی مجھے نہیں چھو سکتا جب تک میں اللہ سے ملاقات نہ کرلوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17960]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن حيي مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17961
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ:" وَنَادَوْا يَا مَالِكُ سورة الزخرف آية 77" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ آیت تلاوت فرماتے ہوئے سنا، " وَنَادَوْا يَا مَالِكُ "۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17961]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3230، م: 871
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17962
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ابْنِ أَخِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، وَقَدْ انْقَطَعَتْ الْهِجْرَةُ" ..
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں اور میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں، کیونکہ ہجرت کی فرضیت ختم ہوگئی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17962]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عمرو ابن عبدالرحمن وأبوه مجهولان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17963

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمرو بن عبدالرحمن وأبوه مجهولان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17964
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، وَعَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ فِيمَا تَرَى، وَالنَّاسُ يَسْخَرُونَ مِنِّي، وَأَطْرَقَ هُنَيْهَةً، قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ: " اخْلَعْ عَنْكَ هَذِهِ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا الزَّعْفَرَانَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تھا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا، اس نے آکر پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ میں نے کس طرح احرام باندھا ہوا ہے اور لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہیں، اس شخص کے بارے آپ کی کیا رائے ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگانے کے بعد ایک جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے سوچا پھر خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17964]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1536، م: 1180، وروي عن عطاء، عن صفوان، عن أبيه يعلى، أي: بواسطة صفوان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17965
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ، وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، قَالَ: " انْزِعْ هَذِهِ وَاغْتَسِلْ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تھا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17965]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1536، م: 1180
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17966
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، وَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَانْتَزَعَ أُصْبُعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: " أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا؟!" قَالَ أَحْسَبُهُ:" كَمَا يَقْضِمُ الْفَحْلُ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھا، میرے نزدیک یہ انتہائی مضبوط عمل ہے، راستے میں میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گرگیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17966]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2265، م: 1674
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17967
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عُمَرَ فِي سَفَرٍ، وَأَنَّهُ طَلَبَ إِلَى عُمَرَ أَنْ يُرِيَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُزِّلَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَعَلَيْهِ سِتْرٌ، مَسْتُورٌ مِنَ الشَّمْسِ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ، وَعَلَيْهَا رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ، وَإِنَّ النَّاسَ يَسْخَرُونَ مِنِّي، فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْمَأَ إِلَيَّ عُمَرُ بِيَدِهِ، فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُمْ فِي السِّتْرِ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرٌّ وَجْنَتَاهُ، لَهُ غَطِيطٌ، سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَجَلَسَ فَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟" فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ:" انْزِعْ جُبَّتَكَ هَذِهِ عَنْكَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ إِذَا أَحْرَمْتَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ" .
صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ کو نزول وحی کی کیفیت میں دیکھ پاتا، ایک مرتبہ وہ جعرانہ میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ تھے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اسی دوران ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا، اس نے آکر پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے بارے آپ کی کیا رائے ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگانے کے بعد ایک جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے سوچا پھر خاموش ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بلایا، وہ آئے اور اپنا سر خیمے میں داخل کردیا، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور سرخ ہو رہا ہے، کچھ دیر تک اسی طرح سانس کی آواز آتی رہی، پھر وہ کیفیت ختم ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص کہاں گیا جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ اس آدمی کو تلاش کر کے لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17967]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1536، م: 1180
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں