🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ:
باب: عذاب قبر سے پناہ مانگنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6364
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ، قَالَ: وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا، قَالَتْ:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہما سے سنا (موسیٰ نے) بیان کیا کہ میں نے کسی سے نہیں سنا کہ ان کی بیان کی ہوئی حدیث سے مختلف کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6364]
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے سنا۔ انہوں نے (یہ بھی) کہا: میں نے ام خالد رضی اللہ عنہا کے علاوہ اور کسی ایسے شخص سے، جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو، نہیں سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عذابِ قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6364]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6365
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ مُصْعَبٍ، كَانَ سَعْدٌ يَأْمُرُ بِخَمْسٍ وَيَذْكُرُهُنّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِهِنَّ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا يَعْنِي فِتْنَةَ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص نے کہ سعد رضی اللہ عنہ پانچ باتوں کا حکم دیتے تھے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ذکر کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پناہ مانگنے کا حکم کرتے تھے کہ «اللهم إني أعوذ بك من البخل،‏‏‏‏ وأعوذ بك من الجبن،‏‏‏‏ وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر،‏‏‏‏ وأعوذ بك من فتنة الدنيا يعني فتنة الدجال وأعوذ بك من عذاب القبر» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ بدترین بڑھاپا مجھ پر آ جائے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ سے، اس سے مراد دجال کا فتنہ ہے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6365]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ پانچ باتوں کا ذکر کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان (سے پناہ مانگنے) کا حکم دیتے تھے: اے اللہ! میں بخل اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں ذلیل عمر کی طرف لوٹایا جاؤں، نیز دنیا کے فتنے سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اس سے مراد دجال کا فتنہ ہے۔ اور تیرے ذریعے سے عذابِ قبر سے بھی پناہ مانگتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6365]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6366
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتَا لِي: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَجُوزَيْنِ وَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ:" صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا"، فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلَاةٍ، إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ کے یہودیوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبر میں عذاب ہو گا۔ لیکن میں نے انہیں جھٹلایا اور ان کی (بات کی) تصدیق نہیں کر سکی۔ پھر وہ دونوں عورتیں چلی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دو بوڑھی عورتیں تھیں، پھر میں آپ سے واقعہ کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے صحیح کہا، قبر والوں کو عذاب ہو گا اور ان کے عذاب کو تمام چوپائے سنیں گے۔ پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6366]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ یہودِ مدینہ کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھے کہا کہ اہل قبور کو قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ میں نے ان کی تکذیب کی اور ان کی تصدیق کر کے ان کا دل ٹھنڈا نہ کیا۔ چنانچہ وہ میرے پاس سے چلی گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! دو بوڑھی عورتیں آئی تھیں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے۔ بلاشبہ انہیں (اہلِ قبور کو) عذاب ہوتا ہے جو تمام جانور سنتے ہیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں عذابِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6366]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں