مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
695. حَدِيثُ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18827
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ خَلِيفَةَ الْأَحْمَسِيِّ ، عَنْ طَارِقٍ أَنَّ الْمِقْدَادَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاَ، إِنَّا مَعَكُمْ مُقَاتِلُونَ" .
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہہ دیا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم یوں کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑیں ہم بھی آپ کے ساتھ لڑائی میں شریک ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18827]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات، خ: تحت 4609 تعليقاً
حدیث نمبر: 18828
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ" .
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ کون سا جہاد سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18828]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18829
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُعْبَةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَزَوْتُ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ بِضْعًا وَأَرْبَعِينَ أَوْ بِضْعًا وَثَلاَثِينَ مِنْ بَيْنِ غَزْوَةٍ وَسَرِيَّةٍ" . وقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ثَلاَثًا وَثَلَاثِينَ أَوْ ثَلَاَثًا وَأَرْبَعِينَ مِنْ غَزْوَةٍ إِلَى سَرِيَّةٍ.
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تیس، چالیس سے اوپر غزوات وسرایا میں شرکت کی سعادت بھی حاصل کی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18829]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18830
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ: أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ" .
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں رکاب میں رکھے ہوئے تھے " اور کہنے لگا کہ کون ساجہاد سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18830]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18831
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَاَّ وَضَعَ لَهُ شِفَاءً، فَعَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ، فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ كُلِّ الشَّجَرِ" .
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں چھوڑی جس کا علاج نہ ہو، لہٰذا تم گائے کے دودھ کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ وہ ہر درخت سے چارہ حاصل کرتی ہے (اس میں تمام نباتاتی اجزاء شامل ہوتے ہیں) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18831]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على قيس بن مسلم
حدیث نمبر: 18832
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: " أَجْنَبَ رَجُلاَنِ، فَتَيَمَّمَ أَحَدُهُمَا فَصَلَّى، وَلَمْ يُصَلِّ الَآْخَرُ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبْ عَلَيْهِمَا" .
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں پر غسل واجب ہوگیا ان میں سے ایک نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی اور دوسرے نے پانی نہ ملنے کی وجہ سے نماز نہ پڑھی وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کو بھی مطعون نہیں کیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18832]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ بَجِيلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْسُوا الْبَجَلِيِّينَ، وَابْدَءوا بِالأْحْمَسِيِّينَ"، قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ، قَالَ: حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَدَعَا لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ مَرَّاتٍ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ" أَوْ" اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمْ" . مُخَارِقٌ الَّذِي يَشُكُّ.
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بجیلہ " کا وفد آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا بجیلہ والوں کو لباس پہناؤ اور اس کا آغاز " احمس " والوں سے کرو قبیلہ قیس کا ایک آدمی پیچھے رہ گیا جو یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعاء فرماتے ہیں اس کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ مرتبہ ان کے لئے اللہم صل علیہم کہہ کر دعاء فرمائی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18833]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18834
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ أَحْمَسَ، وَوَفْدُ قَيْسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْدَءوا بِالأحْمَسِيِّينَ قَبْلَ الْقَيْسِيِّينَ" ثُمَّ دَعَا لأِحْمَسَ، فَقَال:" اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي أَحْمَسَ وَخَيْلِهَا وَرِجَالِهَا" . سَبْعَ مَرَّاتٍ.
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بجیلہ " کا وفد آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا بجلیہ والوں کو لباس پہناؤ اور اس کا آغاز " احمس " والوں سے کرو قبیلہ قیس کا ایک آدمی پیچھے رہ گیا جو یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعاء فرماتے ہیں اس کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ مرتبہ ان کے لئے اللہم صل علیہم کہہ کر دعاء فرمائی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18834]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18835
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَزَوْتُ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثَلاَثًا وَثَلَاثِينَ أَوْ ثَلَاَثًا وَأَرْبَعِينَ مِنْ غَزْوَةٍ إِلَى سَرِيَّةٍ" .
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تیس، چالیس سے اوپر غزوات و سرایا میں شرکت کی سعادت بھی حاصل کی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18835]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح