🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

787. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19405
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، صَلَّى عَلَيْهِمْ، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى" .
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہم صل علی آل ابی اوفی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19405]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1497، م: 1078
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19406
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بنِ أَبِي أَوْفَى : هَلْ بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبٌ فِيهِ وَلَا نَصَبٌ .
اسماعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت میں لکڑی کے ایک محل کی خوشخبری دی تھی جس میں کوئی شوروشغب ہوگا اور نہ ہی کوئی تعب۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19406]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1792، م: 2433
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19407
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ،، وَجَعَلْنَا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ، أَوْ يُصِيبَهُ بِشَيْءٍ، فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو عَلَى الْأَحْزَابِ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، هَازِمَ الْأَحْزَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ" .
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لئے روانہ ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا پھر باہر نکل کر صفامروہ کے درمیان سعی کی ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مکہ سے بچاکرچل رہے تھے کہ کہیں کوئی مشرک انہیں تیر نہ ماردے یا انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچادے میں نے انہیں مشرکین کے لشکروں کے لئے بدعاء کرتے ہوئے سنا اے کتاب کو نازل کرنے والے اللہ! جلدی حساب لینے والے لشکروں کو شکست دینے والے، انہیں شکست سے ہمکنار فرما اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19407]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2933، م: 1742
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19408
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى : أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ بِالْوَصِيَّةِ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ: قَالَ طَلْحَةُ، وَقَالَ الْهُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ: أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَتَأَمَّرُ عَلَى وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! وَدَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا، فَخُزِمَ أَنْفُهُ بِخِزَامٍ .
طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت فرمائی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، میں نے کہا تو پھر انہوں نے مسلمانوں کو وصیت کا حکم کیسے دے دیا جبکہ خود وصیت کی نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت فرمائی ہے (لیکن کسی کو کوئی خاص وصیت نہیں فرمائی ') [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19408]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2740، م: 1634
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19409
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَبِي إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَمُرْنِي بِمَا يُجْزِئُنِي مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، قَالَ: فَقَالَهَا الرَّجُلُ، وَقَبَضَ كَفَّهُ، وَعَدَّ خَمْسًا مَعَ إِبْهَامِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لِلَّهِ تَعَالَى، فَمَا لِنَفْسِي؟ قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي"، قَالَ: فَقَالَهَا، وَقَبَضَ عَلَى كَفِّهِ الْأُخْرَى، وَعَدَّ خَمْسًا مَعَ إِبْهَامِهِ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ، وَقَدْ قَبَضَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ مَلَأَ كَفَّيْهِ مِنَ الْخَيْرِ" ..
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قرآن کریم کا تھوڑا ساحصہ بھی یاد نہیں کرسکتا، اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جو میرے لئے کافی ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الاباللہ اس نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے میرے لئے کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت عطاء فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور مجھے رزق عطاء فرما، پھر وہ آدمی پلٹ کر چلا گیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے بند کر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو اپنے ہاتھ خیر سے بھر کر چلا گیا۔ حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک غلام (لڑکا) آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ایک یتیم لڑکا ہے جس کی بیوی، ماں اور ایک یتیم بہن ہے آپ ہمیں ان چیزوں میں سے کھلائیے جو اللہ نے آپ کو کھلائی ہیں، اللہ آپ کو اپنے پاس سے اتنا دے کہ آپ راضی ہوجائیں پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! یہاں ایک لڑکا ہے جو قریب المرگ ہے اسے لا الہ الا اللہ کی تلقین کی جارہی ہے لیکن وہ اسے کہہ نہیں پارہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہ اپنی زندگی میں یہ کلمہ نہیں پڑھتا تھا؟ اس نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر موت کے وقت اسے کسی نے روک دیا۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ فائدہ۔ امام احمد کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے یہ دونوں حدیثیں بیان نہیں کی ہیں البتہ کتاب میں لکھ دی تھیں اور انہیں کاٹ دیا تھا کیونکہ انہیں فائد بن عبدالرحمن کی احادیث پر اعتماد نہیں تھا اور ان کے نزدیک وہ متروک الحدیث تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19409]

حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضيعف لضعف إبراهيم السكسكي- يزيد روى عن المسعودي بعد الاختلاط لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19410
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ابْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ غُلَامٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا يَتِيمًا، لَهُ أُمٌّ أَرْمَلَةٌ، وَأُخْتٌ يَتِيمَةٌ، أَطْعِمْنَا مِمَّا أَطْعَمَكَ اللَّهُ تَعَالَى، أَعْطَاكَ اللَّهُ مِمَّا عِنْدَهُ حَتَّى تَرْضَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فائد بن عبدالرحمن ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19411
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ابْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا قَدْ احْتُضِرَ، يُقَالُ لَهُ: قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَهَا، فَقَالَ: " أَلَيْسَ كَانَ يَقُولُ فِي حَيَاتِهِ؟" قَالَ: بَلَى. قَالَ:" فَمَا مَنَعَهُ مِنْهَا عِنْدَ مَوْتِهِ؟" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. فَلَمْ يُحَدِّثُ أَبِي بِهَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ، ضَرَبَ عَلَيْهِمَا مِنْ كِتَابِهِ، لِأَنَّهُ لَمْ يَرْضَ حَدِيثَ فَائِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ عِنْدَهُ مَتْرُوكَ الْحَدِيثِ.

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فائذ بن عبدالرحمن ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19412
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُخْتَارِ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ عَطَشٌ، قَالَ: فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ، فَجَعَلَ يَسْقِي أَصْحَابَهُ، وَجَعَلُوا يَقُولُونَ: اشْرَبْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ"، حَتَّى سَقَاهُمْ كُلَّهُمْ .
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں تھے ہمیں پانی نہیں مل رہا تھا تھوڑی دیر بعد ایک جگہ پانی نظر آگیا لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر آنے لگے جب بھی کوئی آدمی پانی لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے کسی بھی قوم کا ساقی سب سے آخر میں پیتا ہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پی لیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19412]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى المختار الأسدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَدَعَا صَاحِبَ شَرَابِهِ بِشَرَابٍ، فَقَالَ صَاحِبُ شَرَابِهِ: لَوْ أَمْسَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: لَوْ أَمْسَيْتَ. ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ حَلَّ الْإِفْطَارُ" ، أَوْ كَلِمَةً هَذَا مَعْنَاهَا.
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ماہ رمضان میں کسی سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو دن کا کچھ حصہ باقی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر پانی لانے کے لئے فرمایا تین مرتبہ اسی طرح ہوا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہاں سورج غروب ہوجائے اور رات یہاں تک آجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19413]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1941، م: 1101
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19414
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ ابْنُ جُمْهَانَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى نُقَاتِلُ الْخَوَارِجَ، وَقَدْ لَحِقَ غُلَامٌ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى بِالْخَوَارِجِ، فَنَادَيْنَاهُ: يَا فَيْرُوزُ، هَذَا ابْنُ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ هَاجَرَ، قَالَ: مَا يَقُولُ عَدُوُّ اللَّهِ؟ قَالَ: يَقُولُ: نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ هَاجَرَ، فَقَالَ: هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَتِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! يُرَدِّدُهَا ثَلَاثًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ"، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ:" وَقَتَلُوهُ" ثَلَاثًا .
سعید بن جمہان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ خوارج سے قتال کر رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام خوارج سے جاملا وہ لوگ اس طرف تھے اور ہم اس طرف، ہم نے اسے " اے فیروز! اے فیروز! کہہ کر آوازیں دیتے ہوئے کہا ارے کمبخت! تیرے آقا حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ تو یہاں ہیں وہ کہنے لگا کہ وہ اچھے آدمی ہوتے اگر تمہارے یہاں سے ہجرت کر جاتے، انہوں نے پوچھا کہ یہ دشمن اللہ کیا کہہ رہا ہے؟ ہم نے اس کا جملہ ان کے سامنے نقل کیا تو وہ فرمانے لگے کیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرنے والی ہجرت کے بعد دوبارہ ہجرت کروں گا؟ پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو انہیں قتل کرے یا وہ اسے قتل کردیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19414]

حکم دارالسلام: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں