مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
787. حديث عبد الله بن أبى أوفى رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 19408
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى : أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ بِالْوَصِيَّةِ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ: قَالَ طَلْحَةُ، وَقَالَ الْهُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ: أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَتَأَمَّرُ عَلَى وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! وَدَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا، فَخُزِمَ أَنْفُهُ بِخِزَامٍ .
طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت فرمائی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، میں نے کہا تو پھر انہوں نے مسلمانوں کو وصیت کا حکم کیسے دے دیا جبکہ خود وصیت کی نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت فرمائی ہے (لیکن کسی کو کوئی خاص وصیت نہیں فرمائی ') [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19408]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2740، م: 1634
الرواة الحديث:
طلحة بن مصرف الإيامي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي