مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
811. وَمِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 20108
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ٹخنوں تک آگ کی لپیٹ میں ہوں گے، کچھ گھٹنوں تک کچھ سرین تک اور کچھ لوگ ہنسلی تک اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20108]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2845
حدیث نمبر: 20109
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص بعینہ اپنا سامان کسی ایسے شخص کے پاس دیکھے جسے حکومت نے مفلس قرار دے دیا ہو، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20109]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عمر بن إبراهيم فى روايته عن قتادة خاصة ضعف، وقد خولف، وهذا المتن صحيح، لكن من حديث أبى هريرة
حدیث نمبر: 20110
وَعن سمرة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20110]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عمر بن إبراهيم فى روايته عن قتادة خاصة ضعف، وقد خولف
حدیث نمبر: 20111
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَعْتَدِلَ فِي الْجُلُوسِ، وَأَنْ لَا نَسْتَوْفِزَ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ بیٹھنے میں اعتدال سے کام لیں اور بےاطمینانی کے ساتھ نہ بیٹھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20111]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن بشير، والحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20112
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْضُرُوا الْجُمُعَةَ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَخَلَّفُ عَنِ الْجُمُعَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَخَلَّفُ عَنِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِهَا" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز جمعہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب رہا کرو، کیونکہ انسان جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ وہ اس کا مستحق ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20112]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الضعف الحكم بن عبدالملك، والحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20113
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَّةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ، فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ذِمَّتِهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص فجر کی نماز پڑھ لے، وہ اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری کو ہلکا مت سمجھو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20113]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إنساد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20114
حَدَّثَنَا رَوْحٌ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَ الْحَسَنُ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَامُ أَبُو الْعَرَبِ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ، وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ" ، وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ مِنْ حِفْظِهِ:" وَلَدُ نُوحٍ ثَلَاثَةٌ: سَامُ، وحَامٌ، وَيَافِثُ".
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سام اہل عرب کا مورث اعلی ہے، حام حبش کا مورث اعلی ہے اور یافث رومیوں کا مورث اعلی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20114]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20115
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام بھیجے یا اس کی بیع پر اپنی بیع کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20115]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20116
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا نَكَحَ وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ، وَإِذَا بَاعَ اثنانِ فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20116]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا حَمَلَتْ حَوَّاءُ طَافَ بِهَا إِبْلِيسُ، وَكَانَ لَا يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ، فَقَالَ: سَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ، فَإِنَّهُ يَعِيشُ , فَسَمَّوْهُ عَبْدَ الْحَارِثِ، فَعَاشَ، وَكَانَ ذَلِكَ مِنْ وَحْيِ الشَّيْطَانِ، وَأَمْرِهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب حضرت حواء علیہ السلام امید سے ہوئی تو ان کے پاس شیطان آیا، حضرت حواء علیہ السلام کا کوئی بچہ زندہ نہ رہتا تھا، شیطان نے ان سے کہا کہ اپنے بچے کا نام عبد الحارث رکھنا تو وہ زندہ رہے گا، چنانچہ انہوں نے اپنے بچے کا نام عبدالحارث رکھ دیا اور وہ زندہ بھی رہا، یہ شیطان کے وسوسے اور فہمائش پر ہوا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20117]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عمر بن إبراهيم فى روايته عن قتادة ضعف، والحسن لم يصرح بسماعه