مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
811. وَمِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 20098
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنِ الْأَسْقَعِ بْنِ الْأَسْلَعِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا، وہ جہنم کی آگ میں جلے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20098]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20099
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَامُ أَبُو الْعَرَبِ، وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سام اہل عرب کا مورث اعلی ہے، حام اہل حبش کا مورث اعلی ہے اور یافث رومیوں کا مورث اعلی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20099]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20100
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قال: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: وَحَدَّثَ الْحَسَنُ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " سَامُ أَبُو الْعَرَبِ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ، وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سام اہل عرب کا مورث اعلی ہے، حام اہل حبش کا مورث اعلی ہے اور یافث رومیوں کا مورث اعلی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20100]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20101
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رَجُلًا يَسْبَحُ فِي نَهَرٍ وَيُلْقَمُ الْحِجَارَةَ، فَسَأَلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقِيلَ لِي: آكِلُ الرِّبَا" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب معراج میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھروں کا لقمہ دیا جا رہا تھا، میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ سودخور ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20101]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 845، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 20102
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَسَبُ الْمَالُ، وَالْكَرَمُ التَّقْوَى" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلا نے ارشاد فرمایا حسب سے مراد مال و دولت ہے اور کرم سے مراد تقویٰ ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20102]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20103
حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَحُسَيْنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ : وَسَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ٹخنوں تک آگ کی لپیٹ میں ہوں گے، کچھ گھٹنوں تک کچھ سرین تک اور کچھ لوگ ہنسلی کی ہڈی تک اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20103]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2845
حدیث نمبر: 20104
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20104]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الحسن لم يسمعه من سمرة، كما هو مصرح به هنا
حدیث نمبر: 20105
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبِيضَ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20105]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن عاصم، لكنه متابع، وأبو قلابة لم يسمع من سمرة
حدیث نمبر: 20106
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، فَقُلْتُ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: بَلَى , قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَسَائِلُ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ رَجُلٌ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ يَسْأَلَ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ" .
زید بن عقبہ فزاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حجاج بن یوسف کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ امیر کی اصلاح کرے، کیا میں آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جو حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے سنائی ہے؟ اس نے کہا کیوں نہیں؟ زید نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور داغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو داغ دار کرلیتا ہے، اب جو چاہے، اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے، الاّ یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے، جو با اختیار ہو، یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20106]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20107
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ" . " لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحَ، فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ، فَلَا يَكُونُ، فَيَقُولُ: لَا" , إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ، لَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ اور الحمد للہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرلو، کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ اور اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع مت رکھو) اس لئے کہ جب تم اس کا نام لے کر پوچھو گے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے یہ چار چیزیں ہیں، ان پر کوئی اضافہ نہ کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20107]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2137