مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
950. حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21558
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ يَعْنِي الْحَارِثِيَّ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ مَوْلَى الْبَرَاءِ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، أَوْ وُهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْتَ وَأَئِمَّةً مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟!" قَالَ: قُلْتُ: إِذَنْ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعَ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، ثُمَّ أَضْرِبَ بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ أَوْ أَلْحَقَ بِكَ، قَالَ:" أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب میرے بعد آنے والے حکمران اس مال غنیمت میں تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا اور ان سے اتنا لڑوں گا کہ آپ سے آملوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر راستہ نہ دکھاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21558]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
حدیث نمبر: 21559
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ وُلَاةٍ يَسْتَأْثِرُونَ عَلَيْكَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟! قَالَ: قلت: إذا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، فَأَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْحَقَكَ، قَالَ:" أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٍ لَكَ مِنْ ذَلِكَ؟ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب میرے بعد آنے والے حکمران اس مال غنیمت میں تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا اور ان سے اتنا لڑوں گا کہ آپ سے آملوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر راستہ نہ دکھاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21559]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
حدیث نمبر: 21560
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کے خلاف چلتا ہے وہ اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21560]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة خالد ابن وهبان
حدیث نمبر: 21561
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ" ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کے خلاف چلتا ہے وہ اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21561]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
حدیث نمبر: 21562
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة
حدیث نمبر: 21563
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، لَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ، وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر! کسی یتیم کے مال کے سرپرست نہ بننا اور کسی دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21563]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1826
حدیث نمبر: 21564
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ وَلَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیجے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21564]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وقد اختلف على خرشة بن الحر فى تسميته
حدیث نمبر: 21565
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ، رَفَعَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " الْحَسَنَةُ عَشْرٌ أَوْ أَزِيدُ، وَالسَّيِّئَةُ وَاحِدَةٌ أَوْ أَغْفِرُهَا، وَمَنْ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً" .
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صادق و مصدوق نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے جس میں میں اضافہ بھی کرسکتا ہوں اور ایک گناہ کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے اور میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں اور اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21565]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، م: 2687
حدیث نمبر: 21566
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: " لَا أَحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ"، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا أُحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ" فَقُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى أَصْبَحَ وَسَكَتَ .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان کی ٢٣ ویں شب میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہائی رات تک قیام کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ جس چیز کو تم تلاش کر رہے ہو، وہ آگے ہے (شب قدر) اسی طرح ٢٥ ویں شب کو نصف رات تک قیام کیا پھر یہی فرمایا میرا خیال ہے کہ جس چیز کو تم تلاش کر رہے ہو وہ آگے ہے (شب قدر) اسی طرح ٢٧ ویں شب کو صبح تک قیام کیا لیکن اس مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21566]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21567
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، وَعَارِمٌ ، وَيُونُسُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَارِمٌ : حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فَوَجَدْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا إِمَاطَةَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ"، قَالَ عَارِمٌ:" تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ"، وَقَالَ يُونُسُ" النُّخَاعَةُ تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے سامنے میری امت کے اچھے برے اعمال پیش کئے گئے تو اچھے اعمال کی فہرست میں مجھے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی نظر آیا اور برے اعمال کی فہرست میں مسجد کے اندر تھوک پھینکنا نظر آیا جسے مٹی میں نہ ملایا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21567]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي، م: 553