مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
951. حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 21606
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حِينَ، قَالَ: " طُوبَى لِلشَّامِ، طُوبَى لِلشَّامِ"، قُلْتُ: مَا بَالُ الشَّامِ؟ قَالَ:" الْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَجْنِحَتِهَا عَلَى الشَّامِ" .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ملک شام کے لئے خوشخبری ہے میں نے پوچھا کہ شام کی کیا خصوصیت ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملک شام پر فرشتے اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21606]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21607
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، إِذْ قَالَ: " طُوبَى لِلشَّامِ"، قِيلَ: وَلِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا" .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ملک شام کے لئے خوشخبری ہے میں نے پوچھا کہ شام کی کیا خصوصیت ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملک شام پر فرشتے اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21607]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21608
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ يُخْبِرُنِي، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ فِي الْمَسْجِدِ"، قُلْتُ لِابْنِ لَهِيعَةَ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: لَا، فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں سینگی لگوائی ہے راوی نے پوچھا کہ اپنے گھر کی مسجد مراد ہے؟ تو ابن لہیعہ نے بتایا کہ نہیں، اصل مسجد نبوی مراد ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21608]
حکم دارالسلام: حديث صحيح لكن بلفظ "احتجر"، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 21609
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، أَوْ أَبَا أَيُّوبَ ، قَالَ لِمَرْوَانَ: " أَلَمْ أَرَكَ قَصَّرْتَ سَجْدَتَيْ الْمَغْرِبِ؟ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالْأَعْرَافِ" .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ یا حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مروان سے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے مغرب کی نماز بہت ہی مختصر پڑھائی ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورت اعراف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21609]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 764
حدیث نمبر: 21610
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعَ قِبَلَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ" وَاطَّلَعَ مِنْ قِبَلِ كَذَا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا" .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا رخ کر کے فرمایا اے اللہ! ان کے دلوں کو متوجہ فرما، پھر ایک اور جانب رخ کر کے فرمایا اے اللہ! ان کے دلوں کو متوجہ فرما اور ہمارے صاع میں اور مد میں برکت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21610]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21611
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سِنَانٍ يُحَدِّثُ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَالِدٍ الْحِمْصِيِّ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ غَيْرَ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ، كَانَتْ رَحْمَتُهُ لَهُمْ خَيْرًا مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ كَانَ لَكَ جَبَلُ أُحُدٍ أَوْ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا، أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَأَنَّكَ إِنْ مِتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا، دَخَلْتَ النَّارَ" .
ابن دیلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے گیا اور عرض کیا کہ اے ابوالمنذر؟ میرے دل میں تقدیر کے متعلق کچھ وسوسے پیدار ہے ہیں آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جس کی برکت سے میرے دل سے یہ وسوسے دور ہوجائیں انہوں نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب میں مبتلا کردیں تو اللہ تعالیٰ پھر بھی ان پر ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے اور اگر ان پر رحم کردیں تو یہ رحمت ان کے اعمال سے بڑھ کر ہوگی اور اگر تم اللہ کے راستہ میں احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردو گے تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک تم تقدیر پر کامل ایمان نہ لے آؤ اور یہ یقین نہ کرلو کہ تمہیں جو چیز پیش آئی ہے وہ تم سے چوک نہیں سکتی تھی اور جو چیز تم سے چوک گئی ہے وہ تم پر آ نہیں سکتی تھی، اگر تمہاری موت اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر ہوئی تو تم جہنم میں داخل ہوگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21611]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 21612
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ ، يَقُولُ: إِنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَكَانُوا يُصَلُّونَهَا، قَالَ قَبِيصَةُ: فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ، نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَائِشَةَ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَجِيرٍ، فَقَعَدُوا يَسْأَلُونَهُ وَيُفْتِيهِمْ، حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ وَلَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَعَدَ يُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ، فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا، فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ، نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَائِشَةَ" نَهَي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ" ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آل زبیر کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں (نفل کے طور پر) پڑھی ہیں، چنانچہ وہ لوگ بھی یہ دو رکعتیں پڑھنے لگے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بخشش فرمائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم لوگ زیادہ جانتے ہیں دراصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ کچھ دیہاتی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوپہر کے وقت آئے اور سوالات کرنے بیٹھ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جوابات دیتے رہے پھر ظہر کی نماز پڑھی اور بعد کی دو سنتیں نہیں پڑھیں اور انہیں مسائل بتانے لگے یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا نماز پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر چلے گئے اس وقت یاد آیا کہ انہوں نے تو ابھی تک ظہر کے بعد کی سنتیں نہیں پڑھیں چنانچہ وہ دو رکعتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پڑھی تھیں اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مغفرت فرمائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم لوگ زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد نوافل سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21612]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 21613
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 21614
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ" .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21614]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد تفرد محمد بن إسحاق بأن جعله من حديث زيد، والصواب: أنه من حديث ابن عمر
حدیث نمبر: 21615
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا" .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک پھل خوب پک نہ جائے اسے فروخت نہ کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21615]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن