مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
952. حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21673
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , أخبرنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الشَّهَادَةِ مَا شَهِدَ بِهَا صَاحِبُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین گواہی یہ ہے کہ (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21673]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عبدالله بن عمرو لم يسمعه من زيد بن خالد
حدیث نمبر: 21674
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِشَامٍ , عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ الْمَسَاجِدَ , وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکا کرو البتہ انہیں چاہئے کہ وہ بن سنور کر نہ نکلیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21674]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قد تفرد به عبدالرحمن بن إسحاق، وله أخطأ
حدیث نمبر: 21675
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بن حبان , عَنْ أَبِي عَمْرَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" , فَتَغَيَّرَ وُجُوهُ النَّاسِ مِنْ ذَلِكَ , فَقَالَ:" إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خبیر میں ایک اشجعی مسلمان فوت ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ تم خود ہی پڑھ لو، یہ سن کر لوگوں کے چہروں کا رنگ اڑ گیا (کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح انکار فرمانا اس شخص کے حق میں اچھی علامت نہ تھی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کیفیت بھانپ کر فرمایا تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں نکل کر بھی (مال غنیمت میں) خیانت کی ہے ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں سے ایک رسی ملی جس کی قیمت صرف دو درہم کے برابر تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21675]
حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 21676
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا , كَانَ لَهُ أَوْ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ , مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا , وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , كَانَ لَهُ أَوْ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْغَازِي , فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْئًا" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے اس کے لئے روزہ دار کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی اور جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کی پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجروثواب لکھاجائے گا اور مجاہد کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21676]
حکم دارالسلام: الشطر الأول حسن لغيره، والشطر الثاني صحيح، وهذا إسناد متقطع، عطاء لم يسمع من زيد
حدیث نمبر: 21677
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ , وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنایا کرو، بلکہ ان میں بھی نماز پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21677]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع ، عطاء لم يسمع من زيد
حدیث نمبر: 21678
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ , عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ , عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ , فَإِنَّهَا مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے محمد! اپنے صحابہ کو حکم دیجئے کہ تلبیہ بلند آواز سے کہا کریں کیونکہ یہ حج کا شعار ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21678]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21679
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ . وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ" , قَالَ أَبُو النَّضْرِ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّ الدِّيكِ , وَقَالَ:" إِنَّهُ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرغے کو برا بھلا نہ کہا کرو کیونکہ یہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21679]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وقد اختلف فى وصله وارساله
حدیث نمبر: 21680
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , أَنَّهُ قَالَ:" لَأَرْمُقَنَّ اللَّيْلَةَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا , ثُمَّ أَوْتَرَ , فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وحَدَّثَنَا مُصْعَبٌ , حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ , وَالصَّوَابُ مَا رَوَى مُصْعَبٌ , عَنْ أَبِيهِ , وَكَذَا حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنَا مَعْنٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , وَالصَّوَابُ مَا قَالَ مُصْعَبٌ , ومَعْنٌ , عَنْ أَبِيهِ , وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِيهِ , عَنْ أَبِيهِ , وَهِمَ فِيه.
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ سوچا کہ آج رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز ضرور دیکھوں گا چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی چوکھٹ کو اپنا تکیہ بنالیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو رکعتیں ہلکی پڑھیں، پھر دو طویل رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلے سے ہلکی تھیں پھر دو رکعتیں اس سے مختصر پڑھیں، پھر دو رکعتیں اس سے مختصر پڑھیں، پھر دو رکعتیں اس سے مختصر پڑھیں، پھر وتر پڑھے اور یوں کل تیرہ رکعتیں ہوگئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21680]
حکم دارالسلام: إسناد الحديث صحيح، و قد سقط من إسناده فى رواية عبدالرحمن بن مهدي وحده عن مالك: أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم والد عبدالله
حدیث نمبر: 21681
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَرْبٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ , حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا , فَقَدْ غَزَا , وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ , فَقَدْ غَزَا" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجروثواب لکھاجائے گا اور مجاہد کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21681]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21682
حَدَّثَنَا رِبْعِيٌّ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِشَامٍ , عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ الْمَسَاجِدَ , وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے باندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکا کرو، البتہ انہیں چاہئے کہ وہ بن سنور کر نہ نکلیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21682]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قد تفرد به عبدالرحمن بن إسحاق، وله أخطأ