مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
976. حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حدیث نمبر: 22296
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ: " مَا كَانَ يَفْضُلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے پاس جو کی روٹی بھی نہیں بچتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22296]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22297
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ الرَّجُلِ الْوَاحِدِ لَيْسَ بِنَبِيٍّ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ , أَوْ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ: رَبِيعَةَ , وَمُضَرَ" , فَقَالَ قَائِلٌ: إِنَّمَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ , قَالَ:" إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُولُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف ایک آدمی کی شفاعت کی برکت سے " جو نبی نہیں ہوگا " ربیعہ اور مضر جیسے دو قبیلوں یا ایک قبیلے کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ربیعہ، مضر قبیلے کا حصہ نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہنا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22297]
حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: فقال قائل: إنما ربيعة من مضر....، فهي شاذة
حدیث نمبر: 22298
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوصِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے پڑوسی کے متعلق اتنی مرتبہ وصیت کی کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ اسے وارث بھی قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22298]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل بقية
حدیث نمبر: 22299
حَدَّثَنَا حَيْوَةٌ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنِي أَبُو رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيُّ , قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ , قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" يَا أَبَا أُمَامَةَ , إِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ يَلِينُ لِي قَلْبُهُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابو امامہ! وہ شخص مومنین میں سے ہے کہ جس کا دل میرے لئے نرم ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22299]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به بقية ، وهو ضعيف عند التفرد
حدیث نمبر: 22300
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ , إِلَّا أَتَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ , فَكَّهُ بِرُّهُ , أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهُ , أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ , وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ , وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دس یا اس سے زیادہ لوگوں کے معاملات کا ذمہ دار بنتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں اس حال میں پیش ہوگا کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے بندھے ہوئے ہوں گے جنہیں اس کی نیکی ہی کھول سکے گی ورنہ اس کے گناہ اسے ہلاک کردیں گے حکومت کا آغاز ملامت سے ہوتا ہے درمیان ندامت سے اور اختتام قیامت کے دن رسوائی پر ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22300]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرب إسماعيل بن عياش فيه
حدیث نمبر: 22301
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ يَنْعُمَ , حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ جَشِيبٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: دُعِينَا إِلَى وَلِيمَةٍ وَهُوَ مَعَنَا , فَلَمَّا شَبِعَ مِنَ الطَّعَامِ , قَامَ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَقُومُ مَقَامِي هَذَا خَطِيبًا , كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَبِعَ مِنَ الطَّعَامِ , قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ , غَيْرَ مَكْفِيٍّ , وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ" .
خالد بن معدان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عبدالاعلیٰ بن بلال کی دعوت میں شریک تھے کھانے سے فراغت کے بعد حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس جگہ کھڑا تو ہوگیا ہوں لیکن میں خطیب ہوں اور نہ ہی تقریر کے ارادے سے کھڑا ہوا ہوں البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعاء پڑھتے ہوتے سنا ہے " الحمدللہ کثیرا طیبا مبارکا فیہ غیر مکفی ولامودع ولامستغنی عنہ " خالد کہتے ہیں کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات اتنی مرتبہ دہرائے کہ ہمیں حفظ ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22301]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22302
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ , أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ دَخَلَ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ , فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً , فَظَنَّ أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهَا حَرِيرٌ , فَتَنَحَّى يَمْشِي الْقَهْقَرَى حَتَّى بَلَغَ آخِرَ السِّمَاطِ , وَخَالِدٌ يُكَلِّمُ رَجُلًا , ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ , فَقَالَ لَهُ: يَا أَخِي مَا ظَنَنْتَ أَظَنَنْتَ أَنَّهَا حَرِيرٌ؟ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَسْتَمْتِعُ بِالْحَرِيرِ مَنْ يَرْجُو أَيَّامَ اللَّهِ" , فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: يَا أَبَا أُمَامَةَ , أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: اللَّهُمَّ غُفْرًا , أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ بَلْ كُنَّا فِي قَوْمٍ مَا كَذَبُونَا وَلَا كُذِّبْنَا.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خالد بن یزید کے پاس گئے اس نے ان کے لئے تکیہ پیش کیا حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سمجھے کہ یہ ریشمی تکیہ ہے اس لئے وہ الٹے پاؤں واپس چلتے ہوئے صف کے آخر میں پہنچ گئے خالد ایک دوسرے آدمی سے محو گفتگو تھا کچھ دیر بعد اس نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو کہنے لگا بھائی جان! آپ کیا سمجھے؟ کیا آپ کا خیال ہے کہ یہ ریشمی تکیہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص ریشم سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا جو اللہ سے ملنے کی امید رکھتاہو خالد نے پوچھا اے ابو امامہ! کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا اللہ معافی یہ سوال کہ کیا آپ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ہم ایک ایسی قوم میں رہتے تھے جو ہمارے ساتھ جھوٹ بولتے تھے اور نہ ہم ان کے ساتھ جھوٹ بولتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22302]
حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر الغساني
حدیث نمبر: 22303
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ , مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا , وَثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت کے ستر ہزار آدمیوں کو بلا حساب کتاب جنت میں داخل فرمائے گا، ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار ہوں گے اور اس پر تین گنا کا مزید اضافہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22303]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22304
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِي , عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ وَهُوَ مُتَطَهِّرٌ , كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ , وَمَنْ مَشَى إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى , كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ , وَصَلَاةٌ عَلَى إِثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا , كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ" , وقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: الْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ إِلَى هَذِهِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کر کے فرض نماز کے لئے روانہ ہوتا ہے اسے احرام باندھنے والے حاجی کے برابر ثواب ملتا ہے جو شخص چاشت کی نماز کے لئے روانہ ہوتا ہے اسے عمرہ کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز اس طرح پڑھنا کہ درمیان میں کوئی لغو کام نہ ہو علیین میں لکھا جاتا ہے اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صبح و شام ان مساجد کی طرف جانا جہاد فی سبیل اللہ کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22304]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22305
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاتِكَةِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَمَّنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَاحَ إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَإِلَى جَانِبِهِ بِلَالٌ , بِيَدِهِ عُودٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ يُظِلُّ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے صحابی رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آٹھ ذی الحجہ کے دن منٰی کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جانب حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس پر ایک کپڑا تھا اور وہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کئے ہوئے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22305]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، من أجل على بن يزيد، وعمان بن أبى العاتكة ضعيف