🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

976. حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22276
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , سَمِعَ أَبَا نَصْرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ , قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ , فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ" , أَوْ قَالَ:" لَا مِثْلَ لَهُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی ایسے عمل کا حکم دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے جیسا کوئی عمل نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22276]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات غير أن بين أبى نصر وبين أبى أمامة رجاء بن حيوة الكندي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22277
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي , وَطُوبَى سَبْعَ مِرَارٍ لِمَنْ آمَنْ بِي وَلَمْ يَرَنِي" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لے آیا اور اس شخص کے لئے بھی خوشخبری ہے جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لے آئے سات مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22277]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22278
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ , وَعَتَّابٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ , إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حَلَاوَتَهَا" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کی پہلی نظر کسی عورت کے محاسن پر پڑے اور وہ اپنی نگاہیں جھکا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادت میں وہ لذت پیدا کردیں گے جس کی حلاوت وہ خود محسوس کرے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22278]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا ، على بن يزيد وعبيد الله بن زحر ضعيفان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22279
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , يَرْفَعُ الْحَدِيثَ , قَالَ: " مَنْ بَدَأَ بِالسَّلَامِ فَهُوَ أَوْلَى بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22279]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل على بن يزيد وعبيد الله بن زحر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22280
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الْمُغَنِّيَاتِ , وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ , وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ , وَلَا خَيْرَ فِي تِجَارَةٍ فِيهِنَّ , وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گانا گانے والی باندیوں کی خریدوفروخت نہ کرو اور انہیں گانے بجانے کی تعلیم نہ دلواؤ اور ان کی تجارت میں کوئی خیر نہیں اور ان کی قیمت میں (کمائی) کھانا حرام ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22280]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22281
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سَبْعَ مِرَارٍ , مَا حَدَّثْتُ بِهِ , قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ كَمَا أُمِرَ , ذَهَبَ الْإِثْمُ مِنْ سَمْعِهِ , وَبَصَرِهِ , وَيَدَيْهِ , وَرِجْلَيْهِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر میں نے یہ حدیث کم از کم سات مربہ نہ سنی ہوتی تو میں اسے کبھی بیان نہ کرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص حکم کے مطابق وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22281]

حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22282
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ , فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا , وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا , وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ , وَقَالَ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ" , قَالَ حَمَّادٌ: فَلَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ , أَوْ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْمُوقَيْنِ.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے چہرے اور ہاتھوں کو تین تین مرتبہ دھویا سر کا مسح کیا اور فرمایا کہ کان سر کا حصہ ہیں نیز یہ بھی فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے حلقے مسلتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22282]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: الأذنان من الرأس ....، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر وابن ربيعة، وللاختلاف فى رفع ووقف قوله:الأذنان من الرأس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22283
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ , حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَشْيَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارٍ بِيضٌ لِحَاهُمْ , فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ , حَمِّرُوا , وَصَفِّرُوا , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ" , قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَسَرْوَلَونَ وَلَا يَأْتَزِرُونَ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَرْوَلُوا وَائْتَزِرُوا , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ" , قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَخَفَّفُونَ وَلَا يَنْتَعِلُونَ , , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتَخَفَّفُوا وَانْتَعِلُوا , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ" , قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَقُصُّونَ عَثَانِينَهُمْ , وَيُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ عمر رسیدہ افراد کے پاس " جن کی ڈاڑھیاں سفید ہوچکی تھیں " تشریف لائے اور فرمایا اے گروہ انصار! اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ یا زرد کرلو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں تہنبد نہیں باندھتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شلوار بھی پہن سکتے ہو اور تہبند بھی باندھ سکتے ہو، البتہ اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں، جوتے نہیں پہنتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم موزے بھی پہنا کرو اور جوتے بھی پہنا کرو اور اس طرح اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اہل کتاب ڈاڑھی کٹاتے اور مونچھیں بڑھاتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مونچھیں تراشا کرو اور ڈاڑھیاں بڑھایا کرو اور اس طرح اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22283]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22284
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَسَحَ رَأْسَ يَتِيمٍ أَوْ يَتِيمَةٍ لَمْ يَمْسَحْهُ إِلَّا لِلَّهِ , كَانَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ , وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ , كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ" وَقَرَنَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی یتیم بچے یا بچی کے سر پر ہاتھ پھیرے اور صرف اللہ کی رضا کے لئے پھیرے تو جتنے بالوں پر اس کا ہاتھ پھر جائے گا، اسے ہر بال کے بدلے نیکیاں ملیں گی اور جو شخص اپنے زیر تربیت کسی یتیم بچے یا بچی کے ساتھ حسن سلوک کرے میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلی میں تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر دکھایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22284]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، دون شطر الأول منه بقصة المسح على رأس اليتيم، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل على بن يزيد وعبدالله بن زحر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22285
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ سورة إبراهيم آية 17 - 17 قَالَ: " يُقَرَّبُ إِلَيْهِ , فَيَتَكَرَّهُهُ , فَإِذَا دَنَا مِنْهُ شُوِيَ وَجْهُهُ , وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ , وَإِذَا شَرِبَهُ , قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنْ دُبُرِهِ , يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ سورة محمد آية 15 وَيَقُولُ اللَّهُ: وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ سورة الكهف آية 29" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی و یسقی من ماء صدید " کی تفسیر میں فرمایا کہ جہنمی کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا وہ پانی اس کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس سے گھن کھائے گا جب مزید قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا اور اس کے سر کے بال جھڑ جائیں گے اور جب وہ پانی اپنے حلق سے اتارے گا تو اس کی آنتیں کٹ جائیں گی حتی کہ وہ پانی اس کی پچھلی شرمگاہ سے باہر آجائے گا اسی کے متعلق ارشادربانی ہے " وسقو ماء حمیما فقطع امعاہ م " اور " وان یستغیثوا یغاثوا بماء کلمہل یشوی۔۔۔۔۔۔۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22285]

حکم دارالسلام: رجاله ثقات معروفون غير عبيدالله بن بسر، فقد اختلف فيه على عبدالله بن المبارك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں