🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1022. حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22566
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ , وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي حِوَاءِ شَرِيكِ بْنِ الْأَعْوَرِ الشَّارِعِ عَلَى الْمِرْبَدِ، وَقَدْ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ، فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ , فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ , فعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ" , فَوَثَبَ جَعْفَرٌ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا , قَالَ:" امْضِهْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ" , فَانْطَلَقُوا فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ , وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَابَ خَبْرٌ أَوْ بَاتَ خَبْرٌ أَوْ ثَابَ خَبْرٌ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ , أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي، إِنَّهُمْ انْطَلَقُوا فَلَقَوْا الْعَدُوَّ، فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ" , فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ" ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا، أَشْهَدُ لَهُ بِالشَّهَادَةِ فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأُمَرَاءِ، هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ" , ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ فَانْصُرْهُ" , فَمِنْ يَوْمِئِذٍ سُمِّيَ خَالِدٌ سَيْفَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ:" انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ، وَلَا يَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ" , قَالَ: فَنَفَرَ النَّاسُ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ مُشَاةً وَرُكْبَانًا .
خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں عبداللہ بن رباح آئے میں نے دیکھا کہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں " فارس رسول " حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " جیش امراء " نامی لشکر کو روانہ کرتے ہوئے فرمایا تمہارے امیر زید بن حارثہ ہیں اگر زید شہید ہوجائیں تو جعفر امیر ہوں گے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاری امیر ہوں گے اس پر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرے خیال نہیں تھا کہ آپ زید کو مجھ پر امیر مقرر کریں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہوجاؤ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس بات میں خیر ہے؟ چنانچہ وہ لشکر روانہ ہوگیا کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور " نماز تیار ہے " کی منادی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا ایک افسوس ناک خبر ہے کیا میں تمہیں مجاہدین کے اس لشکر کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ لوگ یہاں سے روانہ ہوئے اور دشمن سے آمنا سامنا ہوا تو زید شہید ہوگئے ان کے لئے بخشش کی دعاء کرو لوگوں نے ایسا ہی کیا پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا پکڑا اور دشمن پر سخت حملہ کیا حتٰی کہ وہ بھی شہید ہوگئے میں ان کی شہادت کی گواہی دیتا ہوں لہٰذا ان کی بخشش کے لئے دعاء کرو پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا پکڑا اور نہایت پامردی سے ڈٹے رہے حتیٰ کہ وہ بھی شہید ہوگئے ان کے لئے بھی استغفار کرو پھر خالد بن ولید نے جھنڈا پکڑ لیا گو کہ کسی نے انہیں امیر منتخب نہیں کیا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی بلند کر کے فرمایا اے اللہ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد فرما اسی دن سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا نام " سیف اللہ " پڑگیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے کوچ کرو اور کوئی آدمی بھی پیچھے نہ رہے چنانچہ اس سخت گرمی کے موسم میں لوگ پیدل اور سوار ہو کر روانہ ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22566]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22567
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طُرُقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، وَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ، فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ، فَأَبَوْا، وَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ، فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" ..
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے مکہ مکرمہ کے کسی راستے میں وہ اپنے کچھ محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے لیکن وہ خود احرام کی حالت میں نہ تھے انہوں نے ایک گورخر دیکھا تو جلدی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوگئے اور اپنے ساتھیوں سے اپنا کوڑا مانگا لیکن انہوں نے انکار کردیا پھر نیزا مانگا انہوں نے وہ دینے سے بھی انکار کردیا بالآخر انہوں نے خود ہی نیچے اتر کر اسے پکڑا اور گورخر کی طرف تیزی سے دوڑ پڑے اور اسے شکار کرلیا جسے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھالیا اور کچھ نے کھانے سے انکار کردیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس کے متعلق سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کھانا تو اللہ ہی نے تمہیں کھلایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22567]

حکم دارالسلام: سناده صحيح، خ: 2914، م: 1196
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22568
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي الْحِمَارِ الْوَحْشِيِّ , مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَلْ مَعَكَ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کا گوشت بچا ہے؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22568]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22569
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: أَحْرَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَمْ يُحْرِمْ أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ: وَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَدُوًّا بِغِيفَةَ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِي، فَضَحِكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَأَثْبَتُّهُ، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا، وَأَسِيرُ شَأْوًا، وَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تَرَكْتُهُ وَهُوَ بِتِعْهِنَ، وَهُوَ مِمَّا يَلِي السُّقْيَا فَأَدْرَكْتُهُ، فَقُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابَكَ يُقْرِئُونَكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَقَدْ خَشُوا أَنْ يُتَقََطَّعُوا دُونَكَ، فَانْتَظِرْهُمْ , قَالَ: فَانْتَظَرَهُمْ، قُلْتُ: وَقَدْ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ , فَقَالَ لِلْقَوْمِ: " كُلُوا" , وَهُمْ مُحْرِمُونَ .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے اس سفر میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام باندھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی بتادیا گیا تھا کہ " غیقہ " نامی جگہ میں دشمن سے آمنا سامنا ہوسکتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوگئے میں بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہ اچانک وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے میں نے جب غور کیا تو مجھے ایک جنگلی گدھا نظر آیا میں نے ان سے مدد کی درخواست کی لیکن انہوں نے محرم ہونے کی وجہ سے میری مدد کرنے سے انکار کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22569]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22570
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيُطَوِّلُ فِي الْأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قراءت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22570]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 759، م: 451
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22571
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیع وشراء میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچا کرو کیونکہ اس سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22571]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1607، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22572
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا , قَالَ: فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: بِالْوَفَاءِ؟ , قَالَ: بِالْوَفَاءِ , قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ" ، وَإِنَّمَا كَانَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ، أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا..
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو کیونکہ اس پر کسی کا قرض ہے اس پر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کا قرض میرے ذمے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا مکمل؟ انہوں نے عرض کیا جی مکمل چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور اس پر اٹھارہ انیس درہم کا قرض تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22572]

حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وفي ضوء طريق أخرى فهي منقطعة لأن عبدالله بن أبى قتادة لم يسمعه من أبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22573
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: أَنَا أَكْفُلُ بِهِ قَالَ: قَالَ: بِالْوَفَاءِ؟ وَقَالَ حَجَّاجٌ أَيْضًا: أَنَا أَكْفُلُ بِهِ، وَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ .
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا پورے قرض کے ضامن بنتے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں! [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22573]

حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22574
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ " أَنَّهُمْ كَانُوا فِي مَسِيرٍ لَهُمْ، فَرَأَيْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَرَكِبْتُ فَرَسًا، وَأَخَذْتُ الرُّمْحَ، فَقَتَلْتُهُ، قَالَ: وَفِينَا الْمُحْرِمُ، قَالَ: فَأَكَلُوا مِنْهُ، قَالَ: فَأَشْفَقُوا، قَالَ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَشَرْتُمْ، أَوْ أَعَنْتُمْ، أَوْ أَصِدْتُمْ؟ قَالَ شُعْبَةُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: أَعَنْتُمْ، أَوْ أَصِدْتُمْ , ثُمَّ قَالُوا: لَا , فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے میں نے ایک گورخر دیکھا توجلدی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور اپنا نیزہ پکڑا اور اسے شکار کرلیا جسے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ نے جو حالت احرام میں تھے " کھالیا بعد میں وہ خوف کا شکار ہوگئے میں نے یا کسی اور نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اشارہ کیا تھا؟ یا تعاون کیا تھا؟ یا گھات لگائی تھی؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھانے کی اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22574]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22575
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، إِذْ مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: حَادَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَدَعَمْتُهُ بِيَدَيَّ، قَالَ: فَاسْتَيْقَظَ، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا، قَالَ: فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَمْتُهُ بِيَدَيَّ، فَاسْتَيْقَظَ، فَقَالَ:" أَبُو قَتَادَةَ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ:" حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَنَا مُنْذُ اللَّيْلَةِ" , ثُمَّ قَالَ:" لَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ شَقَقْنَا عَلَيْكَ، نَحِّ بِنَا عَنِ الطَّرِيقِ أَوْ مِلْ بِنَا عَنِ الطَّرِيقِ" , قَالَ: فَعَدَلْنَا عَنِ الطَّرِيقِ، فَأَنَاخَ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ، فَتَوَسَّدَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ، فَمَا اسْتَيْقَظْنَا حَتَّى أَشْرَقَتْ الشَّمْسُ، وَذَكَرَ صَوْتَ الصُّرَدِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا، فَاتَتْنَا الصَّلَاةُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تَهْلِكُوا وَلَمْ تَفُتْكُمْ الصَّلَاةُ، إِنَّمَا تَفُوتُ الْيَقْظَانَ، وَلَا تَفُوتُ النَّائِمَ، هَلْ مِنْ مَاءٍ؟" قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِسَطِيحَةٍ أَوْ قَالَ: مَيْضَأَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيَّ وَفِيهَا بَقِيَّةٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ:" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چنانچہ جلد باز لوگ پانی کی تلاش میں نکل گئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہا اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونگنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے جھکے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگائے بغیر سہارا دے دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر اپنی سواری پر جھکے تو میں نے آپ کو جگائے بغیر سیدھا کیا یہاں تک کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر پہلے سے بھی زیادہ جھکے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ گرپڑیں میں پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابو قتادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کب سے اس طرح میرے ساتھ چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں ساری رات سے اسی طرح آپ کے ساتھ چل رہا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے جس طرح تم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ ہمیں پڑاؤ کرلینا چاہئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کے قریب پہنچ کر منزل کی پھر فرمایا تم کسی کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا یہ ایک سوار ہے یہاں تک کہ سات سوار جمع ہوگئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہماری نماز کا خیال رکھنا چنانچہ ہم لوگ سو گئے اور سورج کی تمازت نے ہی ہمیں جگایا ہم بیدار ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر وہاں سے چل دیئے ہم بھی آہستہ آہستہ چل پڑے، ایک جگہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! میرے وضو کے برتن میں تھوڑا سا پانی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لے آؤ میں وہ پانی لایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے وضو کرو۔ چنانچہ سب لوگوں نے وضو کیا اور اس میں سے کچھ پانی بچ گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس وضو کے پانی کے برتن کی حفاظت کرو کیونکہ اس سے عنقریب ایک عجیب خبر ظاہر ہوگی پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے دو رکعتیں پڑھیں (سنت) پھر صبح کی نماز پڑھی (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوئے ہم میں سے ایک آدمی نے دوسرے سے کہا کہ ہماری اس غلطی کا کفارہ کیا ہوگا جو ہم نے نماز میں کی کہ ہم بیدار نہیں ہوئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے ہو؟ اگر کوئی دنیوی بات ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی دینی مسئلہ ہے تو مجھے بھی بتاؤ، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم سے نماز میں تفریط ہوگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونے میں کوئی تفریط نہیں بلکہ تفریط تو جاگنے میں ہوتی ہے۔ اگر کسی سے اس طرح ہوجائے تو اسے چاہیے کہ جب وقت بھی وہ بیدار ہوجائے نماز پڑھ لے اور جب اگلا دن آجائے تو وہ نماز اس کے وقت پر پڑھے پھر فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ دوسرے لوگوں نے کیا کیا ہوگا؟ انہوں نے عرض کیا کہ کل آپ نے خود ہی فرمایا تھا کہ اگر تم کل پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چنانچہ لوگ پانی کی تلاش میں ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا لوگوں میں موجود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پیچھے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں پیچھے چھوڑ جائیں اور خود پانی کی طرف سبقت لے جائیں اگر وہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات مان لیں گے تو وہ ہدایت پاجائیں تین مرتبہ فرمایا پھر ہم لوگوں کی طرف اس وقت پہنچے جس وقت دن چڑھ چکا تھا اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا لوگ کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تو پیاس نے ہلاک کردیا اور گردنیں ٹوٹنے لگیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہلاک نہیں ہوئے پھر فرمایا اے ابو قتادہ میرا چھوٹا پیالہ لاؤ میں وہ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ف [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22575]

حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لكن قتادة قد خولف فى بعض من الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں