مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26511
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " تُرْخِينَ شِبْرًا" , قُلْتُ: إِذَنْ يَنْكَشِفَ عَنْهُنَّ؟ قَالَ:" فَذِرَاعٌ، لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنا لٹکائیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز لٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26511]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
حدیث نمبر: 26512
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، عَنْ رُمَيْثَةَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَلَّمَنِي صَوَاحِبِي أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ، فَيُهْدُونَ لَهُ حَيْثُ كَانَ، فَإِنَّهُمْ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدِيَّتِهِ يَوْمَ عَائِشَةَ، وَإِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّهُ عَائِشَةُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ صَوَاحِبِي كَلَّمْنَنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ لِتَأْمُرَ النَّاسَ أَنْ يُهْدُوا لَكَ حَيْثُ كُنْتَ، فَإِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، وَإِنَّمَا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةُ , قَالَتْ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُرَاجِعْنِي، فَجَاءَنِي صَوَاحِبِي، فَأَخْبَرْتُهُنَّ أَنَّهُ لَمْ يُكَلِّمْنِي، فَقُلْنَ: لَا تَدَعِيهِ، وَمَا هَذَا حِينَ تَدَعِينَهُ , قَالَتْ: ثُمَّ دَارَ، فَكَلَّمْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ صَوَاحِبِي قَدْ أَمَرْنَنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ تَأْمُرُ النَّاسَ، فَلْيُهْدُوا لَكَ حَيْثُ كُنْتَ، فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ تِلْكَ الْمَقَالَةِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَسْكُتُ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أُمَّ سَلَمَةَ، لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِي غَيْرَ عَائِشَةَ" , فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَسُوءَكَ فِي عَائِشَةَ .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (نبی علیہ السلام کی ازواج مطہرات) میری سہیلیوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موضوع پر بات کروں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو یہ حکم دیدیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں بھی ہوں وہ انہیں ہدیہ بھیج سکتے ہیں دراصل لوگ ہدایا پیش کرنے کے لئے حضرت عائشہ کی باری کا انتظار کرتے تھے کیونکہ ہم بھی خیر کے اتنے ہی متمنی ہیں جتنی عائشہ ہیں چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھ سے میری سہیلیوں نے آپ کی خدمت میں یہ درخواست پیش کرنے کے لئے بات کی کہ آپ لوگوں کو یہ حکم دیدیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ آپ کو ہدیہ بھیج سکتے ہیں کیونکہ لوگ اپنے ہدایاپیش کرنے کے لئے عائشہ کی باری کا خیال رکھتے ہیں اور ہم بھی خیر کے اتنے ہی متمنی ہیں جتنی عائشہ ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ میری سہلیاں آئیں تو میں نے انہیں بتادیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے مجھ سے کوئی بات نہیں کی انہوں نے کہا کہ تم یہ بات ان سے کہتی رہنا اسے چھوڑنا نہیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دوبارہ آئے تو میں نے گزشتہ درخواست دوبارہ دوہرادی، دو تین مرتبہ ایسا ہی ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ خاموش رہے بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمادیا کہ اے ام سلمہ عائشہ کے حوالے سے مجھے ایذاء نہ پہنچاؤ واللہ عائشہ کے علاوہ کسی بیوی کے گھر میں مجھ پر وحی نہیں ہوتی انہوں نے عرض کیا کہ میں اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ عائشہ کے حوالے سے آپ کو ایذاء پہنچاؤں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26512]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 26513
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُخْتِهِ رُمَيْثَةَ ابْنَةِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لَهَا: إِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26513]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 26514
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ , قَالَتْ: فَحَسِبْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا لَكَ سَاهِمُ الْوَجْهِ؟ قَالَ: " مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا أَمْسِ، أَمْسَيْنَا وَهِيَ فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا میں سمجھی کہ شاید کوئی تکلیف ہے سو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی کیا بات ہے آپ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل میرے پاس سات دینار رہ گئے ہیں جو کل ہمارے پاس آئے تھے شام ہوگئی اور اب تک وہ ہمارے بستر پر پڑے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26514]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26515
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ، مَا كُنْتَ تُصَلِّيهَا؟ قَالَ: " قَدِمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ، فَحَبَسُونِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے بعد میرے پاس آئے تو دو رکعتیں پڑھیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس سے پہلے تو آپ یہ نماز نہیں پڑھتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں میں پڑھتا تھا وہ رہ گئی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26515]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1233، م: 834، قوله: "وفد بني تميم" وهم، صوابه: "وفد من بني عبد القيس"، وقد اختلف فى هذا الاسناد على ابي سلمة
حدیث نمبر: 26516
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ أَبُو تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ , أَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا أُمَّهْ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ عَلَى ابْنَتَيْنِ، أَوْ أُخْتَيْنِ، أَوْ ذَوَاتَيْ قَرَابَةٍ، يَحْتَسِبُ النَّفَقَةَ عَلَيْهِمَا، حَتَّى يُغْنِيَهُمَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَوْ يَكْفِيَهُمَا، كَانَتَا لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ" .
مطلب بن عبداللہ مخزومی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا بیٹا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے عرض کیا اماں جان کیوں نہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنی دو بیٹیوں یا بہنوں یا قریبی رشتہ دار عورتوں پر ثواب کی نیت سے اس وقت تک خرچ کرتا رہے کہ فضل الٰہی سے وہ دونوں بےنیاز ہوجائیں یا وہ ان کی کفایت کرتا رہے تو وہ دونوں اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26516]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن أبى حميد
حدیث نمبر: 26517
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان و رمضان کے روزے رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26517]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26518
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَهَا إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت ہود کی یہ آیت اس طرح پڑھی (آگے آیت ہے)۔ انہ عمل غیر صالح۔ الخ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26518]
حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين بشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26519
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے دلوں کو ثابت قدم رکھنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26519]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26520
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26520]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو جعفر الباقر لم يسمع من أم سلمة