مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26521
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الْفَجْرِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد یہ دعا فرماتے تھے اے اللہ میں تجھ سے علم نافع، عمل مقبول اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26521]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام مولى أم سلمة، ثم إنه قد اختلف فيه على سفيان
حدیث نمبر: 26522
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَلَمْ تَخْتَمِرْ، فَقَالَ: " لَيَّةً، لَا لَيَّتَيْنِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں (تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26522]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة وهب مولى أبى أحمد
حدیث نمبر: 26523
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ أَوْ عُمَرُ، فَقَالَ:" بِيَدِهِ هَكَذَا"، قَالَ: فَرَجَعَ، قَالَ: فَمَرَّتْ ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ:" بِيَدِهِ هَكَذَا"، قَالَ: فَمَضَتْ , فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هُنَّ أَغْلَبُ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے کہ سامنے سے عبداللہ بن عمر گزرنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے انہیں اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئے، پھر حضرت ام سلمہ کی بیٹی گزرنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی روکا لیکن وہ آگے سے گزرگئی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتیں غالب آجاتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26523]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة والدة محمد بن قيس
حدیث نمبر: 26524
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ وَكِيعٌ شَكَّ هُوَ، يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِإِحْدَاهُمَا: " لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ، لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا، فَقَالَ لِي: إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا , قَالَ: فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ" .
حضرت عائشہ یا ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میرے گھر میں ایک ایسا فرشتہ آیا جو اس سے پہلے میرے پاس کبھی نہیں آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ آپ کا یہ بیٹا حسین شہید ہوجائے گا، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھا سکتا ہوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا، پھر اس نے سرخ رنگ کی مٹی نکال کر دکھائی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26524]
حکم دارالسلام: حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد لم يذكروا له سماعا من عائشة ولا من ام سلمة
حدیث نمبر: 26525
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبه , قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ:" أَنُفِسْتِ؟" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ، قَالَ: " ذَاكَ مَا كُتِبَ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ" , قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ، فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي، فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ، ثُمَّ جِئْتُ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے، میں کھسکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے، میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے بھی وہی کیفیت پیش آرہی ہے جو دوسری عورتوں کو پیش آتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہی چیز ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کی تمام بیٹیوں کے لئے لکھ دی گئی ہے پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھ لیا پھر آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاف میں گھس گئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26525]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى سلمة
حدیث نمبر: 26526
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ، فَقَالَتْ: مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ؟" كَانَ يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ، وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي، وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا .
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا تم کہاں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور قرأت کہاں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی جو کیفیت انہوں نے بیان فرمائی وہ ایک ایک حرف کی وضاحت کے ساتھ تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26526]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة يعلى ابن مملك
حدیث نمبر: 26527
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ هِيَ حَيَّةٌ الْيَوْمَ، إِنْ شِئْتَ أَدْخَلْتُكَ عَلَيْهَا، قُلْتُ: لَا، حَدِّثْنِي , قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ بِكُمِّ ذراعي، فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، كَأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَهُوَ غَضْبَانُ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، أَوَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: وَمَا قَالَ؟ قَالَتْ: قَالَ: " إِنَّ الشَّرَّ إِذَا فَشَا فِي الْأَرْضِ، فَلَمْ يُتَنَاهَ عَنْهُ، أَرْسَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَأْسَهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِيهِمْ الصَّالِحُونَ؟! قَالَتْ: قَالَ:" نَعَمْ، وَفِيهِمْ الصَّالِحُونَ، يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، ثُمَّ يَقْبِضُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرِضْوَانِهِ أَوْ: إِلَى رِضْوَانِهِ وَمَغْفِرَتِهِ" .
حسن بن محمد کہتے ہیں کہ مجھے انصار کی ایک عورت نے بتایا ہے وہ اب بھی زندہ ہیں اگر تم چاہو تو ان سے پوچھ سکتے ہو اور میں تمہیں ان کے پاس لے چلتاہوں راوی نے کہا نہیں آپ خود ہی بیان کردیجئے کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ کے پاس گئی تو اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے یہاں تشریف لے آئے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ہیں، میں نے اپنی قمیص کی آستین سے پردہ کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کی جو مجھے سمجھ نہ آئی میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ام المؤمنین میں دیکھ رہی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں کیا تم نے ان کی بات سنی ہے میں نے پوچھا کہ انہوں نے کیا فرمایا ہے انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب زمین میں شرپھیل جائے گا تو اسے روکانہ جاسکے گا اور پھر اللہ اہل زمین پر اپنا عذاب بھیج دے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور ان پر بھی وہی آفت آئے گی جو عام لوگوں پر آئے گی پھر اللہ تعالیٰ انہیں کھینچ کر اپنی مغفرت اور خوشنودی کی طرف لے جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26527]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك بن عبدالله ولاضطرابه
حدیث نمبر: 26528
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ، فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ، فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ:" لَا، مَا صَلَّوْا لَكُمْ الْخَمْسَ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کروگے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26528]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1854
حدیث نمبر: 26529
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي تَعْنِي شَاهِدًا، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ" , فَقَالَتْ: يَا عُمَرُ زَوِّجْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ مِمَّا أَعْطَيْتُ أَخَوَاتِكِ رَحْيَيْنِ، وَجَرَّةً، وَمِرْفَقَةً مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ" . فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا لِيَدْخُلَ بِهَا، فَإِذَا رَأَتْهُ، أَخَذَتْ زَيْنَبَ ابْنَتَهَا، فَجَعَلَتْهَا فِي حِجْرِهَا، فَيَنْصَرِفُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلِمَ ذَلِكَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَكَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَتَاهَا، فَقَالَ: أَيْنَ هَذِهِ الْمَشْقُوحَةُ الْمَقْبُوحَةُ الَّتِي قَدْ آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَخَذَهَا، فَذَهَبَ بِهَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِبَصَرِهِ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ زَنَابُ؟ فَقَالَتْ: جَاءَ عَمَّارٌ، فَأَخَذَهَا، فَذَهَبَ بِهَا، فَدَخَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهَا: " إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو کوئی ولی یہاں موجود نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا، انہوں نے اپنے بیٹے عمربن ابی سلمہ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح کرا دو چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دیدیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہاری بہنوں (اپنی بیویوں) کو جو کچھ دیا ہے تمہیں بھی اس سے کم نہیں دوں گا، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26529]
حکم دارالسلام: قوله: "ان شئت سبعت لك، وان سبعت لك سبعت لنسائي" صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابن عمر بن ابي سلمة
حدیث نمبر: 26530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ، قَالَتْ: فَصَارَ إِلَيَّ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ , قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ:" هَلْ أَفَضْتَ بَعْدُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟" قَالَ: لَا , وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ" , قَالَ: فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ، وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالُوا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا مِنَ النِّسَاءِ إِذَا أَنْتُمْ أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ، عُدْتُمْ حُرُمًا، كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا بِهِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آنا تھا وہ یوم النحر (دس ذی الحجہ) کی رات تھی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آگئے، اسی دوران میرے یہاں وہب بن زمعہ بھی آگئے جن کے ساتھ آل ابی امیہ کا ایک اور آدمی بھی تھا اور ان دونوں نے قمیصیں پہن رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا کہ اے ابو عبداللہ کیا تم نے طواف زیارت کرلیا ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ابھی تو نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اپنی قمیص اتاردو، چنانچہ ان دونوں نے اپنے سر سے کھینچ کر قمیص اتادری، پھر کہنے لگے یا رسول اللہ اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن جب تم جمرات کی رمی کر چکو تو عورتوں کے علاوہ ہر وہ چیز جو تم پر حرام کی گئی تھی حلال ہوجاتی ہے لیکن اگر شام تک تم طواف زیارت نہ کرسکو تو تم اسی طرح محرم بن جاتے ہو جیسے رمی جمرات سے پہلے تھے تاآنکہ تم طواف زیارت کرلو۔ ام قیس کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عکاشہ بنواسد کے کچھ لوگوں کے ہمراہ میرے یہاں سے نکلے انہوں نے دس ذی الحجہ کی شام کو قمیصیں پہن رکھی تھیں، پھر رات کو وہ میرے پاس واپس آئے تو انہوں نے اپنی قمیص اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں، میں نے عکاشہ سے پوچھا کہ اے عکاشہ جب تم یہاں سے گئے تھے تو قمیصیں پہن رکھی تھیں اور جب واپس آئے تو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس دن ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن جب تم جمرات کی رمی کر چکو تو عورتوں کے علاوہ ہر وہ چیز جو تم پر حرام کی گئی تھی حلال ہوجاتی ہے لیکن اگر شام تک تم طواف زیارت نہ کرسکو تو تم اسی طرح محرم بن جاتے ہو جیسے رمی جمرات سے پہلے تھے تاآنکہ تم طواف زیارت کرلو ہم نے چونکہ طواف نہیں کیا تھا اس لئے تم ہماری قمیصیں اس طرح دیکھ رہی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26530]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل أبى عبيدة بن عبدالله، وقد اضطرب فيه