مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1183. حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيَّةِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26795
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: " أَلَا أَخَذُوا إِهَابَهَا، فَدَبَغُوهُ، فَانْتَفَعُوا بِهِ؟" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ! , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا" , قَالَ سُفْيَانُ: هَذِهِ الْكَلِمَةُ لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا مِنَ الزُّهْرِيِّ:" حُرِّمَ أَكْلُهَا" , قَالَ أَبِي: قَالَ سُفْيَانُ: مَرَّتَيْنِ عَنْ مَيْمُونَةَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھالیا؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ مردہ ہے فرمایا اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہوسکتی ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26795]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 363
حدیث نمبر: 26796
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ، فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، فَأَلْقُوهُ، وَكُلُوهُ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگ چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گراہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26796]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5538
حدیث نمبر: 26797
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26797]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سفيان بن عيينة
حدیث نمبر: 26798
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، يَبْدَأُ، فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَضْرِبُ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، فَيَمْسَحُهَا، ثُمَّ يَغْسِلُهَا، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ وَعَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ يَتَنَحَّى، فَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تھے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھو کو دھوتے تھے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے شرمگاہ کو دھوتے اور زمین پر ہاتھ مل کر اسے دھو لیتے پھر نماز والا وضو فرماتے پھر سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے اور غسل کے بعد اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھو لیتے (کیونکہ وہاں پانی کھڑا ہوجاتا تھا) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26798]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
حدیث نمبر: 26799
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26799]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
حدیث نمبر: 26800
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاثِرًا، فَقِيلَ لَهُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْبَحْتَ خَاثِرًا؟ قَالَ: " وَعَدَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ يَلْقَانِي، فَلَمْ يَلْقَنِي، وَمَا أَخْلَفَنِي" , فَلَمْ يَأْتِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَلَا الثَّانِيَةَ، وَلَا الثَّالِثَةَ، ثُمَّ اتَّهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرْوَ كَلْبٍ , وَكَانَ تَحْتَ نَضَدِنَا، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ مَاءً، فَرَشَّ مَكَانَهُ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ:" وَعَدْتَنِي، فَلَمْ أَرَكَ؟" قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ , قال: فَأَمَرَ يَوْمَئِذٍ بِقَتْلِ الْكِلَابِ , قَالَ: حَتَّى كَانَ يُسْتَأْذَنُ فِي كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ، فَيَأْمُرُ بِهِ أَنْ يُقْتَلَ .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل محسوس ہوئی تو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا بات ہے کہ آج صبح ہی آپ کی طبیعت بوجھل محسوس ہو رہی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ملاقات کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ آئے نہیں حالانکہ انہوں نے کبھی خلاف وعدہ نہیں کیا تین راتوں تک جبرائیل نہ آئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری چارپائی کے نیچے کتے کے ایک پلے کو اس کا سبب قرار دیا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے نکال دیا گیا اور پانی لے کر وہاں بہا دیا گیا تھوڑی ہی دیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ آپ نے مجھ سے آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن نظر نہیں آئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن کتوں کو مارنے کا حکم دیدیا حتی کہ اگر کوئی شخص اپنے باغ کی حفاظت کے لئے چھوٹے کتے کی اجازت بھی مانگتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھی قتل کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26800]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2105، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ابي حفصة، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 26801
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باقی ماندہ پانی سے وضو کیا جس سے انہوں نے غسل جنابت کیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26801]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26802
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَجْنَبْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاغْتَسَلْتُ مِنْ جَفْنَةٍ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْتَسِلَ مِنْهَا، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ مِنْهَا، فَقَالَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَيْسَ عَلَيْهِ جَنَابَةٌ أَوْ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" , فَاغْتَسَلَ مِنْهُ .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ناپاک تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی غسل واجب تھا، میں نے ایک ٹب کے پانی سے غسل کیا جس میں کچھ پانی بچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لئے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ اس پانی سے میں نے غسل جنابت کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی میں جنابت نہیں آجاتی اور اسی سے غسل فرمالیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26802]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26803
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ لَهُمْ جَامِدٍ، فَقَالَ: " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَكُلُوا سَمْنَكُمْ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گرا ہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26803]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 5538، محمد بن مصعب مقارب الحديث فى الأوزاعي، وقد توبع
حدیث نمبر: 26804
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ لِبَعْضِ نِسَائِهِ، وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ" , قَالَ سُفْيَانُ: أُرَاهُ قَالَ: حَائِضٍ.
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تو کسی زوجہ محترمہ کی چادر کا ایک حصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور دوسرا حصہ زوجہ محترمہ پر تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26804]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح