🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1188. حَدِيثُ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26996
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَطْعَمْ، فَبَالَ عَلَيْهِ، " فَدَعَا بِمَاءٍ، فَرَشَّهُ عَلَيْهِ" .
حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھانا پینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26996]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 223، م: 287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26997
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلْ الطَّعَامَ، فَبَالَ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ، وَدَخَلْتُ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ وَقَالَ مَرَّةً عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُسْطِ وَقَالَ مَرَّةً سُفْيَانُ: الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ بِهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ" .
حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھاناپینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟ قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26997]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26998
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ أَبُو الْمِقْدَامِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ دَمُ الْحَيْضِ؟ قَالَ: " حُكِّيهِ بِضِلَعٍ، وَاغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ وَالنَّدِّ وَسِدْرٍ" .
حضرت ام قیس سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دو اور پانی اور بیری کے ساتھ دھولو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26998]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26999
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وهَاشِمٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ , أَنَّها قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي، فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ: لَا تَغْسِلْ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ، فَتَقْتُلَهُ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " مَا قَالَتْ؟ طَالَ عُمْرُهَا" , قَالَ: فَلَا أَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِّرَتْ مَا عُمِّرَتْ.
حضرت ام قیس سے مروی ہے کہ میرا ایک بیٹا فوت ہوگیا، جس کی وجہ سے میں بہت بےقرار تھی میں نے بیخبر ی کے عالم میں اسے غسل دینے والے سے کہہ دیا کہ میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو ورنہ یہ مرجائے گا، حضرت عکاشہ (جوان کے بھائی تھے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی بات سنائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا جس نے یہ جملہ کہا ہے اس کی عمر لمبی ہو، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ عمر رسیدہ عورت کوئی نہیں دیکھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26999]

حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27000
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أُمِّْ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أُخْتِ عُكَّاشَةَ , قَالَتْ: جِئْتُ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ، أَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ الْعُذْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، قَالَ يَعْنِي الْكُسْتَ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ" ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيَّهَا، فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ , فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ، وَلَمْ يَكُنْ الصَّبِيُّ بَلَغَ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ , قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَمَضَتْ السُّنَّةُ بِأَنْ يُرَشَّ بَوْلُ الصَّبِيِّ، وَيُغْسَلَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ , قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَيُسْتَسْعَطُ لِلْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ لِذَاتِ الْجَنْبِ.
حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھاناپینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟ قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27000]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27001
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثَابِتٍ أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: " حُكِّيهِ وَلَوْ بِضِلَعٍ" .
حضرت ام قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27001]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27002
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: " اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ" .
حضرت ام قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دو اور پانی اور بیری کے ساتھ دھو لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27002]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27003
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ إِحْدَى بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّائِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ؟" .
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھانا پینا شروع نہ کیا تھا . . . . پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27003]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَقَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أُمِّْ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , أَنَّهَا جَاءَتْ بِابْنٍ لَهَا وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعُلُقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ" , ثُمَّ أَخَذَ الصَّبِيَّ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: مَضَتْ السُّنَّةُ بِذَلِكَ.
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھانا پینا شروع نہ کیا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟ قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27004]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں