مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1187. حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 26912
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لِي إِلَّا مَا أَدْخَلَ الزُّبَيْرُ بَيْتِي؟ قَالَ: " أَنْفِقِي، وَلَا تُوكِي، فَيُوكَى عَلَيْكِ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26912]
حکم دارالسلام: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 26913
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّهِ ، , قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، وَهِيَ مُشْرِكَةٌ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصِلُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ قریش سے معاہدے کے زمانے میں آئی، اس وقت وہ مشرک تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ قریش سے معاہدے کے زمانے میں آئی اس وقت وہ مشرک تھیں۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26913]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2620، م: 1003
حدیث نمبر: 26914
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، مِثْلَهُ , وَقَالَ: وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَمُدَّتِهِمْ إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2620، م: 1003
حدیث نمبر: 26915
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قَدِمَتْ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أُمِّي قَدِمَتْ وَهِيَ رَاغِبَةٌ، أَفَأَصِلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، صِلِي أُمَّكِ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ قریش سے معاہدے کے زمانے میں آئی، اس وقت وہ مشرک تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26915]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2620، م: 1003، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيء الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 26916
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ، نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَتْ عَائِشَةُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي، وَكَانَتْ زِمَالَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً مَعَ غُلَامِ أَبِي بَكْرٍ، فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُهُ أَنْ يَطْلُعَ عَلَيْهِ، فَطَلَعَ، وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ، فَقَالَ , أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: قَدْ أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ، فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ، وَيَقُولُ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ وَمَا يَصْنَعُ" .
حضرت اسماء بنت ابی بکر سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے مقام عروج پر پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈال دیا، حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں آ کر بیٹھ گئیں اور میں اپنی والد کے پہلو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کی سواری ایک ہی تھی اور وہ حضرت صدیق اکبر کے غلام کے پاس تھی حضرت ابوبکر اپنے غلام کے آنے کا انتظار کر رہے تھے، لیکن جب وہ آیا تو اس کے ساتھ اونٹ نہیں تھا، حضرت ابوبکر نے اس سے پوچھا کہ تمہارا اونٹ کہاں گیا؟ اس نے کہا کہ وہ مجھ سے رات کو گم ہوگیا ہے، حضرت صدیق اکبرنے فرمایا ایک اونٹ تھا اور وہ بھی تم نے گم کردیا؟ اور اسے مارنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر مسکراتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اس محرم کو دیکھو یہ کیا کر رہا ہے؟۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26916]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس
حدیث نمبر: 26917
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا بِالْحَجِّ، وَدَعُوا قَوْلَ هَذَا يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ الْعَبَّاسِ: أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ عَنْ هَذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا، فَأَمَرَنَا، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، فَحَلَّ لَنَا الْحَلَالُ، حَتَّى سَطَعَتْ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ" .
مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں حج افراد کیا کرو اور ابن عباس کی بات چھوڑ دو، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آپ اپنی والدہ سے کیوں نہیں پوچھ لیتے چنانچہ انہوں نے ایک قاصد حضرت اسماء کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا ابن عباس سچ کہتے ہیں، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرے کا احرام بنا لیا اور ہمارے لئے تمام چیزیں حسب سابق حلال ہوگئیں حتی کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان انگیٹھیاں بھی دہکائی گئیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26917]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26918
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ابْنَةً عَرِيسًا، وَإِنَّهُ أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ، فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا، أَفَأَصِلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سرکے بال جھڑ رہے ہیں کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26918]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2122
حدیث نمبر: 26919
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: " نَحَرْنَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، فَأَكَلْنَا مِنْهُ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک مرتبہ ہم لوگوں نے ایک گھوڑا ذبح کیا تھا اور اسے کھایا بھی تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26919]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5510، م: 1942
حدیث نمبر: 26920
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَرْأَةُ يُصِيبُهَا مِنْ دَمِ حَيْضِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِتَحُتَّهُ، ثُمَّ لِتَقْرِضْهُ بِمَاءٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّي فِيهِ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ اگر کسی عورت کے جسم (یاکپڑوں) پر دم حیض لگ جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھرچ دے پھر پانی سے بہادے اور اسی میں نماز پڑھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26920]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 307، م: 291
حدیث نمبر: 26921
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَلَى ضَرَّةٍ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ، كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میری ایک سوکن ہے اگر مجھے میرے خاوند نے کوئی چیز نہ دی ہو لیکن میں یہ ظاہر کروں کہ اس نے مجھے فلاں چیز سے سیراب کردیا ہے، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو ایسی چیز سے سیراب ہونیوالا ظاہر کرنا جو اسے نہیں ملی وہ ایسے ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26921]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5219، م: 2130