صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ الْخَوْفِ مِنَ اللَّهِ:
باب: اللہ سے ڈرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 6480
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَخُذُونِي، فَذَرُّونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ، فَفَعَلُوا بِهِ، فَجَمَعَهُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ، قَالَ: مَا حَمَلَنِي إِلَّا مَخَافَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پچھلی امتوں میں کا، ایک شخص جسے اپنے برے عملوں کا ڈر تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو میری لاش ریزہ ریزہ کر کے گرم دن میں اٹھا کے دریا میں ڈال دینا۔ اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور اس سے پوچھا کہ یہ جو تم نے کیا اس کی وجہ کیا ہے؟ اس شخص نے کہا کہ پروردگار مجھے اس پر صرف تیرے خوف نے آمادہ کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6480]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جسے اپنے برے اعمال سے بڑا ڈر لگتا تھا۔ اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا: جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو ریزہ ریزہ کر کے سخت گرمی کے دن سمندر میں بہا دینا۔ انہوں نے ایسا ہی کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ذرات جمع کر کے اس سے پوچھا: یہ کام تو نے کیوں کیا؟ اس شخص نے کہا: مجھے اس کام پر صرف تیرے خوف نے آمادہ کیا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6480]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6481
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَكَرَ رَجُلًا فِيمَنْ كَانَ سَلَفَ أَوْ قَبْلَكُمْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا يَعْنِي أَعْطَاهُ، قَالَ: فَلَمَّا حُضِرَ، قَالَ لِبَنِيهِ: أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ، قَالُوا: خَيْرَ أَبٍ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، فَسَّرَهَا قَتَادَةُ: لَمْ يَدَّخِرْ وَإِنْ يَقْدَمْ عَلَى اللَّهِ يُعَذِّبْهُ، فَانْظُرُوا فَإِذَا مُتُّ، فَأَحْرِقُونِي حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا، فَاسْحَقُونِي أَوْ قَالَ: فَاسْهَكُونِي، ثُمَّ إِذَا كَانَ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَذْرُونِي فِيهَا، فَأَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَرَبِّي، فَفَعَلُوا، فَقَالَ اللَّهُ: كُنْ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: أَيْ عَبْدِي، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ، قَالَ: مَخَافَتُكَ أَوْ فَرَقٌ مِنْكَ فَمَا تَلَافَاهُ أَنْ رَحِمَهُ اللَّهُ"، فَحَدَّثْتُ أَبَا عُثْمَانَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ: فَأَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ أَوْ كَمَا حَدَّثَ، وَقَالَ مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ عُقْبَةَ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن عبدالغافر نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مال و اولاد عطا فرمائی تھی۔ فرمایا کہ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے لڑکوں سے پوچھا، باپ کی حیثیت سے میں نے کیسا اپنے آپ کو ثابت کیا؟ لڑکوں نے کہا کہ بہترین باپ۔ پھر اس شخص نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں جمع کی ہے۔ قتادہ نے «لم يبتئر» کی تفسیر «لم يدخر» کہ نہیں جمع کی، سے کی ہے۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے اللہ کے حضور میں پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا (اس نے اپنے لڑکوں سے کہا کہ) دیکھو، جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا اور جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے پیس دینا اور کسی تیز ہوا کے دن مجھے اس میں اڑا دینا۔ اس نے اپنے لڑکوں سے اس پر وعدہ لیا چنانچہ لڑکوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہو جا۔ چنانچہ وہ ایک مرد کی شکل میں کھڑا نظر آیا۔ پھر فرمایا، میرے بندے! یہ جو تو نے کرایا ہے اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ یہ دیا کہ اس پر رحم فرمایا۔ میں نے یہ حدیث عثمان سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلمان سے سنا۔ البتہ انہوں نے یہ لفظ بیان کیے کہ ”مجھے دریا میں بہا دینا“ یا جیسا کہ انہوں نے بیان کیا اور معاذ نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ سے سنا، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6481]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سابقہ امتوں میں سے ایک کا ذکر کیا: ”اللہ تعالیٰ نے اسے مال و اولاد عطا فرمائی تھی۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: میں تمہارا کیسا باپ ہوں؟ انہوں نے کہا: آپ ہمارے اچھے باپ ہیں۔ اس نے کہا: تمہارے اس باپ نے اللہ کے ہاں کوئی نیکی جمع نہیں کی ہے، اگر اسے اللہ کے حضور پیش کیا گیا تو وہ اسے ضرور عذاب دے گا۔ اب میرا خیال رکھو، جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا یہاں تک کہ میں کوئلہ بن جاؤں، تو مجھے پیس کر کسی (تیز ہوا آندھی) والے دن مجھے اس میں اڑا دینا۔ اس نے اپنے لڑکوں سے اس کا پختہ وعدہ لیا۔ قسم ہے میرے رب کی! اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ہو جا“ تو وہ آدمی کی شکل میں کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندے! تجھے اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تیرے خوف اور تیرے ڈر نے (آمادہ کیا)۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدل یوں دیا کہ اس پر رحم فرمایا (اور اسے معاف کر دیا)۔“ (راویِ حدیث معتمر کے والد سلیمان تیمی کہتے ہیں:) ”میں نے یہ حدیث ابو عثمان سے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے ان الفاظ کا اضافہ کیا: مجھے دریا میں بہا دینا۔ یا اس جیسی کوئی بات کہی۔“ معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ سے قتادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے عقبہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6481]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة