🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب الخوف من الله:
باب: اللہ سے ڈرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6481
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَكَرَ رَجُلًا فِيمَنْ كَانَ سَلَفَ أَوْ قَبْلَكُمْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا يَعْنِي أَعْطَاهُ، قَالَ: فَلَمَّا حُضِرَ، قَالَ لِبَنِيهِ: أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ، قَالُوا: خَيْرَ أَبٍ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، فَسَّرَهَا قَتَادَةُ: لَمْ يَدَّخِرْ وَإِنْ يَقْدَمْ عَلَى اللَّهِ يُعَذِّبْهُ، فَانْظُرُوا فَإِذَا مُتُّ، فَأَحْرِقُونِي حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا، فَاسْحَقُونِي أَوْ قَالَ: فَاسْهَكُونِي، ثُمَّ إِذَا كَانَ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَذْرُونِي فِيهَا، فَأَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَرَبِّي، فَفَعَلُوا، فَقَالَ اللَّهُ: كُنْ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: أَيْ عَبْدِي، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ، قَالَ: مَخَافَتُكَ أَوْ فَرَقٌ مِنْكَ فَمَا تَلَافَاهُ أَنْ رَحِمَهُ اللَّهُ"، فَحَدَّثْتُ أَبَا عُثْمَانَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ: فَأَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ أَوْ كَمَا حَدَّثَ، وَقَالَ مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ عُقْبَةَ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن عبدالغافر نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مال و اولاد عطا فرمائی تھی۔ فرمایا کہ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے لڑکوں سے پوچھا، باپ کی حیثیت سے میں نے کیسا اپنے آپ کو ثابت کیا؟ لڑکوں نے کہا کہ بہترین باپ۔ پھر اس شخص نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں جمع کی ہے۔ قتادہ نے «لم يبتئر» کی تفسیر «لم يدخر» کہ نہیں جمع کی، سے کی ہے۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے اللہ کے حضور میں پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا (اس نے اپنے لڑکوں سے کہا کہ) دیکھو، جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا اور جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے پیس دینا اور کسی تیز ہوا کے دن مجھے اس میں اڑا دینا۔ اس نے اپنے لڑکوں سے اس پر وعدہ لیا چنانچہ لڑکوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہو جا۔ چنانچہ وہ ایک مرد کی شکل میں کھڑا نظر آیا۔ پھر فرمایا، میرے بندے! یہ جو تو نے کرایا ہے اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ یہ دیا کہ اس پر رحم فرمایا۔ میں نے یہ حدیث عثمان سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلمان سے سنا۔ البتہ انہوں نے یہ لفظ بیان کیے کہ مجھے دریا میں بہا دینا یا جیسا کہ انہوں نے بیان کیا اور معاذ نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ سے سنا، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6481]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سابقہ امتوں میں سے ایک کا ذکر کیا: اللہ تعالیٰ نے اسے مال و اولاد عطا فرمائی تھی۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: میں تمہارا کیسا باپ ہوں؟ انہوں نے کہا: آپ ہمارے اچھے باپ ہیں۔ اس نے کہا: تمہارے اس باپ نے اللہ کے ہاں کوئی نیکی جمع نہیں کی ہے، اگر اسے اللہ کے حضور پیش کیا گیا تو وہ اسے ضرور عذاب دے گا۔ اب میرا خیال رکھو، جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا یہاں تک کہ میں کوئلہ بن جاؤں، تو مجھے پیس کر کسی (تیز ہوا آندھی) والے دن مجھے اس میں اڑا دینا۔ اس نے اپنے لڑکوں سے اس کا پختہ وعدہ لیا۔ قسم ہے میرے رب کی! اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہو جا تو وہ آدمی کی شکل میں کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندے! تجھے اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تیرے خوف اور تیرے ڈر نے (آمادہ کیا)۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدل یوں دیا کہ اس پر رحم فرمایا (اور اسے معاف کر دیا)۔ (راویِ حدیث معتمر کے والد سلیمان تیمی کہتے ہیں:) میں نے یہ حدیث ابو عثمان سے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے ان الفاظ کا اضافہ کیا: مجھے دریا میں بہا دینا۔ یا اس جیسی کوئی بات کہی۔ معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ سے قتادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے عقبہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6481]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عقبة بن عبد الغافر العوذي، أبو نهار، أبو عمار
Newعقبة بن عبد الغافر العوذي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← عقبة بن عبد الغافر العوذي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن
👤←👥سلمان الفارسي، أبو عبد الله
Newسلمان الفارسي ← معاذ بن معاذ العنبري
صحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← سلمان الفارسي
ثقة ثبت
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← أبو عثمان النهدي
صحابي
👤←👥عقبة بن عبد الغافر العوذي، أبو نهار، أبو عمار
Newعقبة بن عبد الغافر العوذي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← عقبة بن عبد الغافر العوذي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6481
إذا مت فأحرقوني حتى إذا صرت فحما فاسحقوني
صحيح البخاري
7508
إذا أنا مت فأحرقوني حتى إذا صرت فحما فاسحقوني أو قال فاستحلوني فإذا كان يوم ريح عاصف فاذروني فيها فقال نبي الله فأخذ مواثيقهم على ذلك وربي ففعلوا ثم أذروه في يوم عاصف فقال الله كن فإذا هو رجل قائم قال الله أي عبدي ما حملك على أن فعلت ما فعلت قال مخافتك أو
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6481 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6481
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ وہ شخص کفن چور تھا۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3452)
اس نے یہ فعل اس لیے کیا کہ اگر اسے اصل حالت میں دفن کر دیا گیا تو قیامت کے دن اٹھتے وقت لوگ اسے پہچان لیں گے، لہذا جب وہ جل کر راکھ ہو گیا، پھر اسے پانی میں بہا دیا گیا یا ہوا میں اڑا دیا گیا تو لوگ اسے پہچان نہیں سکیں گے لیکن وہ بے چارہ اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی صفات سے بھی ناواقف تھا اور اس کے اعمال بھی اچھے نہ تھے لیکن مرنے سے پہلے اس پر خوف الٰہی اس قدر طاری ہوا کہ اس نے اپنے بیٹوں کو ایک جاہلانہ وصیت کر دی۔
وہ یہ سمجھا کہ میری راکھ کے اس طرح خشکی اور تری میں منتشر ہونے کے بعد میرے دوبارہ زندہ ہونے کا کوئی امکان نہیں رہے گا۔
لیکن جاہلانہ غلطی کا منشا اور سبب چونکہ خوف الٰہی اور اس کے عذاب کا ڈر تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے خوف الٰہی کی قدروقیمت کو ثابت کیا ہے کہ خوف الٰہی کی وجہ سے اس جاہل کو بھی معاف کر دیا گیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6481]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7508
7508. سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے پچھلی امتوں میں سے ایک شخص کا ذکر کیا ہے جسے اللہ تعالٰی نے مال والاد سب کچھ دے رکھا تھا۔ جب اس کے مرنے کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا: میں تمہارے لیے کیسا باپ ہوں؟ انہوں نے کہا: تو اچھا باپ ہے۔ اس نے کہا: لیکن تمہارے باپ نے اللہ کے حضور کوئی نیکی نہیں بھیجی۔ اگر اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہوا تو اسے سخت عذاب دے گا۔ اب تم خیال کرو جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا حتیٰ کہ جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے خوب پیس کر سخت آندھی کے دن ہوا میں اڑا دینا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب کی قسم! اس کام کے لیے اس نے اپنے بیٹوں سے پختہ وعدہ لیا، چنانچہ اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ اسے جلا کر راکھ کر ڈالا، پھر اس راکھ کو تیز ہوا کے دن اڑا دیا۔ (اس کارروائی کے بعد) اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:7508]
حدیث حاشیہ:
اللہ نے اس گہنگار بندے کو فرمایا کہ اے بندے! تونے یہ حرکت کیوں کرائی۔
اسی سے باب کا مطلب نکلتا ہےکہ اللہ کا کلام کرنا برحق ہے جو لوگ کلام الہی سے انکار کرتےہیں وہ صریح آیات واحادیث نبویہ کے منکر ہیں۔
ھداھم اللہ۔
راویوں نے لفظ یبتئر یا لم یبتئز راء اور زاء سے نقل کیا ہے۔
بعض نے راء کے ساتھ بعض نے زاء کے ساتھ روایت کیا۔
مطلب ہر دو فضلائے انصار سے ہیں۔
حفاظ حدیث میں شمار کئے جاتے ہیں۔
بعمر84 سال سنہ 74ھ میں فوت ہوئے۔
بقیع غرقد میں دفن کئےگئے۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7508]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7508
7508. سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے پچھلی امتوں میں سے ایک شخص کا ذکر کیا ہے جسے اللہ تعالٰی نے مال والاد سب کچھ دے رکھا تھا۔ جب اس کے مرنے کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا: میں تمہارے لیے کیسا باپ ہوں؟ انہوں نے کہا: تو اچھا باپ ہے۔ اس نے کہا: لیکن تمہارے باپ نے اللہ کے حضور کوئی نیکی نہیں بھیجی۔ اگر اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہوا تو اسے سخت عذاب دے گا۔ اب تم خیال کرو جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا حتیٰ کہ جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے خوب پیس کر سخت آندھی کے دن ہوا میں اڑا دینا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب کی قسم! اس کام کے لیے اس نے اپنے بیٹوں سے پختہ وعدہ لیا، چنانچہ اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ اسے جلا کر راکھ کر ڈالا، پھر اس راکھ کو تیز ہوا کے دن اڑا دیا۔ (اس کارروائی کے بعد) اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:7508]
حدیث حاشیہ:

اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ ایمان رکھنا ضروری ہے کہ وہ چیز پر پوری طرح قادر ہے لیکن حدیث مذکورہ کے مطابق مرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے متعلق شک تھا کہ میں اس اقدام سے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ جاؤں گا۔
چونکہ یہ اقدام اس نے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے کیا تھا،اس لیے رحمت الٰہی نے اسے پالیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا۔

اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس گناہ گار بندے سے فرمایا:
اے میرے بندے! تو نے یہ اقدام کیوں کیا؟ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا برحق ہے اور جو لوگ کلام الٰہی سے انکار کرتے ہیں وہ صریح آیات اور واضح احادیث کے منکر ہیں۔
(هَدَاهُمُ اللَّهُ)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7508]

Sahih Bukhari Hadith 6481 in Urdu