مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1253. حَدِيثُ ابْنِ صُرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27205
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ , سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَتَقَاوَلَانِ، وَأَحَدُهُمَا قَدْ غَضِبَ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا، ذَهَبَ عَنْهُ الشَّيْطَانُ"، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ"، قَالَ: هَلْ تَرَى بَأْسًا؟! قَالَ: مَا زَادَهُ عَلَى ذَلِكَ .
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی اور ان میں سے ایک آدمی کو اتنا غصہ آیا کہ اب تک خیالی تصورات میں، میں اس کی ناک کو دیکھ رہا ہوں جو غصے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ کیفیت دیکھ کر فرمایا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتاہوں جو اگر یہ غصے میں مبتلا آدمی کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے اور وہ کلمہ یہ ہے «اعوذ بالله من الشيطن الرجيم.» “۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27205]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3282، م: 2610
حدیث نمبر: 27206
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: " الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَا" .
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن (واپسی پر) ارشاد فرمایا: ”اب ہم ان پر پیش قدمی کر کے جہاد کریں گے اور یہ ہمارے خلاف اب کبھی پیش قدمی نہیں کر سکیں گے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27206]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27207
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو لَيْلَى ، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: قَالَ رِفَاعَةُ الْبَجَلِيُّ : دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَصْرَهُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا قَامَ جِبْرِيلُ إِلَّا مِنْ عِنْدِي قَبْلُ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ: " إِذَا أَمَّنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ، فَلَا تَقْتُلْهُ" ، قَالَ: وَكَانَ قَدْ أَمَّنَنِي عَلَى دَمِهِ، فَكَرِهْتُ دَمَهُ.
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مختار کے پاس گیا، اس نے میرے لئے تکیہ رکھا اور کہنے لگا کہ اگر میرے بھائی جبرائیل علیہ السلام اس سے نہ اٹھے ہوتے تو میں یہ تکیہ تمہارے لئے رکھتا میں اس وقت مختار کے سرہانے کھڑا تھا، جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہو گیا تو واللہ میں نے اس بات کا ارادہ کر لیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی جو مجھ سے حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے تو اسے قتل نہ کرے، اس لئے میں نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27207]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن ميسرة ، ولجهالة أبى عكاشة