🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1276. وَمِنْ حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27340
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ , فَخَاصَمَتْهُ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: فَلَمْ يَجْعَلْ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , وَقَالَ:" يَا بِنْتَ آلِ قَيْسٍ , إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ كَانَتْ لَهُ رَجْعَةٌ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا اور فرمایا کہ اے بنت آل قیس! رہائش اور نفقہ اسے ملتا ہے جس سے رجوع کیا جا سکتا ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27340]

حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله : يا بنت آل قيس .. كانت له رجعة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع، وهشيم مدلس، وقد عنعن، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27341
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو ابْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ , فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا , " فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى" , فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا , وَقَالَ عُرْوَةُ: أَنْكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، مروان اس حدیث سے انکار کرتا تھا اور مطلقہ عورت کو اس کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا اور بقول عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس کا انکار کرتی تھیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27341]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1480
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27342
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ , وَحُصَيْنٌ , وَمُغِيرَةُ , وَأَشْعَثُ , وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ , وَدَاوُدُ , وَحَدَّثَنَاهُ مُجَالِدٌ , وَإِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ سَالِم , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ , قَالَتْ: فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ , قَالَتْ: " فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27342]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1480
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27343
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ مُجَالِدٍ , عن عَامِرٍ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهَا فِي عِدَّتِهَا: " لَا تَنْكِحِي حَتَّى تُعْلِمِينِي" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دوران عدت فرمایا کہ مجھے بتائے بغیر شادی نہ کرنا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27343]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27344
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا , فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , وَقَالَ: " إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا رَجْعَةٌ" , وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کوئی سکنی اور نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو۔ اور فرمایا: رہائش اور نفقہ اسے ملتا ہے جس سے رجوع کیا جاسکتا ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27344]

حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: إنما السكني .. عليها رجعة هذا مدرج من قول مجالد، وهو ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27345
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا , فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27345]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة زكريا بن أبى زائدة، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27346
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي السَّبِيعِيَّ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا , فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ , فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَاعْتَدِّي عِنْدَهُ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27346]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1480
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27347
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ , فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا , " فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى" , فَأَبَى مَرْوَانُ إِلَّا أَنْ يَتَّهِمَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا , وَزَعَمَ عُرْوَةُ , قَالَ: قَالَ: فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ عَلَى فَاطِمَةَ .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، مروان اس حدیث سے انکار کرتا تھا اور مطلقہ عورت کو اس کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا اور بقول عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس کا انکار کرتی تھیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27347]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1480
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27348
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ , عَنْ عَامِرٍ , قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ , فَأَتَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ , فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَبَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ , فَقَالَ لِي أَخُوهُ: اخْرُجِي مِنَ الدَّارِ , فَقُلْتُ: إِنَّ لِي نَفَقَةً وَسُكْنَى حَتَّى يَحِلَّ الْأَجَلُ , قَالَ: لَا , قَالَتْ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: إِنَّ فُلَانًا طَلَّقَنِي , وَإِنَّ أَخَاهُ أَخْرَجَنِي , وَمَنَعَنِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ , فَقَالَ:" مَا لَكَ وَلِابْنَةِ آلِ قَيْسٍ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَخِي طَلَّقَهَا ثَلَاثًا جَمِيعًا , قَالَتْ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرِي أَيْ بِنْتَ آلِ قَيْسٍ , إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا مَا كَانَتْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ , فَلَا نَفَقَةَ وَلَا سُكْنَى , اخْرُجِي فَانْزِلِي عَلَى فُلَانَةَ" , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ يُتَحَدَّثُ إِلَيْهَا , انْزِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ أَعْمَى , لَا يَرَاكِ" , ثُمَّ قَالَ:" لَا تَنْكِحِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُنْكِحُكِ" , قَالَتْ: فَخَطَبَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ , فَقَالَ:" أَلَا تَنْكِحِينَ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ؟" , فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَنْكِحْنِي مَنْ أَحْبَبْتَ , قَالَتْ: فَأَنْكَحَنِي مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ .
امام عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا اور حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک دستہ کے ساتھ روانہ فرما دیا، تو مجھ سے اس کے بھائی نے کہا کہ تم اس گھر سے نکل جاؤ، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا عدت ختم ہونے تک مجھے نفقہ اور رہائش ملے گی؟ اس نے کہا: نہیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئی اور عرض کیا کہ فلاں شخص نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اس کا بھائی مجھے گھر سے نکال رہا ہے اور نفقہ اور سکنی بھی نہیں دے رہا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیج کر اسے بلایا اور فرمایا: بنت آل قیس کے ساتھ تمہارا کیا جھگڑا ہے؟ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے بھائی نے اسے اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنت آل قیس! دیکھو، شوہر کے ذمے اس بیوی کا نفقہ اور سکنی واجب ہوتا ہے جس سے ہو رجوع کر سکتا ہو اور جب اس کے پاس رجوع کی گنجائش نہ ہو تو عورت کو نفقہ اور سکنی نہیں ملتا، اس لئے تم اس گھر سے فلاں عورت کے گھر منتقل ہو جاؤ، پھر فرمایا: اس کے یہاں لوگ جمع ہو کر باتیں کرتے ہیں اس لئے تم ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ، کیونکہ وہ نابینا ہیں اور تمہیں دیکھ نہیں سکیں گے اور تم آئندہ نکاح خود سے نہ کرنا بلکہ میں خود تمہارا نکاح کروں گا، اسی دوران مجھے قریش کے ایک آدمی نے پیغام بھیجا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشورہ کرنے حاضر ہوئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس شخص سے نکاح نہیں کر لیتیں جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ جس سے چاہیں میرا نکاح کرا دیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت اسامہ بن زید کے نکاح میں دے دیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27348]

حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: إنما النفقة والسكني .. عليه رجعة هذا مدرج من قول مجالد، وهو ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27349
قَالَ: فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ , قَالَتْ: اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: قَالَ: فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ , قَالَتْ: اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ فَصَلَّى صَلَاةَ الْهَاجِرَةِ , ثُمَّ قَعَدَ , فَفَزِعَ النَّاسُ , فَقَالَ: " اجْلِسُوا أَيُّهَا النَّاسُ , فَإِنِّي لَمْ أَقُمْ مَقَامِي هَذَا لِفَزَعٍ , وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَتَانِي , فَأَخْبَرَنِي خَبَرًا مَنَعَنِي مِنَ الْقَيْلُولَةِ , مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّةِ الْعَيْنِ , فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَنْشُرَ عَلَيْكُمْ فَرَحَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَخْبَرَنِي أَنَّ رَهْطًا مِنْ بَنِي عَمِّهِ رَكِبُوا الْبَحْرَ , فَأَصَابَتْهُمْ رِيحٌ عَاصِفٌ , فَأَلْجَأَتْهُمْ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ لَا يَعْرِفُونَهَا , فَقَعَدُوا فِي قُوَيْرِبِ سَفِينَةٍ , حَتَّى خَرَجُوا إِلَى الْجَزِيرَةِ , فَإِذَا هُمْ بِشَيْءٍ أَهْلَبَ كَثِيرِ الشَّعْرِ , لَا يَدْرُونَ أَرَجُلٌ هُوَ أَوْ امْرَأَةٌ , فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ , فَرَدَّ عَلَيْهِمْ السَّلَامَ , فَقَالُوا: أَلَا تُخْبِرُنَا؟ فَقَالَ: مَا أَنَا بِمُخْبِرِكُمْ , وَلَا مُسْتَخْبِرِكُمْ , وَلَكِنَّ هَذَا الدَّيْرَ قَدْ رَهِقْتُمُوهُ , فَفِيهِ مَنْ هُوَ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَيَسْتَخْبِرَكُمْ , قَالُوا: قُلْنَا: مَا أَنْتَ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ , فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا الدَّيْرَ , فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مُوثَقٍ شَدِيدِ الْوَثَاقِ , مُظْهِرٍ الْحُزْنَ , كَثِيرِ التَّشَكِّي , فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنَ الْعَرَبِ , قَالَ: مَا فَعَلَتْ الْعَرَبُ , أَخَرَجَ نَبِيُّهُمْ بَعْدُ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: خَيْرًا , آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ , قَالَ: ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ , وَكَانَ لَهُ عَدُوٌّ , فَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ , قَالَ: فالْعَرَبُ الْيَوْمَ إِلَهُهُمْ وَاحِدٌ , وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ , وَكَلِمَتُهُمْ وَاحِدَةٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالَ: قَالُوا: صَالِحَةٌ يَشْرَبُ مِنْهَا أَهْلُهَا لِشَفَتِهِمْ، وَيَسْقُونَ مِنْهَا زَرْعَهُمْ , قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عَمَّانَ وَبَيْسَانَ؟ قَالُوا: صَالِحٌ يُطْعِمُ جَنَاهُ كُلَّ عَامٍ , قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قَالُوا: مَلْأَى , قَالَ: فَزَفَرَ , ثُمَّ زَفَرَ , ثُمَّ زَفَرَ , ثُمَّ حَلَفَ: لَوْ خَرَجْتُ مِنْ مَكَانِي هَذَا , مَا تَرَكْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ اللَّهِ إِلَّا وَطِئْتُهَا , غَيْرَ طَيْبَةَ , لَيْسَ لِي عَلَيْهَا سُلْطَانٌ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَى هَذَا انْتَهَى فَرَحِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّ طَيْبَةَ الْمَدِينَةُ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الدَّجَّالِ أَنْ يَدْخُلَهَا" , ثُمَّ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ , مَا لَهَا طَرِيقٌ ضَيِّقٌ , وَلَا وَاسِعٌ , فِي سَهْلٍ وَلَا جَبَلٍ , إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ بِالسَّيْفِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , مَا يَسْتَطِيعُ الدَّجَّالُ أَنْ يَدْخُلَهَا عَلَى أَهْلِهَا" , قَالَ عَامِرٌ: فَلَقِيتُ الْمُحْرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ , فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ حَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ فِي نَحْوِ الْمَشْرِقِ" , قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ , فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ فَاطِمَةَ , فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْنِي كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ , غَيْرَ أَنَّهَا قَالَتْ:" الْحَرَمَانِ عَلَيْهِ حَرَامٌ: مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ" .
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں وہاں سے جانے لگا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سناتی ہوں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے ظہر کی نماز پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو فرمایا: بیٹھے رہو، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ حیران ہوئے تو فرمایا: لوگو! اپنی نماز کی جگہ پر ہی رہو، میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا۔ میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری میرے پاس آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہو گئے اور مجھے ایک بات بتائی جس نے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک سے مجھے قیلولہ کرنے سے روک دیا، اس لئے میں نے چاہا کہ تمہارے پیغمبر کی خوشی تم تک پھیلا دوں، چنانچہ انہوں نے مجھے خبر دی کہ وہ اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہوئے، اچانک سمندر میں طوفان آ گیا، وہ سمندر میں ایک نامعلوم جزیرہ کی طرف پہنچے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ کے اندر داخل ہوئے تو انہیں وہاں ایک جانور ملا جو موٹے اور گھنے بالوں والا تھا، انہیں سمجھ نہ آئی کہ وہ مرد ہے یا عورت، انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا، انہوں نے کہا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: اے قوم! اس آدمی کی طرف گرجے میں چلو کیونکہ وہ تمہاری خبر کے بارے میں بہت شوق رکھتا ہے، ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے بتایا کہ میں جساسہ ہوں، چنانچہ وہ چلے یہاں تک کہ گرجے میں داخل ہو گئے، وہاں ایک انسان تھا جسے انتہائی سختی کے ساتھ باندھا گیا تھا، وہ انتہائی غمگین اور بہت زیادہ شکایت کرنے والا تھا، انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا اور پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عرب کے لوگ ہیں، اس نے پوچھا کہ اہل عرب کا کیا بنا؟ کیا ان کے نبی کا ظہور ہو گیا؟ انہوں نے کہا: ہاں! اس نے پوچھا: پھر اہل عرب نے کیا کیا؟ انہوں نے بتایا کہ اچھا کیا، ان پر ایمان لے آئے اور ان کی تصدیق کی، اس نے کہا کہ انہوں نے اچھا کیا وہ ان کے دشمن تھے لیکن اللہ نے انہیں ان پر غالب کر دیا، اس نے پوچھا کہ اب عرب کا ایک خدا، ایک دین اور ایک کلمہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! اس نے پوچھا: زغر چشمے کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا کہ صحیح ہے، لوگ اس کا پانی خود بھی پیتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو بھی اس سے سیراب کرتے ہیں، اس نے پوچھا: عمان اور بیسان کے درمیان باغ کیا کیا بنا؟ انہوں نے کہا کہ صحیح ہے اور ہر سال پھل دیتا ہے، اس نے پوچھا: بحیرہ طریہ کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا کہ بھرا ہوا ہے، اس پر وہ تین مرتبہ بےچینی اور قسم کھا کر کہنے لگا: اگر میں اس جگہ سے نکل گیا، تو اللہ کی زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں چھوڑوں گا جسے اپنے پاؤں تلے روند نہ دوں، سوائے طیبہ کے کہ اس پر مجھے کوئی قدرت نہیں ہو گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں پہنچ کر میری خوشی بڑھ گئی (تین مرتبہ فرمایا) مدینہ ہی طیبہ ہے اور اللہ نے میرے حرم میں داخل ہونا دجال پر حرام قرار دے رکھا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، مدینہ کا کوئی تنگ یا کشادہ وادی اور پہاڑ ایسا نہیں ہے جس پر قیامت تک کے لئے تلوار سونتا ہوا فرشتہ مقرر نہ ہو، دجال اس شہر میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ عامر کہتے ہیں کہ پھر میں محرر بن ابی ہریرہ رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد صاحب نے مجھے یہ حدیث اسی طرح سنائی تھی جس طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کوئی سنائی ہے البتہ والد صاحب نے بتایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: وہ مشرق کی جانب ہے۔ پھر میں قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے یہ حدیث فاطمہ ذکر کی، انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بھی یہ حدیث اسی طرح سنائی تھی جیسے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو سنائی ہے، البتہ انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ دونوں حرم یعنی مکہ اور مدینہ دجال پر حرام ہوں گے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27349]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناده ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں