🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1330. حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27624
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حدثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، قَالَ: " لَا خَيْرَ فِيهِ نَعْلَانِ أُجَاهِدُ بِهِمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا" .
حضرت میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا (جو نبی کی آزاد کردہ باندی تھیں) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ناجائز بچے کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں ہوتی، میرے نزدیک وہ دو جوتیاں جنہیں پہن کر میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں، کسی ولد الزنا کو آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27624]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الضبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27625
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ، قَالَ:" قَدْ أَفْطَرَ" .
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو بوسہ دے دے اور وہ دونوں روزے سے ہوں تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا روزہ ٹوٹ گیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27625]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الضبي، وقد ثبت أنه ﷺ كان يقبل وهو صائم، انظر: 25613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27626
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حدثَنَا عِيسَى ، قَالَ: ثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَخِيهِ ، أَنَّ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَقَالَ: " أَرْضُ الْمَنْشَرِ وَالْمَحْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ"، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُطِقْ أَنْ يَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ، أَوْ يَأْتِيَهُ؟ قَالَ:" فَلْيُهْدِ إِلَيْهِ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَإِنَّ مَنْ أَهْدَى لَهُ، كَانَ كَمَنْ صَلَّى فِيهِ" .
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمیں بیت المقدس کے متعلق کچھ بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اٹھائے جانے اور جمع کیے جانے کا علاقہ ہے، تم وہاں جا کر اس میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ بیت المقدس میں ایک نماز پڑھنا دوسری جگہوں پر ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے، انہوں نے عرض کیا کہ بتایئے کہ اگر کسی آدمی میں وہاں جانے کی طاقت نہ ہو، وہ کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چاہیے کہ زیتون کا تیل بھیج دے جو وہاں چراغوں میں جلایا جائے، کیونکہ اس کی طرف ہدیہ بھیجنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس نے اس میں نماز پڑھی ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27626]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهذا من منكرات زياد بن أبى سودة، وقد اختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27627
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27627]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں