🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

(حج اور عمرہ ساتھ کرنے کی سنت کی رہنمائی)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ حَفِظْنَاهُ مِنْهُ غَيْرَ مَرَّةٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ كَثِيرًا مَا يَقُولُ: ذَهَبْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ إِلَى الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ نَسْتَذْكِرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ الصُّبَيُّ: كُنْتُ رَجُلا نَصْرَانِيًّا، فَأَسْلَمْتُ، فَخَرَجْتُ أُرِيدُ الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنْتُ بِالْقَادِسِيَّةِ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، فَسَمِعَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَزَيْدُ بْنُ صَوْحَانَ، فَقَالا: لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ، فَكَأَنَّمَا حُمِلَ عَلَيَّ بِكَلِمَتَيْهِمَا جَبَلٌ، فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَلامَهُمَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:" هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ , هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ" ، فَقَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي أَنَّهُ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَجَازَهُ وَلَيْسَ أَنَّهُ فَعَلَهُ هُوَ.
ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں اور مسروق، صبی بن معبد کے پاس گئے تاکہ ان سے اس حدیث کے بارے میں گفتگو کریں، تو صبی بولے: میں ایک عیسائی شخص تھا میں نے اسلام قبول کیا میں حج کرنے کے ارادے سے روانہ ہونے لگا، جب میں قادسیہ پہنچا تو وہاں میں نے حج اور عمرے دونوں کو ساتھ کرنے کا احرام باندھا (یا تلبہ پڑھا)۔ سلمان بن ربعیہ اور زید بن صوحان نے مجھے سنا، تو وہ بولے: یہ شخص اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہے۔ ان کے ان کلمات کی وجہ سے گویا میرے اوپر پہاڑ کا وزن آ گیا، میری ملاقات جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان دونوں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان دونوں کو ملامت کی پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف تمہاری رہنمائی کی گئی ہے۔ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف تمہاری رہنمائی کی گئی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج اور عمرہ اکھٹے ادا کیے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے درست قرار دیا تھا۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایسا کیا تھا۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 3069، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3910، 3911، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2718، 2719، 2720، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3685، 3686، 3687، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1798، 1799، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2970، 2970 م، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8864، 8873، 8942، وأحمد فى «مسنده» برقم: 84، 171، 232، 260، والطبراني فى «الصغير» برقم: 531»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں